بگرام پہنچنے تک کوئی نیند نہیں Array چھاپیے Array
منجانب Staff Sgt. Eric Burks, U.S. Air Forces Central Command Public Affairs
 121126_drop
یو-ایس ائیر فورس ائیرمین فرسٹ کلاس لیوک ٹو چیآرون، دائیں، اور سٹاف سارجنٹ جیکب بارنز، بائیں، 774 ویں ایکسپڈیشنری ایئر لفٹ سکوارڈن کے لوڈ ماسٹر، 31 اکتوبر، 2012 کو افغانستان میں یو-ایس ائیر فورس سی -130 ایچ ہرکولیس سے سامان کی بڑے بنڈل گراتے ہوۓ۔ ( یو ایس ائیر فورس فوٹو/سٹاف سارجنٹ جاناتھن سنائڈر)

بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان (25 نومبر، 2012) - لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے اپنا دفتر چھوڑا اور ایک گاڑی میں داخل ہو گۓ۔ بارہ گھنٹے وہ 800 میل سے زیادہ کا سفر طے کر چکے ہیں- تقریباً اتنا ہی فاصلہ جتنا سیاٹل سے سان فرانسسکو کے درمیان ہے – درمیان میں کئی بار ویران بیابان میں رُکے ، کچھ مسافروں کو بھی گاڑی میں بٹھایا، جو بہت کم انگریزی جکنتے تھے، انجن کی مشکل پر قابو پایا اور ہتھیاروں کی گولیوں سے بچ نکلے۔

یہ شائد ایک لمبا سفر یا ایک آنے والی فلم کا حصہ معلوم ہویا ہو لیکن یہ 774 ویں مہم ائیر لفٹ اسکواڈرن کے سی-130 کے عملے کی زندگی میں ایک عام دن ہے۔

ائیر مین فرسٹ کلاس لیوک ٹوچیآرون، 74 ویں ای- اے- ایس لوڈ ماسٹر نے کہا کہ "ہر پرواز منفرد ہوتی ہے، اور کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ چاہے آپ ہر روز بالکل ایک ہی طرح کا مشن بھی کرتے ہوں، صبح سے شام تک، ہر پرواز مختلف ہوتی ہے۔"

اسکواڈرن کے ساتھ متعین ایک ائیرمین کے لیۓ شائد مخصوص پرواز کے نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، لیکن اس طرح کے واقعات اور اقدامات غیرمعمولی نہیں ہیں۔

قبل از پرواز بریفنگ کے بعد، فضائی عملہ سکواڈرن کو چھوڑتا ہے اور کھڑے سی – 130 ہرکیولیس طیارے کی طرف جاتا ہے۔ یہ ٹیم، زمین پر موجود امدادی اہلکاروں کے ہمراہ، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہوائی جہاز کا مناسب طریقے سے معائنہ کیا گيا ہو، ایندھن سے بھرا ہوا ہو اور پرواز کے لئے تیار ہو۔ اس کے بعد کارگو اور مسافروں کو چڑھایا جاتا ہے- کھانے پانے کا سامان، بکتر بند گاڑیوں سے لے کر ایندھن تک، امریکی فوج کے فوجیوں، شُعبہ دفاع کے شہری کارکن اور کسی بھی تیسرے ملک کے شھریوں کو بھی۔

ایک دفعہ جب سب کچھ تیار ہو جاتا ہے، سی-130 ہوا میں پرواز کرتا ہے، ایک یا ایک سے زیادہ فارورڈ آپریٹنگ بیس (ایف-او-بی) جو کہ اکثر اوقات افغانستان کے دور دراز علاقوں میں ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ جب کارگو پہنچا دیا جاتا ہے، یا تو اگلی ایف-او-بی کی طرف جاتا ہے یا اگلے مشن کے لیۓ واپس بگرام آ جاتا ہے۔ راستے کے دوران ممکنہ مشکلات پر قابو پانا ہوتا ہے، جس میں دونوں ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کے مسائل اور چھوٹے ہتھیاروں سے گولیوں کے حملے شامل ہیں۔

میجر جیک ہلز، 774 ویں ای-اے-ایس پائلٹ، نے کہا کہ تقریباً 80 فیصد "فضائی/زمینی" مشن سکواڈرن کے حملوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور افغانستان میں، اس سے زیادہ بڑا کوئی اور جہاز نہیں جسے پیار سے "عظیم ہرکیولیس" کہا جاتا ہو۔

ہلز نے کہا کہ "ہم تمام ایف-او-بی تک جا سکتے ہیں، ان تک تیزی سے جا سکتے ہیں، چھوٹے طیارے کی نسبت زیادہ کارگو لے جا سکتا ہے، اور جہاں بڑے طیارے نہیں اتر سکتے ہیں یہ وہاں اتر سکتا ہے" ۔ "یہ سی -130 کا ملک ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ ہمہ گیر طیارے مشکل ماحول میں کام کرنے کے لئے بہت قابل ہیں، جیسا کہ چھوٹی رن وے اور مٹی کی رن وے ۔

ہلز نے کہا کہ "ہم اس ماحول میں اپنی تمام تربیت کو استعمال کر رہے ہیں" ۔ "یہاں پرواز کرنے کے لیئے ہم اپنے ملک میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔"

اس طیارے کی صلاحیتیں 774ویں کے ایئرمین کو دو دیگر اہم مشن مکمل کرنے کا موقع بھی دیتی ہیں: فضاء سے سامان گرانا اور طبی انخلا۔

میجر میٹ ایکلس،774ویں کے ای-اے -ایس پائلٹ، نے کہا کہ افغانستان میں فضاء سے سامان گرانے کے مشن اہم ہیں- خاص طور پر چھوٹے، دور دراز کے اڈوں پر موجود لوگوں کے لیۓ۔

انہوں نے کہا کہ "ان مشنوں میں سے ہر ایک مشن جو ہم کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک اور قافلہ ہے جس کو سڑک پر نہیں جانا پڑتا ایف-او-بی کو سامان کی دوبارہ ترسیل کی کوشش میں، اور خود کو آئی ای ڈی [خود ساختہ دھماکہ خیز آلات] کے خطرات اور دیگر تمام خطرناک چیزیں جو افغانستان پیش کرتا ہے کا سامنا کرنے کے لیۓ،" ۔ ایف-او-بی جو واقعی ہم پر انحصار کرتے ہیں، وہ لوگ ہیں جو واقعی وہاں ویران بیابان کے درمیان رہ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہر روز لڑائی میں ہیں اور وہ اس سامان کی دوبارہ ترسیل کے لئے ہم پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے مشن کو سر انجام دیں سکیں۔"

ایکلس نے کہا کہ "ہم ایک مددگار کے روپ میں ہیں اور ہمارا مشن ان کو برقرار رکھنے کا ہے۔۔۔ ہم ان جوانوں کے کام کر جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،" ۔ "ان تک 'دالیں، کزلیاں اور ایندھن' پہنچانا ایک بہت ہی اطمینان بخش کام ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ مشن چاہے جس بھی قسم کا ہو، اس کی کامیابی کے لیۓ ایک پوری ٹیم کی کوششیں درکار ہیں ۔

ایکلس نے کہا "جہاز میں لوڈ ماسٹر سے لے کر تمام مدد گار فوجیوں تک، مثلاً جہاز کی دیکھ بھال اور فضائی عملے کی پرواز کے آلات، یہ جوان دن رات ان تھک محنت کرتے ہیں ہمارے مشن کو زمین سے اڑانے کے لیۓ ۔ صاف بات ہے کہ ہم ان کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔"

انھوں نے کہا کہ "فوج میں بھرتی شدہ کی حیثیت سے لوڈ ماسٹر کا ایک خاص کردار ہے" ۔ "جو وہ پس پردہ کرتے ہیں اس کے لیۓ خاص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔"

"میں خوش قسمت ہوں کہ کہ میرے پاس بہت ہی قابل لوڈ ماسٹر ہیں، یہ اپنے کام میں بہت ماہر ہیں۔ یہ میرا سامنے کا کام اتنا ہی آسان بنا دیتے ہیں۔"

لیفٹیننٹ کرنل برائن واٹکن، 774ویں ای- اے- ایس کے کمانڈر نے کہا کہ سکواڈرن کے مشنوں کا افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر ایک اہم اثر پڑتا ہے ۔ ان کی تعیناتی کے نصف وقت کے دوران، انھوں نے کہا کہ، سکواڈرن کے مردوں اور عورتوں نے 800 سے زیادہ گھنٹوں میں 1300 پروازوں کیں- 6000 ٹن سے زائد کے کارگو کی نقل و حمل کی، اور تقریبا13،000 ًمسافروں کو لے جایا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سکواڈرن جنگی ائیر لفٹ کی حکمت عملی میں ماہر ہے" ۔ "یہ یونٹ ہمارے جنگی مشن کو مکمل کرنے کے کے ایئر فورس کے سات یونٹوں سے مل کر بنایا گیا ہے۔

واٹکن نے کہا کہ "میں اس کام، جو 774ویں ای- اے -ایس کے مرد اور عورتیں افغانستان میں سلامتی اور استحکام کے قیام میں شراکت کے لیۓ کرتے ہیں، پر روزانہ حیران ہوتا ہوں ۔ "نہ صرف فضائی عملہ، بلکہ ایوی ایشن ریسورس مینجمنٹ، انٹیلی جنس، اور دیکھ بھال کے اہلکار۔۔۔ ان کی اجتماعی کوششیں مشن کو چلاتی ہیں۔"

کرنل نے کہا کہ، "ہماری تربیت کی توثیق روزانہ ہوتی ہے اور ہم ان حقیقی اثرات کو دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں۔ چاہے وہ کسی فوجی کی شدید زخمو کے لیئے یا اس کی ندگی بچانے کے لیۓ طبی انخلا کی فراہمی ہو، یا افغانستان کے ایک مشکل علاقے میں ایک ایف-او-بی کو 20،000 پونڈ کا سامان پہنچانا ہو، یہ سکواڈرن یہ سب کام کرتا ہے۔"

جب کام مکمل ہوتا ہے اور دن کا اختتام ہوتا ہے - یا رات کے مشن مکمل ہوتے ہیں،تو ایئرمین واپس بگرام آتے ہیں۔ لیکن وہاں ایک اور فضائی عملہ ہے جو اپنے دن کا آغاز کر رہا ہوتا ہے، پروازوں کے ایک اور سیٹ کو مکمل کرنے کی تیاری کرتے ہوۓ۔ ایک سکواڈرن کے باہر لگا سائن بہت ہی مناسب طریقے سے کہتا ہے،" سی-130 لینڈ، 24 گھنٹے کھلا۔"