ملک سے باہر متعین ائیرمین کی اسکائپ کے ذریعے اوہائیو کے طلباء سے بات چیت Array چھاپیے Array
منجانب Master Sgt. Russell Martin, 451st Air Expeditionary Wing Public Affairs
121120_skype
یو-ایس ائیر فورس کے ائیرمین، بائیں جانب سے، لیفٹیننٹ کرنل جیفری تھائم، 613 ویں مہماتی نگرانی سکوارڈن؛ سینئیر سارجنٹ جیفری ٹیلر 361ویں ای-آر-ایس سپرینٹنڈنٹ؛ فرسٹ لیفٹیننٹ سکاٹ بال، 361ویں ای-آر-ایس؛ ماسٹر سارجنٹ جوڈی کوما 451ویں مہماتی آپریشن گروپ فرسٹ سارجنٹ؛ کیپٹن پیڈرو ایسکوئیل، 361 ویں ای-آر-ایس؛ (واپس بائیں جانب سے) کیپٹن اوٹو گرڈیمن، 316 ویں ای-آر-ایس؛ اور کیپٹن ڈیوڈ ہیڈالگو، 361ویں ای-آر-ایس 12 نومبر کو اسکائیپ کے ذریعے میسن، اوہائیو کے میسن ہائی اسکول کے طلباء سے بات کرتے ہوۓ۔ (یو-ایس ائیر فورس فوٹو/ماسٹر سارجنٹ رسل ماسٹر)

قندھار فضائیہ بیس، افغانستان (16 نومبر، 2012) متعین فوجیوں کے لیۓ واپس امریکہ میں تنظیموں اور کلاسوں سے اشیاء اور خطوط کے ڈبے وصول کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ جو چیز غیر معمولی ہے وہ یہ موقع ہے جب ان گروہوں کا شکریہ ادا کرنا کچھ بڑی چیز میں بدل جائے۔

سینئر ماسٹر سارجنٹ جیفری ٹیلر، 361 ویں مہماتی نگرانی سکواڈرن سپرینٹنڈنٹ، نے اکتوبر میں میسن ہائی سکول، میسن، اوہائیو سے امریکی تاریخ کی ایک کلاس کی طرف سے دیکھ بھال کا پیکج وصول کیا۔ پیکیج میسن ہائی اسکول کی معاشرتی علوم محکمہ کی کیٹی ہکس کی طرف سے فوج کی معاونت کے پروگرام کا حصہ تھا۔ پیکیج میں نمکین، چیزیں اور کے-اے-ایف پر خدمات سر انحام دینے والے ائیرمین کے لیۓ کچھ ذاتی نوعیت کے خطوط موجود تھے۔

ٹیلر نے کہا کہ "سپرنٹنڈنٹ کے طور پر، میں نے ڈبے کا جائزہ لیا یہ دیکھنے کے لئے کہ اپنے ایئرمین کے درمیان میں کیا کچھ تقسیم کر سکتا تھا " ۔ "اس میں بہت سی چیزیں تھیں جس سے میں جذباتی طور پر مغلوب ہو گيا ۔ لیکن واقعی میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ طالباء کے ذاتی خطوط تھے جس میں انھوں نے فوج کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ایک خط کیٹی، کلاس ٹیچر کی طرف سے تھا، تو میں نے کچھ تحقیق کی اور اس تک پہنچ گیا اسے یہ بتانے کے لیۓ کہ ہمیں پیکیج مل گیا تھا اور ہمارے بارے میں سوچنے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیۓ۔

وہاں سے، پھر ان دونوں نے مل کر میسن ہائی اسکول میں طالب علموں کو ان مٹھی بھر ایئرمین، جو اس وقت افغانستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں، سے متعارف کرانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا۔ وہ جو عمل ایک بے غرض عمل کے طور پر امریکہ کے ایئرمین کا شکریہ ادا کرنے کے لیۓ شروع ہوا تھا، ایئرمین کے لیۓ طالب علموں کو تعیناتی کا ماحول دیکھانے کا ایک موقع بن گیا۔

چونکہ ویٹرن ڈے اتوار کے دن آیا، ٹیلر اور ہکس نے 12 ستمبر کے دن طالب علموں کے ساتھ پانچ اسکائپ سیشنوں کا اہتمام کیا، جب اسکول دوبارہ کھلے گا، ہر سیشن 20 سے 45 منٹ تک جاری رہا، اور مؤخر الذکر کے طور پر650 سے زائد طلباء اور مُٹھی بھر ایئرمین کے خوراک، جو تعینات فوج کے یہ ارکان کھاتے ہیں، سے لے کر ان کے پسندیدہ کھیل اور ٹیموں تک، ہر چیز کے بارے میں بات کی۔

ایئرمین میں فعال ڈیوٹی سے لے کر ایئر نیشنل گارڈ تک ، بھرتی شدہ حکام، پایلٹوں اور دیکھ بھال کرنے والے اہلکاروں سے لے کر انتظامی اہلکاروں تک شامل تھے ، لیکن ان سب میں ایک بات عام تھی۔۔۔ امریکیوں کی اگلی نسل کے ساتھ بات کرنے کا موقع۔ اور اس نے طلباء اور اساتذہ پر ایک مثبت تاثر چھوڑا۔

ہکس نے کہا کہ "ہم سب ہمارے کلاس روم میں واپس آئے، اور اس دن کے بہت سے پہلوؤں پر تبصرہ کیا" ۔ "یہ یقینی طور سے ایک یادگار تعلیمی دن تھا کیونکہ ہم نے واقعی میں بچوں کو ہم سے سیکھنے کے لیۓ پُرجوش دیکھا۔"

کچھ طالب علم ایئرمین کے ساتھ گفتگو کے دوران ٹیکسٹ کر رہے تھے اور اور تصویریں لے رہے تھے، اور ہکس کو پہلے سے ہی طالب علموں کے والدین کی طرف سے خطوط موصول ہوئی جس میں انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ کس طرح سے ان کے بچے افغانستان میں خدمات سے انجام دینے والے فوج کے حقیقی ارکان کے ساتھ بات کرنے کے بعد سے پر جوش تھے۔

" ہکس نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ آج رات میسن میں کھانے کی میز کے ارد گرد بہت اچھی گفتگو ہو گی جس کے لیۓ آپ کا شکریہ" ۔ "بیویوں، شوہروں اور والدین کے طور پر یہ ہمیں اس وقت کے لیۓ زیادہ شکر گزاراور ‍قدردان بناتا ہے جو ہم اپنے خاندانوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ امریکی ہونے کے طور پر ہمیں اس سے فخر ہوتا ہے اورہمیں محفوظ محسوس ہونے میں مدد ملتی ہے یہ جانتے ہوۓ کہ ہم ایک بہترین فوج کی وجہ سے محفوظ ہیں جس میں اتنے ذہین، ہوشیار لوگ شامل ہیں۔"

ان سیشنوں کے دوران ایک مشترکہ موضوع یہ تھا کہ تعیناتی کے دوران وقت کا احساس کتنا کم ہو جاتا ہے۔ ایک مرتبہ جب ائیرمین معمول بنا لیتے ہیں تو ہر روز پچھلے دن کی طرح معلوم ہوتا ہے، فرسٹ لیفٹیننٹ سکاٹ بال کے مطابق جو 361ویں مہماتی نگرانی سکواڈرن ایم-سی -12 میں ایک پائیلٹ ہیں۔

بال نے طلباء سے کہا کہ "یہ ایک گراؤنڈ ہاگ دن کی طرح تھا" ۔ "آپ صبح اٹھتے ہیں، نہاتے ہیں یا ورزش کے لیئے جاتے ہیں، پھر جا کر کافی کا کپ لاتے ہیں تمام دن کے چیلنج شروع ہونے سے پہلے اور اس سے پہلے کہ آپ کو کسی بات کا احساس ہو، رات کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ پھر آپ دوبارہ اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں، کتاب پڑھتے ہیں، جو کوئی بھی فلم آپ کی ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ پر ہوتی ہے اسے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ سونے کا وقت ہو جاتا ہے، اور اگلے دن آپ پھر دوبارہ یہی سب سر انجام دیتے ہیں۔"

تاہم، ٹیلر نے اس بات کا اقرار کیا کہ طلباء سے بات چیت میں گزارا وقت اس کی یاداشت میں ہمیشہ کے لیئے رہے گی یہ تعیناتی کے دوران گوارا ہوا ایک عام دن نہیں ہو گا۔

ٹیلر نے کہا کہ "ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ليۓ یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی اور ایسا اس وقت محسوس نہیں ہو رہا تھا لیکن ہمارے چھوٹے اقدامات کے بڑے اثرات ثابت ہوئے" ۔ "مجھے لگتا ہے کہ ہم نے آج کے دن اتنا ہی کچھ حاصل کیا ہے جتنا کہ انھوں نے۔ یہ ایک تفریحی دن تھا۔ یہ بلا شبہ صرف ایک اور 'گراؤنڈ ہاگ' دن نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا دن تھا جسے میں بہت عرصے تک یاد رکھوں گآ۔"