ائیرمین نے دشمن کے مارٹروں کے حملے کے دوران جہاز کی مرمت کی اور اسے محفوظ کیا Array چھاپیے Array
منجانب Senior Airman Bryan Swink, 379th Air Expeditionary Wing Public Affairs
121120_repair
سٹاف سارجنٹ ایلن سوریانو (بائیں) 14 ستمبر، 2012 کو بریک کے درجہ حرارت کے سینسر ہارنس کینن پلگ کو بریک کے درجہ حرارت کے سینسر سے جوڑتے ہوۓ جبکہ ٹئک سارجنٹ گریگوری بینٹ بریک کو جوڑنے کے پرزوں کو ہارنس سے جوڑتے ہوۓ۔ سوریانو اور بینٹ 8ویں ایکسپڈیشنری ائیر موبیلیٹی سکوارڈن، جو کہ فارورڈ آپریٹنگ بیس شینک، افغانستان پر متعین ہے، کی سات رکنی ٹیم کے رکن ہیں اور گرے ہوۓ سی -17 گلوب ماسٹر III کی مرمت کے لیۓ آۓ ہیں۔ (یو ایس ائیر فورس کورٹسی فوٹو)

جنوب مغربی ایشیاء (اے ایف این ایس) (15 نومبر، 2012) – مشرقی افغانستان کے صوبے لوگر میں فارورڈ آپریٹنگ بیس شانک پر ویں ایکسپڈیشنری ائیر موبیلیٹی سکواڈرن کے سات متعین سات افراد پر مشتمل مشن ریکوری ٹیم نے ایک گرے ہوۓ سی -17 گلوب ماسٹر III کی مرمت کی اور اسے نکال کر واپس لاۓ۔

انھوں نے دشمن کے مارٹر حملوں کے دوران اہم ہوائی جہاز کو برآمد کیا۔

" ماسٹر سارجنٹ رائے لی، جو 8 ویں ای-اے-ایم-ایس ایم-آر-ٹی کے رکن ہیں، نے کہا کہ "ہم جانتے تھے کہ ہمارے آگے بہت کام موجود تھا لیکن ہمیں نقصان کی حد کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہوا جب ہم نے اصل میں سی- 17 کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا ۔ ہم جانتے تھے کہ ہم تیزی سے اور مؤثر طریقے سے طیارے کو ایف-او-بی شینک سے باہر نکالنا تھا، بیس اور میدان میں روزانہ کی بنیاد پر مارٹر سے فائرنگ ہوتی ہے۔"

سی 17 نے چھوٹی رن وے پر زور سے لینڈنگ کی جس سے اسے کافی نقصان پہنچا۔ ٹیم نے اپنی آمد پر یہ جانا کہ انھیں 12 پنکچر ٹائروں کی مرمت، آٹھ بریکوں کی تبدیلی، اور آٹھ درجہ حرارت کے سنسروں کی مرمت کا چیلنج درپیش تھا۔

ٹیم نے ہوائی جہاز کی مرمت کا کام شروع کرنے کے لئے اسے مناسب طریقے سے زمین سے بلند کیا بوئنگ کی وصولی اور ترمیم کی خدمات کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا۔ کام کے پہلے دن کے اختتام پر ٹیم نے تمام ٹائر اور بریکیں بدل دیں اور درجہ حرارت کے سینسر ٹھیک کر دیۓ جبکہ ارد گرد کے علاقے پر وقتاً فوقتاً مارٹر گرتے رہے۔

ٹئک سارجنٹ گریگوری بارنیٹ، جو 8ویں ای-اے-ایم-ایس ایم-آر-ٹی کے رکن ہیں اور جوائنٹ بیس لیوس مک کورڈ، واشنگٹن سے یہاں تعینات ہیں، نے کہا کہ یئرمین نے درپیش مشن پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ زمین پر مارٹر پھینکتے اور اس کے ٹکڑے میدان بھر میں اڑتے، لیکن جیسے ہی اس کی صفائی کی جاتی، وہ واپس ہچکچاہٹ کے بغیر کام پر واپس لوٹ جاتے۔ وہ اس طیارے کو تیار کرنے کے لیۓ پر عزم تھے۔"

دوسرے دن 8ویں ای-اے-ایم-ایس ایم-آر-ٹی کے دو مزید ارکان پہنچ گئے، ایندھن کے ٹینک میں لیک کی مرمت کے لیۓ، جو دریافت کی گئی تھی۔ مرمت کے آخری دن کے دوران، ایک مارٹر کے عملے سے تقریباً 150 گز کے فاصلے پر آ کر گرا۔ یہ سب سے قریب ترین دھماکہ تھا جس کے ٹیم کو تجربہ ہوا۔

لی، جو جوائنٹ بیس چارلسٹن ساؤتھ کیرولائینا سے یہاں تعینات ہیں، نے کہا کہ "اس وقت میدان میں تمام تر شور کے ساتھ، ہم 'آنے والے' کی تنبیہ نہ سن سکے ۔ "میں طیارے سے نیچے اتر رہا تھا جب جب مارٹر آ کر گرا میں نے فوراً دھماکے کے دھچکے کو محسوس کیا۔ ہمارے ساتھ کھڑے سی-130 ہرکولیس کو نقصان پہنچا، تو ہمیں احساس ہوا کہ ہم خوش قسمت تھے۔"

8ویں ای-اے-ایم-ایس کے ائیرمین نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ طیارے کو ایف-او-بی سے باہر نکالا جا سکے، اپنا مشن دو دنوں میں پورا کر دیا۔

سینئر ائیرمین بینی وکری، جو 8ویں ای-اے-ایم-ایس ایم-آر-ٹی کے رکن ہیں اور جوائینٹ بیس چارلسٹن، سے یہاں متعین ہیں، نے کہا کہ "ہم جانتے تھے کہ ہمارے لیۓ خطرناک مشن آگے موجود تھا، لیکن ہم میں سے ہر ایک اس جہاز کو وہاں سے باہر نکالنے کے لئے پُرعزم تھا" ۔ "یہ ایک عظیم تجربہ تھا جسے میں آنے والے سال میں یاد رکھوں گا۔"

دیکھ بھال کرنے والے اراکین کا عزم اور ان کا کام 8ویں ای-اے-ایم-ایس کے ائیرمین کے رویے کا اظہار کرتا ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل لواس ہینسن، 8ویں ای-اے-ایم-ایس کے کمانڈر نے کہا کہ "مجھے اپنی ٹیم پر بے حد فخر ہے۔ ایک کمانڈر کے طور پر جو بات مجھے رات بھر جگاۓ رکھتی ہے، وہ وہ کال ہے جس کے بعد مجھے اپنے لوگوں کو خطرناک صورتحال میں بھیجنا پڑتا ہے ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ پھٹے ہوۓ گولے کا ایک ٹکڑا ان سے صرف چند انچ کے فاصلے پر گرا تو اس سے واقعی میں صورتحال کا اندازہ لگا۔ انھوں نے دوبارہ ہمت کی اور گرد جھاڑی اور سی- 17 کی مرمت ختم کی تاکہ ہم اسے جنگ میں واپس لا سکیں۔اس کے لیئے میرے پاس صرف ایک لفظ، شاندار!"