ارزگان کے اہلکاروں کی طالبان کے معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کے بارے میں بات چیت Array چھاپیے Array
منجانب Sgt. Ashley Curtis, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii)
121115_uruzgan
ارزگان کی صوبائی جوائنٹ سیکریٹیریٹ کی ٹیم کے رہنماء امیر محمد (دائیں)، بریگیڈیئر جنرل پیٹ وہائٹ، تھرڈ انفنٹری ڈویژن اور ریجنل کمانڈ (جنوب) ڈپٹی کمانڈنگ جنرل سپورٹ سے 12 نومبر، 2012 کو تارن کوٹ پر کثیر الاقوامی بیس پر ہاتھ ملاتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب ایشلی کرٹس)

تارن کوٹ، افغانستان – ارزگان کے نئے صوبائی جوائنٹ سیکریٹیریٹ کی ٹیم کے رہنماء امیر محمد نے 12 نومبر کو بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورس کے رہنماؤں سے صوبے کے سابقہ طالبان کو معاشرے میں شامل کرنے کی حالیہ کوششوں کے بارے میں ملاقات کی۔

ارزگان میں لیئے گئے یہ اقدامات افغانستان بھر میں عام ہوتے جا رہے ہیں جیسے جیسے ملک تیزی سے فوجی کنٹرول کی بجائے حکومت کی قیادت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

تارن کوٹ میں کثیر القومی بیس پر منعقد اجلاس کے دوران محمد نے کہا کہ انھوں نے اور دیگر سرکاری حکام نے صوبے میں دیہاتیوں کے ساتھ، خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ حکام نے ان کے مسائل سنے اور دیہاتیوں میں ان طریقوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جن سے وہ طالبان کی حمایت نہیں بلکہ اپنی حکومت کی حمایت کے ذریعے اپنا معیار زندگی کو بہتر سکتے ہیں۔

"محمد نے کہا کہ"ہم چند خطرناک پیدل گشتوں پر جا رہے ہیں ۔ ہم لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خطرناک علاقوں میں بھی ہم کام کر رہے ہیں۔"

انھوں نے کم سطح کے طالبان تک پہنچنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

انھوں نے کہا کہ "ہمیں چھوٹی سطح کے جنگجوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو اونچے سطح کے کمانڈروں سے علیحدہ کیا جا سکے" ۔

محمد نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ان مراعات، جو مختصر مدت میں ان کے حالات میں بہتری لائیں گے، کے بجائے دیہاتیوں کو بااختیار بنایا جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ وہ دیہی لوگوں کو اس بات کا احساس دلانا چاہتے ہیں کہ وہ خود اپنا بہترین دفاع ہیں، اس پروگرام کی کامیابی کی بنیاد ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے پائیدار ذرائع فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

محمد کا کہنا تھا کہ صوبے میں سیکورٹی کی صورت حال اور فوج اور حکومت کے درمیان تعاون بہت بہتر ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ "عام طور پر، سکیورٹی کی صورتحال اچھی ہوتی ہے ۔ "ہم ملٹری اور حکومتی قیادت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم اکٹھے کام کر رہے ہیں۔"