| افغانستان میں متعین 31 فوجی ارکان نے امریکی شہریت حاصل کی | Array چھاپیے Array |
منجانب Staff Sgt. David Overson, 115th MPAD شئیرمتعلقہ خبریں
فوجی ارکان جو آپریشن ینڈیورنگ فریڈم کے لیۓ افغانستان میں تعینات کئے گئے ہیں، بگرام ہوائی اڈے، افغانستان، پر 2 نومبر، 2012 کو ایک تقریب کے دوران امریکی شہری بننے کا حلف اٹھاتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ اوورسن)
بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان (7 نومبر، 2012) – حب الوطنی کا مطلب مختلف لوگوں کے لیۓ مختلف ہوتا ہے، اور در حقیقت پچھلے چند سالوں کے دوران اس نے اک سیاسی رنگ دھار لیا ہے۔ افغانستان میں آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کو آگے بڑھانے والے متعین فوجیوں کے لیۓ اس کا مطلب ایک طویل سفر کا بالآخر اختتام تک پہنچنا ہے۔ 19 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے فوج کے 31 ارکان بگرام ہوائی اڈے، افغانستان میں 2 نومبر کو ایک تقریب کے بعد امریکی شہری بن گۓ۔ فوج کے ارکان کی تقریب کی صدارت ایلوس کوائیلز نے کی جو، بینکاک، تھائی لینڈ میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروس کے قانونی افسر ہیں۔ وفاداری کا حلف، بینکاک میں یو-ایس سی-آئی-ایس کے ضلعی ڈائریکٹر، پیئیس بینس نے اٹھوایا۔ دور دور کے ممالک ناروے، جمیکا، لاؤس، کینیا، جاپان اور مالدووا سے تعلق رکھنے والے یہ فوجی ثقافتی ورثے میں بہت متنوع تھے. ایک بات جو ان سب میں عام تھی وہ ان کی امریکی شہری بننے کی خواہش تھی۔ سارجنٹ گرینا کرک، براوو کمپنی، 209ویں ایوی ایشن سپورٹ بٹالین، 25ویں انفنٹری ڈویژن، شوفیلڈ بیرکیں، ہوائی میں متعین ان فاخر نئے امریکی شہریوں میں سے ایک تھا۔ کرک اصل میں فلپائن سے ہے اور ایک قانونی باشندے کے طور پر امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ فی الحال آپریشن ینڈیورنگ فریڈم کی مدد میں قندھار ہوائی اڈے پر تعینات کیۓ گۓ کرک نے اپنائی گئی شہریت کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے بگرام ہوائی اڈے تک کا سفر کیا۔ کرک نے کہا کہ "امریکی شہری بننے سے مجھے مزید آزادی ملتی ہے۔ اب میں واقعی میں ووٹ دے سکتا ہوں ۔ ملٹری میں ہونے سے اب میں مختلف [نوکریوں] کی تلاش کر سکتا ہوں جن کے لیۓ سکیورٹی کلیرنس درکار ہوتی ہے۔ شہری بننے سے اور کئی دروازے کھلتے ہیں اور مجھے اس سے مزید مواقع ملتے ہیں۔" ایک اپنایا گیا شہری بننا ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے وہ لوگ جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوۓ شہری بنتے ہیں۔ اپناۓ گۓ شہری حلف اٹھاتے ہیں "کسی بھی غیر ملکی شہزادے، بادشاہ، ملک یا حکومت سے وفاداری کو چھوڑنا اور اس سے علیحدگی اختیارکرنا، اور امریکہ کے تمام دشمنوں غیر ملکی اور ملکی کے خلاف آئین اور ملکی قوانین کی حمایت اور تحفظ کا عہد کرتے ہیں۔" تقریب میں، حال ہی میں، افغانستان میں امریکہ کے مقرر کردہ سفیر جیمز بی۔ کننگہم بھی شامل تھے جنھوں نے ہر فوجی رکن سے ذاتی طور پر بات کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو مبارک باد دی۔ کننگہم نے کہا کہ "آج کا دن ایک عظیم اعزاز ہے، یہ ہمیشہ امریکہ کے خاندان میں نئے شہریوں کا خیر مقدم کرنے کے لیے بہت مؤثر تقریبات ہوتی ہیں ۔ ان کی امریکی شہری بننے کی خواہش کو دیکھنا ہمیشہ ایک شاندار احساس ہے۔" کننگہم نے مزید کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے میرے ملک کی خدمت کرنے کے لئے شمولیت اختیار کر لی، جو کہ ان کا ملک بن جائے گا، ان کے شہری بننے سے قبل ان کی امریکہ سے وابستگی اور ان کا امریکی خاندان کے حصہ بننے کی خواہش کی مظاہرہ ہے" ۔ ایک اور فوجی رکن جو امریکی شہریت حاصل کر رہا تھا مرین کور کے لانس کارپورل تھا ویلینٹن سٹارٹیسیئس تے، جو اوڈیسا، یوکرائن سے ہیں، اب نیو یارک کا حوالہ اپنے گھر کے طور پر دیتے ہیں، اور تیسری بٹالین، تیسری میرین رجیمنٹ کے ساتھ ایک انفنٹری رائفل مین ہیں اور کیمپ لیجیون، نارتھ کیرولائینا میں تعینات ہیں۔ سٹارٹیسیئس فارورڈ آپریٹنگ بیس جیرانمو، صوبہ ہلمند، افغانستان سے بگرام ہوائی اڈے تک کا سفر کرنے اور ایک امریکی شہری بننے پر خوش تھا۔ سٹارٹیسیئس نے کہا "ایک امریکی شہری بننے کا مطلب میرے لئے سب کچھ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس ملک کے لئے لڑ رہا ہوں ہے جس نے مجھے وہ کچھ دیا ہے جو میرے خیال میں کوئی اور ملک نہیں دے سکتا۔"
|