| آرمی این-سی-او کا افغانستان میں خودساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکام بنانا | Array چھاپیے Array |
منجانب Staff Sgt. Nicolas Morales, 4th Infantry Brigade Combat Team شئیرمتعلقہ خبریں
سارجنٹ بریڈلی ٹومین، جو ڈیویسن، میشیگن سے ہیں اور چوتھی انفنٹری بریگیڈ کی لڑاکا ٹیم، فرسٹ انفنٹری ڈویژن کے ساتھ مشرقی افغانستان میں کام کرتے ہیں۔ ٹومین 11 ستمبر، 2001 کو ہونے والے حملوں کے دوران ملک کے دارالحکومت میں وائٹ ہاؤس کی مواصلات ایجنسی کو تفویض تھے۔ (یو-ایس آرمی فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ نک مورالس)
صوبہ پکتیا، افغانستان (30 اکتوبر، 2012) – یہاں متعین آرمی سارجنٹ بریڈلی ٹومین جب اپنے ملٹری کے پیشے میں گزارے 12 سال پر پلٹ کر نظر ڈالتے ہیں تو انھیں خوش گوار یادیں اور آگے بھی اپنے خاندان اور ساتھی فوجیوں کے لیۓ حوصلہ افزا راستہ پاتے ہیں۔ ٹومین، 1998 میں اجو ڈیویسن، مشیگن کے مقامی ہیں، 1998 میں ایک بڑھئی اور مستری کے طور پر فوج میں بھرتی ہوۓ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وہ 11/9 دہشت گرد حملوں کے دوران واشنگٹن، ڈی سی، میں موجود تھے۔ وہ اس کو ایسے یاد کرتے ہیں جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ ٹومین نے کہا کہ"میں باہر کھڑا پینٹاگون کے علاقے کی طرف دیکھ رہا تھا. میں نے وہاں سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا تو مجھے فوری طور پر احساس ہوا کہ وہاں کوئی فیکٹریاں نہیں تھیں ۔ میں بھاگ کر دفتر کے اندر گیا تو مجھے پتہ چلا کہ پینٹاگون پر حملہ ہوا تھا۔" وہائٹ ہاؤس مواصلات ایجنسی کو تفویض، ٹومین کے پاس انوکھی نوکری ہے۔ انھوں نے کہا کہ "میں صدارتی پوڈئیم بنتا اور ان کی مرمت کرتا تھا، اور صدر کے لیۓ کوئی بھی الماری جس کی انھیں ضرورت ہوتی، میں بناتا تھا، ان کو کاٹتا اور بنا ڈالتا تھا۔" 2005 میں ٹومین نے آرمی چھوڑ کر جانے اور شہری بڑھئی کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً دو سال کے بعد بھی انھیں ایک خلا محسوس ہو رہا تھا جسے وہ بھر نہ سکے۔ ٹومین نے کہا کہ"جب میں [آرمی سے] نکل آیا تو میں جانتا تھا کہ میرے پاس بہت کچھ تھا اور جانتا تھا کہ بہت فوج میں میرے لیۓ بہت کچھ تھا، لیکن جب میں باہر نکل آیا تو میں نے محسوس کیا کہ کتنی زیادہ [فوج کی کمی محسوس ہو گی]۔ میں اس سے پہلے بھی محبت کرتا تھا اور اس نے مجھ میں اس کے لئیے اور بھی زیادہ محبت پیدا کر دی ہے۔" ٹومین نے کہا کہ ان کا خاندان اس بات کا بڑا حصہ ہے جو انھیں افغانستان میں مرکوز رکھتا ہے۔ ان کے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کے فیصلے کو ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت صرف ایک چیز تھی جس کی انہوں ضرورت ہے۔ ٹومین نے کہا کہ خاندان کیا رکھتا ہے اسے افغانستان میں مرکوز ایک بڑا حصہ ہے. نے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کا فیصلہ ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت، انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہی چیز ہے کہ وہ ضرورت تھی. ٹومین نے کہا کہ "اس وقت کے بعد جب حالات خراب ہو گۓ – میرے والد کا انتقال ہو گیا – میری بیوی پیٹریشیا نے مجھے وہ سب کچھ کرنے کو کہا جو مجھے خوش کرتا تھا، اورصرف جس چیز نے مجھے خوش کیا تھا وہ میرا آرمی میں گزرا وقت تھا" ۔ ان کی بیوی نے ان کو فیصلہ لینے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ٹومین نے کہا کہ "وہ جانتی تھی کہ میرا جواب کیا ہو گا، تو وہ ایک ریکروٹر سے ایک ہفتہ پہلے جا کرملی اور میری طرف سے بات چیت شروع کر دی ۔ تو جب میں نے ریکروٹر کے دفتر جانے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر میں قدم رکھا تو اس نے مجھے ''سارجنٹ ٹومین' کے نام سے مخاطب کیا، اور مجھے صرف کاغذی کارروائی پر دستخط کرنے تھے۔" اب ان کی دوسری تعیناتی پر، ٹومین افغانستان میں روٹ کلیئیرنگ پڑرول پلاٹون میں، نان کمیشنڈ افسر کے طور پر بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے اور غیر فعال بنانے کی ذمہ داری کے ساتھ ، بڑے انداز میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ٹومین ایک مانے ہوۓ لیڈر ہیں، جو، اپنے اعزازات اور کامیابیوں کے باوجود، عاجزی سے رہتے ہیں اور اپنے فوجیوں اور لیڈروں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ ٹومین نے کہا کہ "میں اس تعیناتی کے بارے میں جس بات کو سب سے زیادہ یاد رکھوں گا وہ یہ فوجی ہیں - ان کو تربیت دینا، تربیت حاصل کرنا اورانھیں کام کے بارے میں تعلیم دینا۔ ان کی زندگیاں میرے ہاتھوں میں ہیں۔" انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملٹری میں رہیں گے اور یہاں سے ریٹائر ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا خاندان جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر بہت فخر کرتا ہے۔ ٹومین نے کہا کہ "جب میں اپنے دادا سے ملنے گھر گيا، تو میں نے ان کی آنکھ میں آنسو دیکھا جو جہاں تک مجھے یاد ہے پہلی مرتبہ تھا ۔ "انھوں نے مجھے بتایا، 'بچے تم اچھا کام کر رہے ہو۔' یہ میرے لیۓ ایک بہت بڑی بات تھی۔"
|