کمانڈر: افغان افواج نئی صلاحیتیں اور لوگوں کا احترام حاصل کر رہی ہیں Array چھاپیے Array
منجانب , American Forces Press Service
 121024ColShafer
لیفٹیننٹ کرنل جان شیفر، کمانڈنگ افسر، رجیمنٹل جنگی ٹیم 6، 29 مارچ، 2012 کو اے-این-اے کے بریگیڈیئر جنرل عبدل وسیع، کمانڈنگ جنرل، سیکینڈ بریگیڈ، 215ویں کور، کے ساتھ افغان نیشنل آرمی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوۓ۔ شیفر نے فوجیوں کی محنت اور ترقی کا ذکر کیا۔ اے-این-اے کے فوجی یہاں کاروائی کے علاقوں میں مددگار کے کردار سے قیادت کے کردار میں منتقل ہو گے ہیں۔ (فوٹو منجانب لانس کارپورل ٹموتھی لینزو)

واشنگٹن (23 اکتوبر، 2012) - افغانستان میں اندرونی حملوں کا، دوسری جنگ عظیم کے دوران پائلٹوں کی جانب سے کیۓ گۓ مایوس خودکش مشن کاماکازی سے موازنہ کرتے ہوۓ، جنوب مغربی افغانستان میں ایک مرین کمانڈر نے کہا کہ باغی اتحادیوں اور تیزی سے قابل ہوتی ہوئی افغان فوجوں، جو وہاں مکمل سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کی تیاری میں ہیں، کے درمیان تنائو پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مرین کور کے کرنل جان شیفر، رجیمنٹل جنگی ٹیم 6 کے کمانڈر، نے اندرونی حملوں کو مایوس باغیوں کی طرف سے فائدہ اٹھانے کی آخری مایوس کن کوشش قرار دیا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ افغانستان کی قومی سلامتی افواج اور اتحادی ارکان کو تحفظ فراہم کرنے کے نئے اقدامات کی ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ ، یہ حملے ان کے آپس کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش میں بالکل ناکام رہے ہیں ۔

ٹیل کانفرنس کے ذریعے امریکی افواج کی پریس سروس اور پینٹاگون چینل کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے شیفر نے 10 پچھلے ماہ کے دوران مرینز او ر ملاحوں کی صوبہ ہلمند میں آمد سے لے کر اب تک کی افغان سکیورٹی فورسز کی ترقی میں مسلسل پیش رفت کی رپورٹ دی۔

شیفر نے کہا کہ شروع میں، پہلے سے منصوبہ بندی کے ساتھ کیئے ہوئے حملوں اور ٹارگٹ پر اچانک حملوں نے افغان سکیورٹی افواج کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیئے ایک اچھا ماحول فراہم کیا تھا ۔ اس کے بعد، دونوں-- آرمی اور پولیس کی فورسز— کے پاس ان علاقوں پر قبضہ جمانےکی صلاحیت تھی، جو ہم نے اس سال کے شروع میں حملوں کے دوران حاصل کیۓ تھے۔ "

اب افغانوں نے اور بھی زیادہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں جن کے بارے میں شیفر نے کہا کہ اس سے ان کی فوجیں اپنی دوبارہ تعیناتی کی تیاریاں کرتے ہوۓ اپنی کاروائیو ں کو کم کرنے کے قابل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے رجیمنٹل جنگی ٹیم میں تقریباً 60 فیصد کی کمی کر دی، اور ہم نے اس فرق کو افغان قومی سکیورٹی فورسز کے ساتھ پورا کر دیا ہے ۔ تو ... علاقائی لڑاکا ٹیم کے مرینز ... نے افغانی قومی سکیورٹی فورسز کے لیے مؤثر طریقے سے حالات پیدا کیۓ ہیں تاکہ ان کے لئے ایسی جگہ بنائی جاۓ جو انھیں موثر طریقے سے کام کرنے کے قابل ہونے کی اجازت دے۔"

شیفر نے کہا کہ "جیسے جیسے افغان فوجیں اپنی خود مختارانہ طور پر کاروائیاں کرنے کی مسلسل بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں وہ افغان عوام کا احترام بھی حاصل کر رہی ہیں۔

"ابتدائی طور پر، وہاں مقامی قومی نقطہ نظر میں ہچکچاہٹ تھی، کیونکہ وہ نہیں جانتے ان کی افغان قومی سکیورٹی فورسز کس طرح قابل تھیں، "انہوں نے کہا۔ "لیکن ... انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس اور اتحادی افواج کے میں کمی کے نتیجے کے طور پر، افغان قومی سکیورٹی فورسز کو ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیۓ جو طالبان کی وجہ سے درپیش تھے ان کو آگے قدم بڑھانا پڑا۔ اور ایک کثرت سے، انھوں نے بہت اچھی طرح سے کام کیا ہے اور بہت کامیاب رہے ہیں۔"

شیفر نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ "اور اس کے ساتھ، انھوں نے واقعی میں مقامی قومی آبادی کے اعتماد کو تقویت دی ہے ... اور افغانستان کے عوام کی نظروں میں افغان قومی سکیورٹی فورسز کی ساکھ بنائی ہے ۔ تو مجھے لگتا ہے کہ ہم کافی حد تک صحیح راہ پر گامزن ہیں۔"

عراق سے فوجوں کی واپسی کے دوران حاصل شدہ اہم سبق کا ذکر کرتے ہوۓ شیفر نے کہا کہ افغانستان میں لمبے عرصے کے مشن کی کامیابی کے لیۓ لوگوں کی حمایت بہت اہم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ "کسی بھی انسداد بغاوت کے ماحول جس میں آپ کام کر رہے ہیں، دونوں بغاوت اور انسداد بغاوت کی فورسز مقامی قومی آبادی پر انحصار کرتی ہیں ۔ آبادی ہی بلآخر آپ کے لئے اُس دن کام آۓ گی۔ تو جو بھی آبادی کے ساتھ سب سے زیادہ منسلک ہو گا ... آخر میں تنازعہ کا فاتح ہو گا۔"

شیفر نے کہا "تو ہم نے یہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ مقامی قومی آبادی کو ایک انتخاب پیش کیا ہے جو ان کے اور ان کے مستقبل کے لئے بہتر ہے، باغیوں کا انتخاب جو کچھ انھیں پیش کرتا ہے اس کے مقابلے میں افغانستان کی حکومت کی طرفداری کرنے اور ان کے ساتھ منسلک ہونے کا انتخاب، ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ عراق میں بھی بالکل ایسا ہی ہوا۔"

جیسے جیسے امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے واپس جا رہی ہیں، شیفر نے کہا کہ، وہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ افغان فورسز ذمہ داری کو پہچان لیں اور خود کو افغان حکومت کے نمائندوں کے طور پر منظم کریں۔

انہوں نے اپنے مرینز اور ملاحوں پر فخر کا اظہار کیا، جو اکثر مستقل طور پر جاری مدد پہنچانے کے لیۓ پس پشت کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے۔

شیفر نے کہا کہ "انہوں نے یہ سب اس مدت میں کیا ہے جب ہم نے میدان جنگ کا سائز دوگنا کر دیا ہے،... فوجوں کی تعداد دو تہائی کم کر دی ہے، ... بہت سے اضلاع میں سکیورٹی کی ذمہ داری کی قیادت افغان قومی سکیورٹی فورسز کو منتقل کر دی گئی ہے، ...اپنے ہیڈ کوارٹر کو ایک مقام سے دوسرے پر منتقل کر دیا ہے اور اپنے ہیڈ کوارٹر کے 40 فیصد کو واپس گھر بھیج دیا ہے ۔ اور یہ سب کرتے دوران انھوں نے سانس بھی نہیں لیا۔"