| گارڈزمین کی افغانستان میں اساتذہ کی تدریس | Array چھاپیے Array |
منجانب Staff Sgt. Katie Gray, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii) شئیرمتعلقہ خبریں
افغان اساتذہ نے افغانستان میں فارورڈ آپریٹنگ بیس اسپن بولدک میں منعقد اساتذہ کے سیمینار میں شرکت کی۔ سارجنٹ اینڈریو بریچکو،جو نیویارک نیشنل گارڈز کی 27ویں انفنٹری بریگیڈ کی لڑاکا ٹیم کےساتھ ہیں، نے کلاس کی قیادت جس کی توجہ تعلیمی حکمت عملی جیسے کہ طالب علم کی تشخیص، اساتذا کے درمیان تعاون اور واضح تعلیمی مقاصد کے قیام پر مرکوز تھی. (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ کیٹی گرے)
فارورڈ بیس سپن بولدک، افغانستان (17 اکتوبر، 2012) – نیویارک کی کلاس روم سے لے کر افغانستان کے وسطی علاقے کے ایک میٹنگ روم تک، سارجنٹ ایندروو بریچکو کبھی بھی لوگوں کو تعلیم دینا نہیں روکتے۔ بریچکو، جو کہ نیو یارک نیشنل گارڈز 27ویں انفنٹری بریگیڈ جنگی ٹیم کے ساتھ ہیں، نے اپنا چھ سال کا کلاس روم کا تجربہ فارورڈ بیس سپن بولدک میں افغان اساتذا کے لیۓ سیمینار کی قیادت میں استعمال کیا۔ یہ سیمینار کئی بار پیش کیا جاتا ہے، اور ہر بار کلاس پورے ضلعے سے آۓ اساتذا سے پوری طرح بھری ہوتی ہے۔ بریچکو نے کہا کہ "ہر مرتبہ جب بھی ہم نے کلاس پیش کی، افراد کی تعداد اتنی ہی رہی ہے جتنی ہم زیادہ سے زیادہ لے سکتے تھے ۔ اور یہ بات کہ وہ اپنی چھٹی کے دن آتے ہیں ان کے اساتذا کی تربیت کے ضمن میں جوش کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔" یہ سیمینار تعلیم کو بہتر بنانے اور ان کو کس طرح کلاس روم میں نافذ کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ . بریچکو نے کہا کہ وہ معلموں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں اور انہیں محسوس کرانا چاہتے ہیں کہ وہ تربیت میں آزادانہ طور پر حصہ لے سکتے ہیں، اس لیۓ سیمینار ذاتی یادوں اور افغان اساتذہ کی طرف سے رائے کے اشتراک سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ بریچکو نے کہا کہ "سیمینار کے دوران میں کبھی سلیبس کا حوالہ نہیں دیتا، اور نہ ہی میں امریکی تعلیمی ماڈل کو افغانی ماڈل پر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ یہ اصل میں افغانستان اور امریکہ کے درمیان ایک تعلق قائم کرنے کے لئے ایک اچھا موقع ہے۔ یہ کام سے وردی کو دور کرتا ہے اور ان دونوں کے بیچ ایک مشترکہ مقصد کو سامنے لاتا ہے۔" ایک استاد کی حیثیت سے بریچکو تعلیم کی اہمیت کو بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر افغانستان جیسے ملک کے لیۓ۔ بریچکو نے وضاحت کی کہ "سوویت یونین کے حملے کے بعد سے 30 سال تک جنگ رہی ہے، تو وہ نسلیں جنہیں ایک خوشحال افغانستان یاد ہے وہ ایک طرف ہو گئی ہیں ۔ قوم کی تعمیر اور ایک مظبوط قوم کی تعمیر کا صرف ایک ہی طریقہ ہے جو تعلیم کے ذریعے ہے، اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔" بریچکو نے کہا کہ اس سب کے لیۓ سب سے اہم بات افغانستان کے نوجوانوں میں تعلیم کی خواہش پیدا کرنا ہے۔ اس لیۓ اس سیمینار کے دوران بچوں میں اسکول جانے کی حوصلہ افزائی کرنے کی حکمت عملیاں اور کلاس میں ان میں اعتماد پیدا کرنے کے طریقے اہم ہیں۔ "شاگردوں کی تشخیص، استاد کا تعاون، اور تعلیم کے واضح مقاصد کے قیام کی ہدایات پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت" پر ہی بریچکو کی ٹریننگ مبنی ہےاور انہوں نے مزید کہا کہ "اگر آپ لوگوں کو تعلیم سے محبت کرنا سکھا دیں تو وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی طرف مزید مائل ہوں گے، وہ مزید زیادہ مشکل کام کرنے پر مائل ہوں گے کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔" بریچکو اساتذا کو سیمینار میں لانے کے لیۓ حاجی بدرالدین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جو سپن بولدک ضلعے کے تعلیمی نظام کے نمائیندے ہیں۔ بریچکو نے کہا کہ" ان کی وسيع سوچ اور افغانستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی خواہش ہے جو اس ٹیچر ٹریننگ کو بہت کامیاب بناتا ہے ۔ وہ اپنے سب سے اچھے اساتذہ کو ساتھ لاتا ہے اور وہ اُن کے ساتھ ساتھ اس ٹریننگ میں حصہ لیتا ہے۔" انھوں نے بدرالدین کو "بہت ترقی پسند مفکر" کہا اور وہ مستقبل میں خواتین اساتذہ کے لئے ایک سیمینار کرنے کی امید کرتے ہیں۔ ان معمول کے مسائل جو اساتذہ کو کسی بھی کلاس روم میں در پیش ہوتے ہیں کے علاوہ، افغانستان میں اساتذہ کو انوکھی مشکلات مثلاً طالبان کا خطرہ اور سڑکوں پر خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدرالدین نے کہا کہ دو اساتذہ حال ہی میں کابل میں ایک کانفرنس سے واپسی پر ڈرائیونگ کے دوران ایک آئی-ای-ڈی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ ان پریشانیوں کے باوجود، افغان اساتذا اپنے کام کے بارے میں جذباتی معلوم ہوتے ہیں اور سیمینار کے بارے میں پُر جوش ہیں۔ بریچکو نے یاد کرتے ہوۓ کہا کہ "افغان اساتذہ میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا کہ سب سے اہم نوکری اور معاشرے میں سب سے اہم شخص ایک استاد ہوتا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا کیوں تو جواب میں اس نے کہا کہ "کیونکہ ہر وکیل، ہر ڈاکٹر، ہر سکاست دان، ہر ملٹری جنرل، ہر شخص کو تعلیم دی گئی ہے اور یہ ایک استاد کی قوت ہے۔"
|