| فضائی عملے نے 'حدود سے باہر' امداد بہم پہنچائی | Array چھاپیے Array |
منجانب Master Sgt. Russell Martin, 451st Air Expeditionary Wing Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
ایک ائیرمین گاؤں کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کے مشن کے دوران سامان اتارنے میں مدد کرتے ہوۓ۔ ایئرمین نے ایک مقامی گاؤں تک 5،000 پونڈ مال اور سامان پہنچایا۔ (یو-ایس ائیر فورس فوٹو/ماسٹر سارجنٹ رسل مارٹن)
قندھار ائیرفیلڈ، افغانستان (17 اکتوبر، 2012) – انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاروائیوں ، ان مشکل علاقوں پر جہاں ٹرک یا کانواۓ کے ذریعے امداد پہنچانا بہت خطرناک ہے، پر فضائی راستے سے سامان گرانے کے عمل میں اضافہ ہوگیا ہے جن کا استقبال وہاں کے رہنے والے مسکراتے ہوئے اور خوشی سے ضروری اشیاء اور ساز و سامان کا انتظار کرتے ہیں۔ تاہم افغانستان میں تمام "ایچ-اے" مشنوں کے لیۓ فضائیہ کی ضرورت نہیں ہوتی، کچھ کے لیۓ صرف پہیوں کو سڑک پر چلانے اور ان جگہوں تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، یہ کچھ بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ یہاں تعینات فضائیہ کا عملہ حال ہی میں امریکی فوج کے جانب سے باغیوں کےانسداد کی کاروائیوں میں مدد اور افغان لوگوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی جاری کوشش کے سلسلے میں 'حدود سے باہر' اسکول کا سامان، موسم سے نمٹنے کا سامان، دالیں اور چاول ایک قریبی گاؤں تک پہنچانے کے لیۓ ایک چھوٹے سے دورے پر گيا۔ مشن کے انچارج خصوصی ایجنٹ، جن کی شناخت سیکورٹی وجوہات کی بناء پر خفیہ رکھی گئی ہے، نے کہا کہ "اپنے افغان دوستوں پر یہ ظاہر کرنے کا یہ ایک موقع ہے کہ ہم ان کی حمائیت اور مدد کرنا چاہتے ہیں جس طرح بھی ہم کر سکتے ہیں ۔ ہمیں یہاں آ کر اس طرح کے مشن کرنے کا زیادہ تر موقع نہیں ملتا، تو جب ہمیں موقع ملتا ہے، ہم واقعی میں اس کا بہترین طریقے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔" گاؤں پہنچنے کے بعد، چار کوگر بارودی آلات کے حملے روکنے کی گاڑیاں جن میں 5000 پاؤنڈ سامان لدا ہوا تھا ان کا استقبال تقریباً دو درجن بچوں اور ایک درجن دیہاتیوں نے کیا جو امریکی فوج کے جوانوں اور خواتین سے ہاتھ ملانے کے لیۓ اور کہ ان کے پاس کیا کیا تھا یہ دیکھنے کے لیۓ پُر جوش تھے۔ گاؤں کے ایک بزرگ نے ایک مترجم کے ذریعے سے کہا کہ "یہاں کے لوگ جنگ سے تھک گئے ہیں ۔ یہاں کے لوگ مختلف صورت حال میں پچھلے تیس سال سے جنگ میں ہیں۔ امریکی فوج کو ہمارے عوام اور ہمارے گاؤں کے بارے میں پروا کرتے دیکھنا اور یہ دیکھنا کہ وہ کس طرح سے ہماری زندگی گزارنے میں مدد کرتے ہیں کافی حیرت انگیز ہے ۔" اگرچہ یہ دورہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر تھا، اس کاروائی کے لیۓ تیاری اسی سطح پر کی گئی تھی جس سطح پر قندھار ائیر فیلڈ کی حفاظتی حدود سے باہر کیۓ گۓ تمام مشنوں میں تحفظ اور سکیورٹی کی توقع کی جاتی ہے۔ ایجنٹ نے کہا کہ"ہم نے مشن کی منصوبہ بندی کچھ ہفتے پہلے کی تھی، اور اس کی ظاہری طور پر قیادت کے پورے سلسلے سے گزر کر منظوری حاصل کرنی تھی ۔ "جب بھی ہم باونڈری سے باہر جاتے ہیں، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سب تحقیقات، حفاظت اور سکیورٹی کے معیار اعلٰی ترین سطح پر برقرار رکھیں چاہے وہ کاروائیاں، امدادی کاروائیاں ہو یا نہ ہو۔" فضائی عملے کا یہ گروہ، تقریباً 35 مشنوں پر اکٹھے جا چکا ہے، اور اگر سب ٹھیک رہے تو یہ تمام اسی طرح ختم ہوتے ہیں جس طرح سے یہ شروع ہوتے ہیں ۔ ایجنٹ نے کہا کہ "منصوبے کی قیادت سے منظوری ملنے کے بعد ہم تفصیلات طے کرتے ہیں ۔ جب مشن کا دن آتا ہے، ہم ہر چیز ہر ممکنہ غیر متوقع حالات کا، پہلے سے جائزہ لیتے ہیں اور اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہم کس طرح کا رد عمل دیکھائیں گے۔" نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن اور نیشنل فٹ بال لیگ کی طرح کھیلوں میں عالمی معیار کے کھلاڑی کسی بھی بڑے موقعے مثلاً این-بی-اے فائنل یا این-ایف-ایل سوپر بول سے ایک دن پہلے معمول کے مطابق مشقیں کرتے ہیں۔ یہ ٹیم بھی اس سے کوئی مختلف نہیں ہے۔ " انچارج ایجنٹ نے کہا کہ "ہم ایسا ہر مشن سے پہلے کرتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنا بڑا یا چھوٹا، چاہے کوئی بھی مقصد ہو ۔ ہمارے لئے، ہر دفعہ جب بھی ہم ان دیواروں سے باہر قدم رکھتے ہیں، وہ وقت کام کا ہوتا ہے۔ ہم ہر چیز کو بارہا دہُراتے ہیں، اور اب جب کہ ہم اسے اتنے عرصے سے مل کر کر رہے ہیں۔ یہ واقعی میں ہماری فطرت بن گیا ہے۔ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہر صورتحال میں کون کہاں ہو گا ۔ آپ کا اپنی ٹیم میں اس طرح کا اعتماد ایک کمال کی چیز ہے۔" ہر کسی کے لیۓ خوش قسمتی کی بات ہے، انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مشن کو ٹیم کی طرف سے ایسے کسی ردعمل کی ضرورت نہیں پڑی۔ گاؤں کی طرف جانے کے دوران کانواۓ کئی جگہ رکا تاکہ غیر معمولی معاملات کی شناخت، نشاندہی، اور صدر دفتر تک اس کی اطلاع دی جاۓ، کسی بھی امریکی ہائی وے پر جو ایک 20 منٹ کی ڈرائیو ہو سکتی تھی، ایک گھنٹہ لمبی مہم بن گئی۔ دیہاتیوں کو امداد کی فراہمی میں بہت کچھ داؤ پر لگا تھا، لیکن یہ صلے کے بغیر نہیں ہے۔ گاؤں کے بچے، نوجوان اور بزرگ ہمارے ارد گرد جمع ہوۓ یہ دیکھنے کے لیۓ کہ امریکی ان کے لیۓ کیا لائے ۔ انھوں نے ایئرمین کو کھانا بھی فراہم کیا۔ دوسری ثقافتوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اصل بات ان کی رسومات اور طریقوں کو یاد رکھنے اور شناخت کرنے میں ہے۔ سینئیر ایجنٹ نے کہا کہ "ہم امریکہ میں چیزیں ایک خاص طرح سے کرنے کے عادی ہیں ۔ یہاں آپ جو تعلقات قائم کرتے ہیں وہ کبھی کبھار اس سامان سے زیادہ اہم ہے جو آپ یہاں لاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ساتھ صرف ایک کپ چاۓ یا کھانا کھانا ہمارے تعلقات کو مظبوط کرنے میں بہت کام آتا ہے۔" انہوں نے ہنستے ہوۓ کہا کہ "کھانے سے منہ نہ پھیریں، چاہے وہ آپ کو پسند نہ بھی آۓ، وہ اسے توہین کی علامت کے طور پر لیں گے، اور جب آپ کھائیں، اپنے دائیں ہاتھ کے استعمال کویاد رکھنے کی کوشش کریں" ۔ اور کھانا کھانے کے بعد، چائے پی جاتی ہے؛ ایئرمین نے اپنے خالی ٹریلرز کو محفوظ بنایا، ایم-آر-اے-پی میں بیٹھے اور قندھار ہوائی اڈے کی طرف واپس روانہ ہوۓ۔ محفوظ دروازوں کے ذریعے اندر آتے ہوۓ، قندھار کی دیواروں کے اندر، انھوں نے اپنے کیولر ہیلمٹ اتارے، اپنے حکمت عملی پر مبنی گیئر اتار کر رکھے اور اپنی عمارت میں واپس آ گۓ۔ یہاں انھوں نے مشن کے بعد کی گفتگو کی کہ وہ کیسا رہا، غیر معمولی مسائل، جو انھوں نے وہاں دیکھے، کا ذکر کیا اور اس ایک کھلاڑی ٹیم کی طرح اکٹھے ہوۓ جو کھیل کی آخری گھنٹی بجنے کے بعد جمع ہوتی ہے۔ ایک دائرے میں، ہر ائیرمین کا ہاتھ درمیان میں آتا ہے اور گنتی گنی جاتی ہے "ایک، دو، تین،" وہ سب اپنے ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہیں، ایک کامیاب مشن کے محفوظ اختتام کو منانے کے لیۓ۔
|