| مرینز نے افغان فوجیوں کے علاقے کو محفوظ بنانے میں مدد کی | Array چھاپیے Array |
منجانب Cpl. Anthony Ward Jr., Regional Command Southwest شئیرمتعلقہ خبریں
ویپنز کمپنی کے ساتھ مرینز، فرسٹ بٹالین، فرسٹ مرینز، رجیمنٹل جنگی ٹیم 6 اور افغان قومی فوج کے فوجی 27 ستمبر کو ترک نوا، افغانستان میں دوستانہ شراکت کے بعد گشت کے دوران علیحدہ ہوتے ہوۓ۔ مرینز ان فوجیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو گشتی اڈے لمباداند کے علاقے سے ہیں۔ (فوٹو منجانب انتھونی وارڈ جونئیر)
ترک نوا، افغانستان - صوبہ ہلمند کے ضلع تریک نوا، افغانستان میں داخل ہوتے ہوۓ ویپنز کمپنی کے ساتھ مرینز، فرسٹ بٹالین، فرسٹ مرینز، رجیمنٹل جنگی ٹیم 6 نے واضع طور پر فوجی موجودگی کا احساس دلایا جو تقریباً ایک سال سے اس علاقے سے غائب رہی تھی۔ 26 ستمبر کو یہاں پہنچنے پرمرینز نے چار دن کے لئے گشتی بیس لمباداند پر قبضے میں مدد کی اور افغان قومی فوج کے فوجیوں، جو ایک چھوٹے گشتی اڈے پر رہ رہے تھے، کے ساتھ مل کر گشت کی۔ کیپٹن گلین ٹیلر جو ویپنز کمپنی کمانڈر ہیں، نے کہا کہ "ہم نے حال ہی میں اپنے جنگی حلقے کو بڑھایا ہے اور اس چوکی (پی-بی لمباداند کو بھی اس میں شامل کیا ہے ۔ تو یہ جنگی علاقے اور ان اے-این-اے فوجیوں، جو یہاں موجود ہیں، کا ایک قسم کا تعارف ہے۔ ہمیں یہ بات جانچنا تھا کہ وہ اپنی مہارت میں کس سطح پر تھے اور یہ دیکھنا تھا کہ دشمن علاقے میں کیا کر رہا تھا۔" ہر روز، مرینز اے-این-اے کے ساتھ گشت کے لیۓ باہر جاتے تھے تاکہ اس نئے حاصل شدہ علاقے میں اپنی ذمہ داری کو بہتر طرح محسوس کر سکیں اور اپنے افغان ہم منصبوں کی صلاحیتوں کو جان سکیں۔ پہلی مشترکہ گشت کے دوران، مرینز اور اے-این-اے کے فوجی دشمن کی گولیوں کی زد میں آۓ۔ ٹیلر نے باغیوں کے بارے میں کہا کہ "وہ کافی عرصے سے یہ کام کر رہے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ یہاں کیا چیز کام کرتی ہے ۔ وہ ان قوانین، جن کے تحت ہم کام کرتے ہیں، کو سمجھنے میں بہت اچھا کام کرتے ہیں اور ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر عام شہری بہروپ بھرتے ہیں۔ وہ ہمارے نقطہ نظر سے کام کرتے ہیں، اپنے ہتھیار اور شناخت چھپا کر یہاں تک کہ وہ فائرنگ کی پوزیشن میں آ جائیں۔ ٹیلر نے مزید کہا کہ "دشمن ہمارے خلاف فائدہ مند موقعے ڈھونڈتے ہیں، مختلف زاویوں سے اس وقت ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے" ۔ ان کے ہتھکنڈوں کے باوجود، دشمن کا ان مرینز، جو اے-این-اے کے ساتھ ملے ہوۓ تھے، سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ ایک دفعہ جب باغیوں پر گولیاں چلیں، تو وہ سب بھاگ گۓ۔ ویپنز کمپنی اپنی کاروائی کے علاقے بھر میں گشت جاری رکھے گی جس میں پی-بی لمبادند بھی شامل ہے۔ اے-این-اے کو جتنی بھی مدد کی ضرورت ہے وہ اتنی مدد اور فوجیوں کو وہ مہارتیں، جنھیں انھیں سیکھنے کی ضرورت ہے، کے ساتھ لیس کرنا جاری رکھیں گے۔ سارجنٹ ٹرسٹن کائیزر جو ویپنز کمپنی کے ساتھ ہیں، نے کہا کہ "ہم یہاں ان جوانوں کے لیئے کچھ نئی تکنیکیں حاصل کرنا چاہیں گے، تاکہ وہ طالبان کو اپنے پیچھے آنے سے روک سکیں ۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہ علاقے ہمارے جانے تک مکمل طور پر پُرسکون ہو جاۓ گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ان کی مدد کرنے کے لئے کچھ نئی حکمت عملی ان کو دے سکتے ہیں۔" آنے والے مہینوں میں ویپنز کمپنی کی افغانستان میں تعیناتی ختم ہو جاۓ گی۔ جیسے جیسے وہ اے-این-اے کو ان کی حکمت عملی بہتر بنانے مین مدد دینا جاری رکھے ہوۓ ہیں، افغانستان کا تحفظ اور مستقبل مظبوط تر بوتا جا رہا ہے۔
|