| افغانستان سے گزرتا ہوا ارغنداب دریا میزان کے لیۓ نئی امید لے کر آیا | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Matt Young, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii) شئیرمتعلقہ خبریں
افغان نیشنل آرمی 5 ستمبر، 2012 کو کلک ہوڈ 5 کاروائی کے دوران ضلع میزان میں زیر تعمیر چیک پوائنٹ پر پیدل گشت کرتی ہوئی۔ (فوٹو منجانب میٹ ینگ)
فارورڈ آپریٹنگ بیس لغمان، افغانستان – افغان نیشنل آرمی اور بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورس ستمبر کے اوائل میں ملٹری آپریشن کلک ہوڈ 5 کے دوران میزان بول کے علاقے کو باغیوں سے صاف کرنے کے لیۓ اکٹھی ہوئیں۔ اس کاروائی کی منصوبہ بندی اور قیادت اے-این-اے کی 6 ویں کندک، دوسری بریگیڈ، 205 ویں کور کے فوجیوں نے کی اور ان کے ساتھ کمبائینڈ ٹاسک فورس ایرو ہیڈ ہر موقع پر ان کے ساتھ نگرانی اور اے-این-اے کے کمانڈروں کے سوالوں کا جواب دینے کے لیۓ موجود تھے۔ میزان بول چار گاؤں پر مشتمل ہے: پاپوزلا سلام، پوٹا قلعہ، تولکائی سلام اور ربا جوۓ۔ ضلع میزان میں افغان نیشنل سیکیوریٹی فورسز کی غیر موجودگی کی وجہ سے طالبان نے تاریحی طور پر اپنی زوردار موجودگی برقرارا رکھی ہے۔ کیپٹن برائن رئیزر ، چارلی ٹرپ کے کمانڈر، فرسٹ سکواڈرن، 14 ویں کیولری رجمنٹ، تیسری سٹرائیکر بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، دوسری انفنٹری ڈویژن نے کہا کہ "اس کاروائی نے اے-این-اے کو طالبان کے خلاف حملہ کرنے کا موقع دیا ہے۔" رئیزر نے کہا کہ "6ویں کندک کے کمانڈر، لیفٹیننٹ کرنل الطاف اللہ، اب فوج ہراول دستوں کو ارغنداب دریا تک پہنچانے کے قابل ہوۓ ہیں۔ یہ انھیں میزان بول پر قبضے کا موقع دے گا اور مقامی عوام کے لئے علاقے کو محفوظ بنانے کی اجازت دے گا" ۔ سیکورٹی اسسٹنٹ فورس ٹیم 42 کے لیڈر، میجر ناتھن وٹلاک نے دریا کو عبور کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ ٹیم 42 مشترکہ ٹاسک فورس ایرو ہیڈ کے ماتحت ہے۔ وٹلاک نے کہا کہ "ارغنداب دریا کو عبور کرنا اور میزان بول علاقے کو [باغیوں سے] صاف کرنا گاؤں اور مقامی لوگوں کی مدد کے لیۓ بہت اہم ہے" ۔ دریا کی وادی میزان ضلع کے لئے زرعی اور اقتصادی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب جب کہ طالبان کی موجودگی کو یہاں سے باہر دھکیل دیا گیا ہے، اس بات کا امکان ہے دیہاتیوں خوشحال ہوں گے اور اپنے طرز زندگی کو بہتر بنائیں گے۔ رئیزر نے کہا کہ "کلک ہوڈ 5 کے آغاز کے بعد سے، 6ویں کندک کے کمانڈر بنیادی طور پر اس پورے آپریشن کو اپنے طور پر ہی کرنے کے قابل رہے ہیں، ایساف کی بہت کم مدد کے ساتھ ۔ الطاف اللہ نہ صرف ایک نئے چیک پوائنٹ کی تعمیر کے قابل ہوۓ ہیں، بلکہ انھوں نے میزان بول کو طالبان سے بھی صاف کر دیا ہے۔" کے-ایچ 5 کے مکمل ہونے پر، اے-این-ایس-ایف میزان وادی کے سب سے زیادہ مؤثر علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ اے-این-ایس-ایف کو طالبان کو حرکت کی آزادی سے انکار اور قریبی دیہات کے لئے تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ رئیزر نے کہا کہ "افغان فوج کی یہاں موجودگی سے، طالبان کو حرکت کی وہ آزادی نہیں ہے جو اس سے پہلے ان کے پاس تھی، مقامی دیہاتیوں کو؛ ڈرانے دھمکانے کی کاروائیاں کرنے کے قابل ہونا،" ۔ "اب جب کہ اے-این-اے یہاں ہے، طالبان کو ارغنداب دریا کے اس پار اور میزان ضلع کے گاؤں سے دور دھکیل دیا گیا ہے۔" کلک ہوڈ 5 کے دوران، طالبان نے اے-این-اے کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور صوبے میں سکیورٹی روکنے کی کوششیں کیں۔ طالبان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گيا جب اے-این-اے نے ان کا مقابلہ کرنے ے لیۓ اپنی نئي قائم شدہ پوزیشن کا استعمال کیا اور انھیں ارغنداب دریا کے پار اور آس پاس کے شہروں سے نکال باہر کیا۔ ایساف کی فوجوں نے اے-این-اے کو نگرانی کی پوزیشن سے مدد فراہم کی اور اے-این-اے جنگ کو دشمن تک لے گئی۔ مشن شمال میں ارغنداب دریا کی طرف بڑھنا شروع ہونے سے قبل اتحادی فوجوں کی کافی تعداد میں خوراک، پانی، اور گولہ بارود سے لدی ہوئی گاڑریوں جو فوجیوں کے لیۓ ایک ہفتے تک کافی تھیں سے شروع ہوا۔ مشن کی تکمیل پر، دیہاتیوں کے درمیان اہم قائدین کی گفتگو کا سلسلہ کیا گیا۔ مقامی لوگ سیکیوریٹی فورسز کی موجودگی اور اس شاندار کام پر جو انھوں نے گاؤں میں امن واپس لانے کے لیۓ کیا اس پر بہت شکر گزار تھے۔ رئیزر نے کہا کہ "یہ کاروائی بہت بڑی تھی۔ لطف اللہ نے بنیادی طور پر طالبان پر یہ وضع کر دیا کہ 'اگر میں دریا عبور کرنا چاہتا ہوں تو میں کر سکتا ہوں، اورایسا کرنا میرے لیۓ مشکل کام نہیں ہے اور میں ایسا کرتا رہوں گا" ۔ رئیزر نے کہا کہ یہ کاروائی ہر لحاظ سے کامیاب رہی کمانڈ-اور-کنٹرول سے لے کر زمینی کاروائیوں تک۔ "اے-این-ایس-ایف دریاۓ ارغنداب عبور کرنے کی کاروائی کرنے میں اپنے بدف میں کامیاب رہی،" رئیزر نے کہا۔ "ہم [ایساف] برابر میں کھڑے رہے اور ان کے فوجیوں کے لیۓ نگرانی مہیا کرتے ہوۓ۔ ہمارے لیۓ اس کاروائی میں کرنے کو بہت کم تھا، اور میرے خیال میں یہ سب سے بڑی بات ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ اگر ہم وہاں نہ ہوتے، اے-این-ایس-ایف پھر بھی اس مشن کی تکمیل کے قابل ہوتی۔" |