سینٹکام کے سینئیر بھرتی شدہ لیڈر کا افغانستان کا دورہ، اندورنی خطرے کے بارے میں گفتگو Array چھاپیے Array
منجانب Sgt. Ashley Curtis, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii)
120925_grippe
کمانڈ سارجنٹ میجر فرینک اے۔ گرائیپ، یو-ایس مرکزی کمانڈ کے سینئیر بھرتی شدہ رہنما، 22 ستمبر، 2012 کو جنوبی افغانستان کے پنجوائی ضلعے میں تھرڈ سٹرائیکر بریگیڈ سیکینڈ انفنٹری ڈویژن کے کمانڈ سارجنٹ میجر سیمیول مرفی (دائیں)، اور اپاچی کمپنی فرسٹ سارجنٹ کے فرسٹ ساجنٹ مائیکل رابنسن (بائیں)، سے گفتگو کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب میٹ ینگ)

قنداھار ائیر فیلڈ، افغانستان (25 ستمبر، 2012) - افغانستان میں اندرونی خطرے سے نمٹنے کو بعض اوقات ایک افغان مسئلہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے تھیٹر میں خدمات انجام دینے والی اتحادی فورسز نمٹتی ہیں۔ کمانڈ سارجنٹ میجر فرینک اے۔ گرائیپ نقطہ نظر مختلف ہے۔

وہ دو گروہوں میں فرق نہیں دیکھتے اور ان کو ایک ہی گروہ سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جنگ میں افغان نیشنل سکیورٹی فورس کے ارکان کی اتحادی افواج پر اپنے ہتھیار استعمال کرنے کے خطرے کو کم کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

گرائیپ، امریکہ کے مرکزی کمان کے سینئر بھرتی شدہ رہنما نے کہا کہ "ایک فورس کے طور پر ہماری فورس کو ایک اندرونی مسئلہ درپیش ہے، تو یہاں پر اہم الفاظ "ہم" اور "ہمارا" ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری فوج کے اندر ایسے افراد ہیں جنہوں نے ہماری فوج کے اندر ساتھی شراکت داروں کو قتل کیا ہے۔ یہ افغانوں کے لیئے بھی اتنا ہی ایک مسلہ ہے جتنا کہ امریکی اتحادی فوج کے لیئے۔ اور یہاں امریکی افواج میں ہم نے اسے ایک داخلی خطرہ قرار دیا ہے۔"

افغان نیشنل آرمی کے فوجی اور افغان نیشنل پولیس کے مختلف گروہ، جن کو اجتماعی طور پر افغان نیشنل سکیورٹی افواج کے طور پر جانا جاتا ہے، گزشتہ دہائی سے افغانستان میں ایک پائیدار اور پیشہ ورانہ سکیورٹی کی موجودگی پیدا کرنے کے لیۓ اتحادی افواج کے ساتھ شراکت میں ہیں۔

گرائیپ نے اپنے افغانستان میں حالیہ علاقائی کمانڈ (جنوب) کے دورے کے دوران یاد کیا "جب میں پہلی مرتبہ نومبر 2001 میں وہاں پہنچا، تو ذاتی طور پر، ملیشیاؤں کے برابر لڑ رہا تھا۔ جب 2004 میں یہاں آیا، تو میں پھر بھی ملیشیا کے برابر لڑ رہا تھا، لیکن ہم اس کے ساتھ ساتھ اے-این-اے کو مظبوط بنا رہے تھے ۔ 2012 میں، ہمارے پاس ایک بڑی، پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوج ہے جو ہماری شراکت دار ہے۔"

انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ آج، "ہمارے پاس 300،000 سے زیادہ افغان نیشنل آرمی کے وردی میں ملبوس فوجی ہیں، ایک مضبوط مرکزی حکومت ہے، ہمارے پاس افغان پولیس کے چند لاکھ مختلف عناصر ہیں، اور ہم اس قوم میں بہت سا استحکام، پولیس اور تحفظ لا رہے ہیں۔"

گرائیپ اندرونی حملوں کے خطرے کو تسلیم کرتے ہیں جو اس ترقی کو لاحق ہیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیۓ تربیت اور شعور کی بیداری کے استعمال کے لیۓ فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ تمام فوجیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ کمانڈنگ جنرلوں سے لے کر بھرتی شدہ جونئیر فوجیوں تک علم حاصل کریں اور ثقافتی اختلافات کے بارے میں احساس اور حساسیت رکھیں۔

گرائیپ نے کہا کہ "میں کہوں گا کہ اندرونی خطرہ75-80 فیصد ثقافتی اور مذہبی اختلافات کی بنا پر ہے جس میں ہم اپنی طرف سے آسانی سے قیادت، مناسب تربیت، تعلیم اور نظم کے ذریعے آسانی سے ترمیم کر سکتے ہیں ۔ اور شاید20 فیصد کے قریب ہیں، جو ہمارے دشمنوں کی طرف سے ایک مہم کے ذریعے لوگوں کو ہماری فوج میں داخل کر دیتے ہیں تاکہ اس قسم کی تباہی پھیلائی جا سکے۔"

افغانستان میں اتحادی افواج نے اے-این-ایس-ایف کی افوج کے ساتھ شراکت کے لیۓ گارڈیئن اینجل نامی پروگرام کو شروع کیا ہے۔ پروگرام کے تحت گروہ میں سے کم از کم ایک شخص کو اضافی طور پر چوکس رہنے اور شراکتی کارروائیوں کے دوران کسی اندرونی حملہ ہونے کے موقعے پر رد عمل کا اظہار کرنے کے لئے تربیت دی گئی ہے۔

بھرتی شدہ سینئر رہنما جانتے ہیں کہ اتحادی افواج اس خطرے کی وجہ سے اس کام ،جو اے-این-ایس-ایف اور نیٹو فورسز نے یہاں مل کر انجام دیا ہے، کو تباہ نہیں کرنے دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اس مسئلے کو ہماری شراکت توڑنے کا موقع نہیں دے سکتے، خاص طور پر اپنی مہم کی منصوبہ بندی کے اس اہم وقت کے دوران ۔ ہمارا کندھے سے کندھا ملا کر رہنا، زیادہ اعتماد دکھانا، تربیتی مشق اور اپنی افغان مسلح افواج کی صلاحیت بنانے کا کام جاری رکھنا ، خاص طور پر ہمارے افغانستان سے کامیابی اور عزت دار کے ساتھ ذمہ دار انخلا کے لیۓ، اور بھی ضروری ہوگیا ہے ۔"