اپنی ڈرائنگز کے ذریعے افغان بچوں اتحادی افواج کے ایس-او-ایف کا شکریہ ادا کرتے ہیں Array چھاپیے Array
منجانب Maj. Cindi King, Combined Joint Special Operations Task Force
120910_pictures
سیکینڈ پلاٹون، جنگ کی کمپنی، سیکینڈ بٹالین اتحادی افواج کے طبی عملے کا رکن، سپیشل آپریشن فورسز کی مدد کو تفویض، صوبہ میوند کے ایک طبی کلینک میں مقامی افغان بچوں کی طرف سے دی گئی تصاویر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب میجر سینڈی کنگ(


میوند، افغانستان (10 ستمبر، 2012) جس کو بھی ایک چھوٹے بچے سے کبھی ایک تصویرموصول ہوئی ہے، وہ اس بات سے واقف ہوگا کہ یہ عمل اعتماد اور دوستی کا خالص اظہار ہے۔ میوند ضلع میں ایک دور دراز کے طبی کلینک جس کو اتحادی افواج کی خصوصی آپریشن فورسز چلاتی ہیں، کے دروازے پر، کئی مقامی بچوں کی طرف سے طبی عملے کے ارکان کو دی گئی تصویریں لٹکی ہوئی ہیں۔

سپیشل آپریشنز فورسز کی مدد کے لیۓ تفویض ڈاکٹر نے کہا کہ "ہمارے کلینک کا اکثر اوقات بچے دورہ کرتے ہیں،" ۔ “کچھ تصاویر ایک چھوٹے 7 سالہ افغان بچے نے ہمارے تین ماہ تک اس کی 4 سالہ بہن کا علاج کرنے کے بعد بنائی تھیں۔"

بی بی آمنہ، ایک چھوٹی افغان بچی کو اس کا بڑا بھائی کلینک لایا تھا کیونکہ اس کے سر پر بہت بُری طرح سے عفونت پھیلی ہوئی تھی۔ طبی علے نے اس کی شناخت ایک جلدی بیماری کی ایک قسم کے طور پر کی اور اس کا علاج شروع کیا۔

طبی عملے کے رکن نے کہا کہ "اس کی عفونت اتنی بُری تھی کہ ہمیں اس کے سر پر پٹیاں باندھنی پڑیں اور تین ماہ تک اسے روز دیکھا،" ۔ "ہم نے اس کو 'کیو ٹپ' کا لقب دے دیا تھا کیونکہ جب اس کا سر پٹیوں سے لپٹا ہوا تھا تو وہ ایک تنکے کے سرے پر لگی روئی کا پھایا لگتی تھی۔"

بی بی آمنہ کے علاج کے دوران، وہ اور اس کا بھائی ان کھلونوں سے کھیلتے تھے جو انھیں سپیشل آپریشن فورسز کی طرف سے دیۓ گۓ تھے یا تصاویر بناتے تھے۔ ایک صبح، دونوں بچے کلینک پر اپنی ڈرائنگز کے نمونوں کے ساتھ آۓ اور طبی عملے کے ارکان کو پیش کیۓ۔

طبی عملے کے رکن نے کہا کہ "میں ان تصاویر کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ انھوں نے اپنی تصویروں میں ہماری تفصیلات پر کتنی توجہ دی تھی" ۔

ایک تصویر میں فوجی گاڑی پر لگا مواصلات کا اینٹینا دکھایا ہے، ایک امریکی فوجی کی رائفل پر دوربین لگی ہوئی ہے، اور یہاں تک کل ہیلمٹ پر تھوڑی کی پٹی بھی ہے۔
طبی عملے کے رکن نے کہا کہ "ہم نے تصاویر لٹکا دیں تاکہ بچے انھیں دیکھ سکیں اور یہ جان لیں کہ ہم ان کے فن مصوری کو سراہتے ہیں" ۔

طبی عملے کے ارکان اکثر گاؤں میں بی بی آمنہ کو دیکھتے ہیں اور اس بات پر بہت خوش ہیں کہ اس کے سر کی حالت ٹھیک ہو گئی ہے اور اس کے بال پھر سے نکل آۓ ہیں۔ جب وہ طبی عملے کے ارکان کو دیکھتی ہے، تو وہ ہمیشہ مصافحہ کرنے کے لیۓ آتی ہے۔ خصوصی آپریشن فورسز کے اس طبی عملے کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ بچے افغانستان کا مستقبل ہیں، اور شاید وہ بڑے ہو کر ان کی مہربانی کو یاد رکھیں۔

سپیشن آپریشن فورسز کے طبی عملے کے رکن نے کہا کہ "مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ تعلق پیدا کر سکتے ہیں" ۔ "بچے بہت صاف دل کے ہوتے ہیں اور ان کے لیۓ اُمید قائم ہے"