| ائیر فورس کا کیپٹن اپنے افغان ساتھیوں کے لیۓ ایک مدد گار | Array چھاپیے Array |
منجانب Spc. Nevada Jack Smith, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii)
ائیر فورس کیپٹن نک پلینٹ 14 اگست، 2012 کو ارزگان صوبائی گورنر کے احاطے میں افغان شراکت داروں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیۓ تیاری کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سپیشل نیواڈا جیک سمتھ)
تارن کوٹ، افغانستان (28 اگست، 2012) - اپنی داڑھی اور لمبے بالوں کے ساتھ، ایئر فورس کیپٹن نک پلینٹ افغانستان میں خدمت انجام دینے والا کوئی عام غیر ملکی نہیں ہے۔ ایک مقامی شہری کی طرح ملبوس مقامی لوگوں کے ساتھ مثبت بات چیت کی سہولت میں مدد کرتے ہوۓ پلینٹ، کثیرالقوامی اڈے تارن کوٹ کے لئے [افغان ہاتھ پروگرام] کے ساتھ کام کرتا ہے۔ پلینٹ نے کہا کہ "افغان ہاتھ پروگرام" تجربہ کار اور پُر جوش فوجی ارکان کو ان کے افغان شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے استعمال کی غرض سے بنایا گیا تھا ۔ اب جب کہ افغان جنگ کی توجہ لڑائی سے ہٹ کر اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ افغان قومی سکیورٹی افواج اپنے طور پر حالات کو برقرار رکھنے کے قابل ہوں، تو موثر رابطے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پلینٹ اس بات کو جانتے ہیں اور اسی لیئے جب ان اس فیلڈ میں کام کرنے کا موقع ملا تو وہ اس پر کود پڑے۔ "میں جرمنی میں ایک باقاعدہ عملے کے طور پر کام کرنے کے لیۓ تیار تھا جب میں نے پبلک افیئرز افسران کی رضاکارانہ خدمات کے لیۓ ایک درخواست دیکھی۔ تب سے میں نے اس کے لیئے تربیت شروع کی۔" پلینٹ نے افغان ہاتھ پروگرام کے ساتھ افغانستان میں تعیناتی سے پہلے چار ماہ زبان کی تربیت اور ثقافتی سیمینار کے ساتھ ساتھ موجودہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں گزارے۔ پلینٹ نے کہا کہ ایک مختلف قسم کی زبان سیکھنا بہت مشکل کام تھا، لیکن میں اسے ایک بوجھ نہیں کہوں گا ۔ کوئی بھی نیا کام مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا آپ اسے بنا دیتے ہیں۔ اپنی تربیت کے لئے جوش کے ساتھ، پلینٹ نے فوری طور پر اپنے کردار میں قدم رکھا اور افغانستان میں امن اور دوبارہ انضمام کے پروگرام کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ اے- پی- آر- پی ایک تین مرحلوں پر مبنی عمل ہے جس کے ذریعے سابقہ باغیوں کو افغان معاشرے میں تخلیقی ارکان کے طور پر واپس لانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ ان تک پہنچنے کا ہے، جہاں مقامی رہنما یہ بات پھیلا دیتے ہیں ہے کہ باغی اپنے ہتھیار پھینک کر اپنی شکایتیں ایک پُر امن طریقے سے بیان کر سکتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ ان کو باغیوں کے حلقے سے فارغ کرنے کا ہے، جہاں سابقہ باغی اس پروگرام میں اپنا نام درج کرواتے ہیں اور اپنے بتھیار تسلیم کر دیتے ہیں۔ پلینٹ نے کہا کہ "آخر میں معاشرتی بحالی ہے، جو چھوٹے امدادی پراجیکٹ معاشرے تک لاتی ہے، اور اس معاشرے کے لوگ ان باغیوں کو قبول کرتے ہیں" ۔ پلینٹ نے دوبارہ ضم ہونے کے پروگرام میں اپنے کردار کا ذکر عاجزی سے کیا۔ پلینٹ نے کہا میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ افغانوں کو اس پروگرام میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور مجھے انھیں ان کامیابیوں کے حصول میں مدد کرنے کا اعزاز حاصل ہے" ۔ 100 سے زیادہ ضم ہوۓ لوگوں نے اس میں اندراج کروایا پروگرام اپنی کامیابی کا خود اظہار کرتا ہے۔ پلینٹ نے کہا کہ "میں یہاں پچھلے دس ماہ سے ہوں اور جب میں اکتوبر میں یہاں آیا تھا تو شاید ہی یہاں کوئی ان تک پہنچنے کا رابطہ تھا، یہ تمام مرکزی بنیادوں پر تھا۔" پلینٹ نے کہا کہ لیکن جو افغانوں نے کیا ہے وہ اپنی مدد آپ ہے۔ انہوں نے ایک منصوبہ تیار کیا اور اس پروگرام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا شروع کر دیا ۔ پلینٹ نے افغان شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے جو سبق سیکھے ان کے بارے میں بات کی۔ پلینٹ نے کہا کہ سچ بات یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ میں خوش قسمت تھا۔ میرے خیال میں میرے پاس سب سے بہترین کام ہے ۔ افغان ثقافت، خاص طور پر جنوب میں، احترام پر مبنی ہے۔ یہاں اگر آپ لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آئیں تو آپ نے 70 فیصد لڑائی پہلے سے ہی جیت لی ہے۔ شراکت کے ذریعے پلینٹ نے یہ جانا ہے کہ یہ صرف میدان جنگ ہی جیتنے کی جگہ نہیں ہے۔ پلینٹ نے کہا کہ "اس کام نے مجھے ایک بہتر نقطہ نظر فراہم کیا ہے۔ جنگ صرف دشمن کو مارنے اور کاروائیوں کے تسلسل کا نام نہیں ہے" ۔ "جب آپ انسداد بغاوت کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے بہت سے سلسلے ہیں، لیکن اے – پی – آر – پی لوگوں کو میدان جنگ سے ہٹانے اور اور خون بہاۓ بغیر جنگ جیتنے کا ایک موقع دیتی ہے۔" پلینٹ جلد ہی اپنی کامیاب تعیناتی کے بعد واپس گھر لوٹیں گے۔ اگرچہ پلینٹ کا ارادہ گھر پہنچنے کے بعد آرام کرنے کا ہے پھر بھی وہ افغانوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے مزید تربیت کے لیۓ پُر جوش ہیں اور گھر پہنچنے کے بعد ایم-اے کریں گے۔ جب ان سے ان کے خاندان کے بارے میں پوچھا گیا تو پلینٹ نے کہا، "ہم سب یہاں خدمت سر انجام دیتے ہیں، لیکن ہمارے خاندان بھی قربانی دیتے ہیں جب ہم انھیں چھوڑ کر جاتے ہیں .میں ان کی مدد کا شکر گزار ہوں۔" گھر واپس جانے سے صرف چند ہفتے قبل پلینٹ ان کے افغان ہم منصبوں کو الوداع کہنے میں مصروف رہے ہیں اور اگرچہ وہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، وہ اپنے قیام کے دوران قائم کردہ دوستی اور حاصل شدہ مقاصد کے ذریعے ایک وراثت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ شر خاطب محمد شاہ، ارزگان صوبائی امن کمیٹی کے چیئرمین، نے پلینٹ کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر کیا۔ شاہ نے کہا کہ "نک ایک بہت بہادر اور عمدہ انسان ہے۔ میرے لیۓ ایک دوست سے بھی بھر کر ایک بھائی ہے،" ۔ ایک سال جو انہوں نے ہمارے ساتھ کام کرنے میں گزارا ہے اس سےہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔اگرچہ ہم انھیں جاتا دیکھ کر اداس ہیں، پھر بھی اس بات سے خوش ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے پاس واپس جا رہے ہیں۔ ہمیں انھیں جاننے پر فخر ہے۔" |