| مسلمان مرین اپنے ملک اور ایمان کی خدمت میں | Array چھاپیے Array |
منجانب Cpl. Anthony Ward Jr., Regional Command Southwest![]() صوبہ ہلمند، افغانستان (24 اگست، 2012) - ہر سال، لاکھوں مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ مناتے ہیں۔ اس سال اس کا اختتام 18 اگست، 2012 کو ہوا۔ اس کو منانے کا ایک حصہ طلوع سورج سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھنا ہے، جو کہ کارپورل ملیک میجولی نے جنگی علاقے میں اپنی تعیناتی کے دوران کیا۔ میجولی ایک پکا مسلمان ہے اور صوبہ ہلمند، افغانستان میں خدمات سرانجام دیتے ہوۓ اپنے دین کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان رمضان کے دوران تمام دن کھانے، پینے، اور دیگر جسمانی ضروریات سے پرہیز کرتے ہیں۔ روزے ميں نہ صرف کھانے پینے بلکہ بُرے افعال، خیالات اور الفاظ سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔ میجولی نے اپنے ايمان کے اعمال کے بارے میں کہا۔ آپ بس اس کو برداشت کرتے ہیں۔ میں یہاں روزوں کے دوران پانچ دن تک بیمار تھا، پھر بھی روزے رکھنے کی پوری کوشش کی ۔" دل کو دنیاوی سرگرمیوں سے دور لے جاتے ہوۓ اور جسم اور روح کو نقصان دہ آلودگیوں سے پاک کیا، روزے کا عمل روحانی عکاسی کا ایک حصہ ہے، رمضان کے دوران عقیدت اور عبادت میں اضافہ کیا جاتے ہے۔ روزے کے دوران، میجولی نے براووہ کمپنی، فرسٹ بٹالین، فرسٹ مرین، رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 6 کے لیۓ ریڈیو آپریٹر کی حیثیت سے اپنے روز مرہ کے فرائض جاری رکھے۔ انھوں نے کہا کہ "میرے لیۓ یہ کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے" ۔ " میں روزے رکھ رہا ہوں، لیکن اگر وہ مجھے باہر کسی کام سے بھیجیں اور مجھے کچھ کرنے کو کہیں تو میں اسے کروں گا۔" شکاگو کا یہ مقامی مسلمان گھر میں پلا بڑھا تھا۔ میجولی نے کہا کہ "میرے والد نے میری تربیت اسی طرح کی تھی۔ یہ ایک لطف اندوز تجریہ تھا" ۔ ان کا خاندان اندرون شہر میں رہتا تھا اور آخر کار جب وہ 17 سال کا ہوا تو وہ سب مضافات منتقل ہو گۓ۔ اس دوران، ان کے خاندان نے ایک نۓ موڑ کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کیا۔ میجولی کے والد نے اپنے بچوں کو اس بات کے انتخاب کی اجازت دی کہ وہ کن مذہبی طریقوں پو عمل کریں گے اور کن پر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ "میری بہن سر ڈھانپنے کے روائتی حجاب کے لیۓ بہت چھوٹی تھی اور میرے والد نے کبھی ہم سے اس بات پر زبردستی نہیں کی" ۔ "میرا تمام خاندان روزے رکھتا تھا۔ میں پچھلے سال روزے نہ رکھ سکا کیونکہ میں بوٹ کیمپ میں تھا؛ میں شائد مر ہی جاتا" ۔ فوج میں شامل ہونے کے ڈیڑھ سال بعد، میجولی اب بھی دین پر عمل کر رہا ہے اور افغانستان میں آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ میجولی نے کہا کہ "افغان یہ نہیں جانتے کہ میں مسلمان ہوں، وہ مجھے باقی مرینز کی طرح ہی دیکھیں گے" ۔ میجولی کی افغانستنان میں تعیناتی اختتام کو پہنچ رہی ہے،تب تک وہ اپنے وطن کی خدمت اور اپنے دین کی رسومات پر عمل کرکے اپنے خاندان کا نام روشن کررہا ہے۔ |