ایچ ایم ایچ – 466 کے ساتھ مرینز نے صوبہ ہلمند میں آخری پرواز کی Array چھاپیے Array
منجانب Cpl. Kenneth Jasik, Regional Command Southwest
 120815_helicopter
14 اگست کو کمیپ بیشن پر مرینز ہیوی ہیلی کاپٹر سکوارڈن 466، تسیرے مرین فضائی ونگ (فارورڈ) کے ساتھ مرینز ایک سی ایچ – 53 ای ہیلی کاپٹر میں دوبارہ ایندھن بھرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب کینتھ جیسک)

صوبہ ہلمند، افغانستان (15اگست، 2012) – پچھلے سات مہینوں کے دوران، مرینز ہیوی ہیلی کاپٹر سکوارڈن 466 کے ساتھ مرینز اگلی صفوں پر فوجوں کو رسد کی فراہمی جاری رکھے ہوۓ ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ حکمت عملی کے طور پر ان کو خطرناک علاقوں میں گھسا رہے ہیں اب جب اتحادی فوجیں لڑائی کو دشمن تک لے جارہی ہیں۔

سکوارڈن کے مرینز نے 14 اگست کو ملک واپس لوٹنے سے پہلے آخری پرواز مکمل کی۔

"ہم نے (علاقائی کمان جنوب مغرب) تمام مرینز کی روزانہ مدد کی،" کیپٹن جیمز A. اے ایورٹ، ایچ ایم ایچ – 466 کے ایک پائلٹ نے کہا۔  "ہم نے بہت سے لوگوں اور کارگو کو منتقل کیا۔"

مشن کی عام مدد کے علاوہ، سکواڈرن نے باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں فوجیوں کو گھسانے کے لیۓ متعدد پروازیں کیں ہیں۔

"ہم نے حکمت عملی کے طور پر بہت سے مشن کیۓ، بہت سے چھاپے مارے، 28 سالہ ایورٹ جو ڈونلی، آئیڈاہو سے ہیں نے کہا۔ "دونوں ہمارے فوجیوں کے ساتھ اور آسٹریلینز کے ساتھ۔ ۔ میں نے برطانویوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے، انھیں چند جگہوں پر اتارا تھا۔"

سکواڈرن نے کاروائیوں کے دوران مرینز کو رسد فراہم کی۔ جب مشن نے فوجیوں کو کسی بھی اتحادی بیس سے دور بھیجا، ایچ ایم ایچ- 466 نے رسد فراہم کی۔

"میرے خیال میں (افغانستان میں مشنوں کی مدد) شاندار ہے،" ایوریٹ نے کہا۔ "حملے میں مدد کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ہم مرینز کے لیئے بہت بڑی تعداد میں سامان پہنچا سکتے تھے۔ میرے خیال میں مرین کور کو اس قسم کی فضائی ترسیل جو ہم کرتے ہیں کے لیۓ سب سے بہترین اثاثہ ہیں۔"

ایچ ایم ایچ – 466 کو تعیناتی سے پہلے مرتب کیا گيا تھا جس میں ملک کی مشرقی اور مغربی علاقوں سے مرینز شامل کیۓ گۓ۔

"میرے خیال میں یہ تعیناتی بہت اچھی تھی، توپ خانے کے سارجنٹ مائیکل جی۔ لیسٹر، رسد کے چیف، ایچ ایم ایچ – 466 نے کہا۔ "شروع میں مشکلات تھیں، لیکن ایک بار جب سب نے مل کر کام کیا، وہاں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو ہم نہیں کر سکتے تھے۔"

مرینز نے مسلسل اڑانیں کیں، اور اس سے نۓ مرینز کو یہ سیکھنے کا موقع ملا کہ کس طرح مناسب طریقے سے کارگو، مسافروں کو چڑھایا جاتا ہے اور طیارے پر لگی بندوقوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔

"ہمارے فضائی عملے میں سے بہت سے وہ نوجوان لوگ ہیں جو ہماری سکواڈرن میں اپنی شمولیت کے فورا" بعد آۓ تھے اور ہمارے ساتھ سمجھدار ہوۓ۔ وہ پھل پھول کر سینئیر عملے کے چیف بن گۓ۔ انھوں نے واقعی میں بہت اچھا کام کیا۔"

مرینز اپنے کام پر بہت فاخر ہیں، لیکن وہ افغانستان میں سات ماہ کے بعد واپس گھر جانے کے لیۓ تیار ہیں۔

"ہم یہاں آئے اور وہ سب کچھ کیا جو ہمیں کرنے کو کہا گیا تھا،" ایوریٹ نے کہا۔ "ہم نے کوئی بھی مشن نہیں چھوڑا نہیں کیا اور ہم نے اس سے کہیں زیادہ کیا جس کی میں نے کبھی بھی توقع کی تھی کہ ہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ اب جب کہ ہم گھر واپس جا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے جیسے ہم اس کے اچھی طرح مستحق ہیں۔ ہم سب واپس گھر جانے پر کافی پرجوش ہیں۔"

مرینز سکواڈرن کا حصہ ہونے پر فاخر تھے، اور کہا کہ ان کی کوششیں زمین پر کام کرنے والے فوجیوں کے لیۓ ایک بڑا اثاثہ تھیں۔

"میرے خیال میں یہ شاید ان سکوارڈنوں میں سے بہترین ہے جن کے ساتھ میں نے کبھی بھی کام کیا ہے،" 31 سالہ لیسٹر، جو کلیولینڈ سے ہیں نے کہا۔ "جس طرح سے سکواڈرن کو چلایا جاتا ہے وہ جدید ترین ہے۔"