| افغان کمانڈوز ضلع شنوار میں پرواز کے لیئے تیار | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Jenie Fisher, Combined Joint Special Operations Task Force شئیرمتعلقہ خبریں
فرسٹ خصوصی آپریشنز کندک کے کمانڈوز 25 جولائی کو کابل صوبے میں ایم آئی- 17 ہیلی کاپٹر کے ساتھ اپنے بل بوتے پر پہلے مشن، جس کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل آزادانہ طور پر کیا گيا، کے لیۓ ہیلی کاپٹر میں سوار ہوتے ہوۓ۔ (فوٹو پیٹی آفسر تھرڈ کلاس جاشوا ڈیوئیس)
صوبہ ننگر ہار، افغانستان (7 اگست، 2012) – تھرڈ کمپنی، فرسٹ کمانڈو کندک، جن کو یو-ایس سپیشل فورسز کی مشاورت حاصل تھی، نے 25 جولائی کو ضلع شنوار میں اپنے چار ہیلی کاپٹروں کی مدد سے باغیوں کی ایک پناہ گاہ کو ان سے خالی کروا لیا۔ مشن کے دوران، کاروائی کی رفتار اور اثر کو بڑھانے کے لیۓ کمانڈوز نے چار افغان ایم آئی-17 ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ افغانستان نے کسی علاقے میں داخل ہونے کے لیۓ زمین پر موجود امریکی افواج کی مدد کے بغیر اپنے سپیشل آپریشنز کے لیۓ وقف فضائی اثاثوں کا استعمال کیا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل ولیم لن، سپیشل آپریشنز ٹاسک فورس وسطی کمانڈر نے کہا کہ کمانڈوز بہت پُر جوش ہیں اور انھوں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک گروہ کی طرح اپنے مشن کو سر انجام دے سکتے ہیں ۔ ان کے فضائی اثاثوں کا نفاذ ان کی افغانستان بھر میں باغیانہ سرگرمیوں کو کچلنے کے لیۓ، جس سطح کی مہارت کی ضرورت تھی ،ان کی عظیم ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔" لن نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ جن عمارتوں میں یہ کاروائی کی گئی تھی اس کے آس پاس تہ در تہ کھیتی باڑی کی زمین اور جگہ گھنے پودوں موجود تھے۔ ایم آئی- 17، اتنا بڑا ہے کہ ایک پوری پلاٹون کو اٹھا سکتا ہے، یہ رفتار اور کارکردگی کے ساتھ اس طرح کے علاقوں سے گزر سکتا ہے۔ اس تاریخی مشن میں ہیلی کاپٹر کو فوجیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیۓ استعمال کیا گیا، کمانڈوز کو دغاہ گاؤں تک لانے کے لیۓ، جہاں انھوں نے اپنے مخصوص ہدف والے علاقے کو باغیوں سے صاف کیا جس میں مشتبہ باغیوں کی کئی عمارتیں شامل تھیں۔ اب جبکہ ایم آئی-17 کے استعمال نے اس موقعے کو منفرد بنا دیا ہے، صرف یہی نہیں ہے جس نے اسے فرسٹ کمانڈو کندک کے لئے ایک سنگ میل بنا دیا ہے۔ خصوصی دستوں کے ٹیم لیڈر نے کہا کہ یہ مشن، اور اس تک پہنچنے کے لیۓ اس طرح کے کئی اور مشن، اس بات کا حتمی ثبوت ہیں کہ افغان خصوصی آپریشن فورس اس قابل ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر، امریکہ کی براہ راست ٹیکٹیکل مدد کے بغیر، مشن کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کر سکتی ہے ۔فرسٹ خصوصی آپریشنز کندک کے جوانوں نے خود سے کئی کامیاب مشنوں کی منصوبہ بندی اور انھیں منظم کیا ہے،علاقے میں امریکی موجودگی کے بغیر، جس کے نتیجے میں دشمن کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری ہو سکی۔ اب انہوں نے ایم آئی-17 کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے اور ہم محض مبصرین ہیں۔ آپریشن ان باغیوں کو منتشر کرنے کے لیۓ کیا گیا تھا جو ایک سے زیادہ منشیات بنانے کی لیبارٹری چلا رہے تھے، اور اس دوران دیہاتیوں کو دھمکیوں اور سڑک کنارے نصب بموں کے ذریعے دھمکا رہے تھے۔ کمانڈوز نے علاقے میں باغیوں کے نیٹ ورک کو منشتر کر دیا اور مشتبہ باغیوں کے زیر استعمال خفیہ فوجی سازو سامان بھی پایا۔ لن نے کہا کہ "اب جب کہ کمانڈوز اپنے مشن میں بہت فخر محسوس کرتے ہیں، ایم آئی – 17 کے فضائی اثاثوں کا استعمال فوج کی قابلیت میں بہت زیادہ اضافہ کرتا ہے ۔ آپریشن بہت خوبی سے کیا گیا جس میں بالکل بھی کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا نقصان ہوا۔" |