| فوجیوں نے کامیابی حاصل کرکے اپنا کام ختم کر لیا | Array چھاپیے Array |
منجانب Staff Sgt. Justin Weaver, U.S. Air Forces Central Command Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
یو-ایس سٹاف سارجنٹ اینتھونی ریوس، جو جوائنث میڈیکل آپریشنز سنٹر میں حفظان صحت کے رہنماء ہیں، 14 جولائی، 2012 کو کمیپ سٹون، افغانستان میں ایک کھانا کھانے کی عمارت کا معائنہ کرتے ہوۓ۔ جے-ایم-او-سی افغانوں کی پائیدار طبی مدد کے نظام کے ارتقاء میں مدد دیتا ہے۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ گریگ سی۔ بیاونڈو)
کیمپ سٹون، افغانستان (31 جولائی، 2012) - زیادہ تر لوگ اپنی کامیابی کی وضاحت اپنے آپ کو نوکری سے باہر نکالنے کے طور پر نہیں کریں گے، لیکن مشترکہ میڈیکل آپریشنز مغربی افغانستان میں واقع ایک سیل کا بالکل یہی مقصد تھا۔ اب جب طبی مشیر اور رہنماء تمام طبی ذمہ داریوں کی منتقلی افغان نیشنل آرمی ہسپتال اور افغان نیشنل پولیس کے مقامی تربیتی مرکز پر افغان کنٹرول میں دے رہے ہیں تو یہ جو 2006 میں ایک 20 رکنی مضبوط طبی ٹیم کے طور پر شروع ہوئی تھی اب کم ہو کر 6 افراد پر مبنی ہے ۔ ذمہ داریوں کی منتقلی میں مریضوں کی انتظامیہ، تخدیریات، انٹرنل میڈیسن، ریڈیولاجی، تجربہ گاہیں اور انتہائی نگہداشت یونٹ شامل ہیں۔ امریکہی بحریہ کمانڈر جینس روش، جو جے-ایم-او-سی کی کمانڈر ہیں اور جو یہاں بحری آپریشنل سپورٹ مرکز لوئیز ول، کینٹکی سے تعینات ہیں، نے کہا کہ "جے ایم او سی کا مقصد افغانوں کو برقرار رہنے کے قابل ملٹری طبی امداد مہیا کرنے کے سسٹم کی تعمیر ہے ۔ ہماری ٹیم شاندار رہی ہے۔ ہر شخص علم رکھتا ہے اور افغانوں کو اپنے مشن میں کامیابی اور جے-ایم-او- سی مستقبل بعید تک اپنی طبی کاروائیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیۓ مخلص ہے۔ وہ اس کام کو سنبھالنے کے لیۓ تیار ہیں۔ جے-ایم-او-سی کے پاس منتقلی کے لئے بہت کم پروگرام رہ گۓ ہیں اس سے پہلے کہ وہ اپنے کام کو مکمل سمجھیں۔ سب سے زیادہ اہم میں سے دو بائیومیڈیکل سامان کا تکنیشین پروگرام اور حفظان صحت کی ادویات کے پروگرام ہیں۔ میجر ہوزے ڈیئیز اور اسٹاف سارجنٹ انتھونی ریوس، حفظان صحت کی دواؤں کے رہنماء ، افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کو کھانے کے مناسب معائنے، کیمپوں کی صفائی، چھوت کی بیماریوں کے کنٹرول اور حفظان صحت کی دواؤں کے دیگر پروگراموں میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ریوس، جو ڈلاس، ٹیکساس کے ایک مقامی ہیں، نے کہا کہ "ائیر فورس میں نے سیکھی ہوئی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوۓ میں یہاں افغانستان میں ان لوگوں کی پروگرام کی تعمیر میں مدد کرنے کے قابل ہوں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ جو کچھ ہم نے انھیں سکھایا ہے وہ اُسے اپنا لیں گے اور اُسے روزانہ استعمال کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ان کی مہارتوں کو استعمال کرنے کے قابل ہوں گے اور اگر ایک وبا پھیلے گی تو وہ یہ جانتے ہوں گے کہ کیا کرنا ہے۔" 15 جون کو، افغان نیشنل پولیس کے کرنل عابدیانی ترئیی، 606ویں انصار علاقائی کمان کے نائب کمانڈر، نے افغانستان کے مغربی علاقے کے لئے جے-ایم-او-سی کے رہنماؤں کے ساتھ ہفتوں کی ہم آہنگی کے بعد پہلے سرکاری کھانے کی حفاظت اور حفظان صحت سے متعلق ہدایات نامے پر دستخط کئے۔ بیس، ٹیکساس ڈئیز، جو لافلن ایئر فورس پر47ویں میڈیکل گروپ سے تعینات کیۓ گۓ ہیں کہ"یہ اس وقت اہم ہے جب اے-این-پی کے حفظان صحت کے تکنیکی ماہرین خوراک اور کھانے کی سہولیات کا معائنہ کرتے ہیں۔ ان کے پاس اب ایک سرکاری دستاویز ہیں جن پر علاقائی کمانڈر کی طرف سے دستخط کئے گۓ ہیں جو یہ بیان کرتی ہے کہ وہ اب کون سے معیار کی پیروی کریں گے ۔ یہ اب عوامی صحت کی پالیسی ہے، جو ان کو معیار کو نافذ کرنے کے لئے اتھارٹی دیتی ہے۔" ڈئیز نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ اے-این-اے کے حفظان صحت کے تکنیکی ماہرین اس نئی ہدایت کے ساتھ بہت خوش ہیں اب جب وہ ان سہولیات کا دورہ کریں گے تو انھیں اپنے کمانڈر کی حمایت حاصل ہے اور صحت کے معیار کو لاگو کرنے کے لیۓ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مناسب طریقہ کار اپناۓ جائیں۔" بائیو میڈیکل سازوسامان کے مشیر اور رہنماء بھی ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جو افغان تکنیکی ماہرین کو یہ سیکھنے کا موقع دیتا ہے کہ کس طرح ہسپتال میں آلات کے مسائل کو حل اور ان کی مرمت کی جائے۔ یہاں سیکھی گئی مہارتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی اہم ہیں کہ افغانیوں اور ان کے خاندانوں کو اس طبی دیکھ بھال کی فراہمی کی جاۓ جس کی انہیں ضرورت ہے۔ پیٹی افسر سیکینڈ کلاس جوزف نیڈیڈوگ،جو جے-ایم-او-سی کے ساتھ بائیو میڈیکل سازوسامان کے مشیر اور امریکی بحریہ ہسپتال یوکوشوکا، جاپان میں کورمین ہیں، نے کہا کہ "اس پروگرام (بائیو میڈیکل سازوسامان تکنیشین) کے سب سے اہم مقاصد میں سے ایک سازو سامان کو برقرار رکھنا اور اسے متوقع زندگی تک استعمال کرنا ہے ۔ ہمارے سب سے بڑے مشکلات میں سے ایک یہاں دستیاب وسائل کی کمی ہے۔ ہمیں مختلف طریقے آزمانے پڑتے ہیں اس پر قابو پانے کے لئے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ کام جاری رہے، ہمیں راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔" افغان نیشنل آرمی بائیو میڈیکل سازوسامان کے تکنیکی ماہرین دو سال کے لئے بنیادی الیکٹرانک کا نظریہ سیکھنے کے لیۓ اسکول جاتے ہیں اور پھر انھیں مزید 90 دن کے لیۓ جے-ایم-او-سی کے مشیروں کے ساتھ عملی تجربے کے لیۓ صوبے بھر میں چھوٹے اسپتالوں میں کام کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ نیڈیڈوگ، جو ہانالولو، ہوائی کے ایک مقامی ہیں، نے کہا کہ "ان کے لیے حتمی مقصد یہ ہے کہ وہ صوبوں میں افغان قومی فوج کے اسپتالوں میں کام کریں اور انہیں فعال رکھیں ۔ اس تربیت کے لئے ہمارا مقصد یہ ہے کہ انہیں آگے بڑھنے کے لیۓ ایک اچھی ٹھوس بنیاد فراہم کی جاۓ۔" افغان طبی ٹیم کو امید ہے کہ وہ جے-ایم-او-سی کی مدد اور مشورے سے آگے بڑھ سکیں، تاہم، انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہاں انھیں اب بھی اہم مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان قومی فوج کے کرنل عبدالغنی، ہرات علاقائی ہسپتال کے قائم مقام کمانڈر نے کہا کہ ہمارے اسپتالوں میں عملے کو اعلی تعلیم، بہتر تربیت اور زیادہ تجربہ کی ضرورت ہے،" ۔ "رہنماء بہت اچھے ہیں؛ وہ ہمیں مسئلہ دکھاتے ہیں اور پھر یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اسے ٹھیک کس طرح کرتے ہیں اور ہم اس سے سیکھتے ہیں۔ جب مشیر یہاں سے چلے جائیں گے، میں رہنمائی کا یہ پروگرام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ عملہ کی صحیح طریقے سے تربیت ہو رہی ہے اور تیار ہیں۔ جے-ایم-سی-او کے ساتھ کام کرنے والے افغان طبی رہنماؤں نے اپنی رہنمائی کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ حکام نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اتحادی افواج کے افغانستان چھوڑ جانے کے طویل عرصے بعد تک بھی ان کے اثرات باقی رہیں گے۔ افغان نیشنل آرمی کے میجر گل فدا، جو ہرات علاقائی ہسپتال کے ڈپٹی اسسٹنٹ ہیں نے کہا کہ "ہم ہر طرح کی مدد، تربیت اور دستاویز، جو امریکہ نے ہمیں دی ہیں، کے لیے واقعی شکر گزار ہیں۔ اس رہنمائی کا ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے اور ہم ان کوششوں میں ان کی مدد کے لئے شکر گزار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ لوگوں کو احساس ہے اب ہمارے پاس ایک اچھا نظام موجود ہے۔ ایک دن ہم اپنے تمام مسائل کو حل کرنے کی اُمید کرتے ہیں اور ہمارے پاس ایک محفوظ اور پُرامن ملک ہو گا"۔ |