| افغانستان میں پیدا ہونے والا مرین اپنی سرزمین کو خدمت فراہم کرتے ہوۓ | Array چھاپیے Array |
منجانب Cpl. Mark Stroud, 1st Marine Logistics Group
لانس کارپورل بہزاد رضادا، شراکتی ٹیم کے ایک رکن، کامبیٹ لاجسٹکس چوتھی بٹالین، فرسٹ مرین لاجسٹکس گروپ (فارورڈ)، افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں ملک چھوڑنے کے بعد ایک مرین کی حیثیت سے 14 سال بعد واپس لوٹتے ۔ رضادا نے اپنی جڑیں اور مقامی ثقافت اور زبانوں کے علم کو استعمال کرتے ہوۓ ملک کے لیۓ بہتر مستقبل تعمیر کرنے میں مدد دی۔ (فوٹو منجانب کارپورل مارک سٹراؤڈ)
کیمپ لیتھر نیک، افغانستان (26 جولائی، 2012) – لانس کارپورل بہزاد راضادا ، ایمبیڈڈ شراکتی ٹیم کے ایک رکن، کامبیٹ لاجسٹکس چوتھی بٹالین، فرسٹ مرین لاجسٹکس گروپ فارورڈ نے کہا کہ مجھے یاد ہے جس دن میں نے یہ خبر سنی کہ امریکہ افغانستان جا رہا تھا" ۔ میرے والدین خوش تھے کیونکہ یہ افغانستان کے لئے متحد ہونے اور آزادی کے لئے لڑنے کا ایک موقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناانصافی کو ختم کرنے کا یہ واحد راستہ تھا۔" افغانستان کے لوگوں کو بہتر مستقبل کی فراہمی کا خیال، افغانستان میں پیدا ہونے والے اس 24 سالہ رضادا کو بھی درست لگا۔ رضادا نے کہا کہ "میں کابل میں پیدا ہوا تھا اور دس سال کی عمر تک وہاں رہتا تھا " ۔ "میں وہاں اسکول جاتا تھا۔ یہ ایک عام اسکول تھا جیسا کہ کہیں بھی طالبان کے آنے سے پہلے، افغانستان میں تھا۔ میں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ... اور پھر تباہی شروع ہو گئی۔ ہر کوئی ملک چھوڑ کربھاگنے لگا، تمام لوگ ایک ہی سمت میں جانے لگے اور اُمید کرتے رہے کہ وہ طالبان کی ہاتھوں ہلاک نہ ہوں۔" رضادا کے خاندان نے طالبان کی طرف سے سخت پالیسیوں کے نفاذ کے بعد ملک چھوڑ دیا۔ رضادا نے کہا کہ میں کافی چھوٹا تھا، لیکن مجھے یاد ہے جب طالبان لوگوں کے سر قلم کرتے، لوگوں کو ایک خاص قسم کے کپڑے پہننے پر مجبور کرتے اور بعض قسم کے حفظان صحت کے معیار کو برقرار رکھنے پر مجبور کرتے تھے" ۔ "وہ لوگ جنھوں نے گزشتہ حکومت کے لئے کام کیا تھا خطرے میں تھے۔ طالبان کہتے تھے کہ جو کوئی کسی بھی سابقہ حکومت کے [آجروں] کو ہلاک کرے گا تواس کو انعام ملے گا اور میرے والد ایک اعلی' عہدے پو فائز تھے۔" اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان کو سفر کے دوران، اگلے تین سال رضادا نے پشاور شہر کے شمال میں اسکول جانے میں گزارے، جہاں انہوں نے ریاضی، سائنس اور انگریزی کا مطالعہ کیا، جبکہ ان کے خاندان نے امریکہ ہجرت کرنے کی اجازت کے لئے درخواست دی۔ رضادا نے کہا کہ "ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم امریکہ آئیں گے یا نہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکہ میں آنے کے لئے کامیابی کے امکانات 10 فیصد تھے" ۔ "جب ہم افغانستان چھوڑ کرآۓ، تو ہم پاکستان میں بھی نہیں رہ سکتے تھے، کیونکہ وہ وہاں اب بھی سابق [افغان] حکومت کے ارکان کو ہلاک کر رہے تھے۔۔۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم قبول کر لیۓ گۓ تھے۔ ہم پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ آئے تھے، تو ہم اس 10 فیصد کا حصہ تھے جن کو قبول کیا گیا تھا۔"
افغانستان اور پاکستان میں رضادا کا گزارا ہوا وقت اُسے زندگی میں اُس وقت کام آیا جب وہ ایک مرین کی حیثیت سے خطے میں واپس آیا، اور زیادہ فوری طور پر جب اس نے سینٹ لوئس میں پرائمری اسکول شروع کیا۔ رضادا نے کہا کہ"میری انگلش ٹھیک تھی، بہت اچھی نہیں تھی، لیکن ٹھیک تھی۔۔۔اس لیۓ میں نے جلد ہی اسکول شروع کر دیا"، " تاہم کلچر، بہت ہی مختلف تھا۔" اسکول سے گریجوئٹ ہونے کے بعد اور یوبا سٹی، کیلیفورنیا میں یوبا کالج کے بعد، رضادا مرینز میں بھرتی ہو گیا۔ اس نے مزید بیان کیا کہ "میں نے دو سال کالج میں گزارے جہاں میں نفسیات کا طالب علم تھا، اس کے بعد میں نے مرین کور میں شمولیت اختیار کر لی ۔ میں اپنی تعلیم مکمل کروں گا، تو مرین کور کالج کی ادائیگی کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ فوج کا حصہ ہونا بھی ایک اچھی بات ہے۔" سی ایل بی -4 پہلے سے ہی افغانستان میں تعیناتی کے لیے تربیت لے رہی تھی جب رضادا نے اس میں شمولیت اختیار کی۔ " رضادا نے کہا کہ مجھے اپنے والدین سے بات کرنی پڑی اور انہیں بتانا پڑا کہ مجھے تعینات کیا جا رہا تھا ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ میرے لئے ایک اچھا موقع تھا کہ میں وہاں جاتا اور مدد میں ہاتھ بٹاتا کیونکہ میں اس ملک سے تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہاں جاؤں اور اپنی بھر پور کوشش کرو۔" رضادا ای-پی-ٹی کا حصہ ہوتے ہوۓ مدد کرنے کے لیۓ ایک بہترین جگہ پر تھا۔ رضادا نے کہا کہ میں دری، تھوڑی سی پشتون، ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بھی بولتا ہوں ۔ "میرے پاس مدد کرنے کے لئے بہترین موقع تھا، خاص طور پر [کمانڈ کا سلسلہ] ہونے کی وجہ سے جو میں نے کیا، جنہوں نے مجھے افغان نیشنل آرمی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ممکن وقت گزارنے کا موقع دیا۔" ای-پی-ٹی نے سیکینڈ بٹالین، 5ویں کندک، 215 کور کے مشیروں اور موضوع کے ماہرین کے طور پر، تربیت میں مدد کرنے کے لئے، اسی طرح کی منصوبہ بندی اور عمل کی کارروائیوں کے لیۓ کام کیا۔ فارورڈ انفینٹری بٹالین کی مدد، انچارج افسر میجر چارلس ای۔ پارکر جونیئر، ای-پی-ٹی، سی ایل بی- 4 نے کہا کہ ہم ایک کامبیٹ سروس سپورٹ کندک کا حصہ تھے۔ ہمارا مقصد ان کی تربیت تھا ۔ ۔ افغان لوگوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کی اس طرح کی عملی حکمت عملی کے لیۓ رضاداد بہترین تھا۔ پارکر نے کہا کہ میری ٹیم میں ہر دوسرا مرین کی طرح، وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ پختہ ذھن کا ہے، اور وہ ہمیشہ مدد کے لئے آگے آگے تھا ۔ اس کا ہمارے ترجمانوں کے ساتھ ایک مضبوط تعلق تھا ... اور میں اسے کبھی کبھار ملاقاتوں کے لیۓ اپنے ساتھ لے آتا تھا، اور مجھے اے-این-اے کے خیالات اور موڈ کے بارے میں بتا دیتا تھا ۔" رضادا نے اپنے سفر کو اُس وقت مکمل کر لیا جب وہ ایک مرین کی حیثیت سے واپس افغانستان آیا تاکہ طالبان کے دور کے بعد ملک کی تعمیرنو میں مدد کر سکے۔ رضادا نے کہا کہ "میں انتہائی خوش ہوں کہ میں نے اس کا تجربہ کیا ۔ ای-پی-ٹی نے جو کیا ہے وہ یہ ہے کہ اے-این-اے کو اپنے آپ میں زیادہ پر اعتماد اور انھیں زیادہ قابل بنا دیا ہے جب وہ خود پرانحصار کر رہے ہوں۔ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہو گۓ۔" |