مرین کور کے کمانڈانٹ، سارجنٹ میجر کی افغانستان میں مرینز سے ملاقات Array چھاپیے Array
منجانب , Regional Command Southwest
120718_commandant
مرین کور کے کمانڈانٹ جنرل جیمز ایف۔ آموس نے 17 جولائی، 2012 کو شیر غازی چوکی، افغانستان پر سیکینڈ بٹالین، 5ویں مرین رجیمنٹ کے ساتھ خدمات دیتے ہوۓ، مرینز کے سوالوں کے جواب دیے۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ برائن بک والٹر)

صوبہ ہلمند، افغانستان (18 جولائی، 2012) – مرین کور کے اعلٰی ترین جنرل اور ان کے سینئیر انلسٹڈ مشیر نے 17 جولائی کو پورے جنوبی افغانستان میں مرینز کے خدمات اور قربانیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیۓ ان سے ملاقات کی۔

مرین کور کے کمانڈنٹ جنرل جیمز ایف۔ آموس، اور مرین کور کے سارجنٹ میجر مائیکل پی۔ بیریٹ کو صوبہ ہلمند میں چھ مقامات پر مرینز کے فارمیشنوں کی طرف سے خوش آمدید کہا گيا۔

ان کے دورے میں صوبے کے دور دراز علاقے کیمپ لیتھر نیک،  فارورڈ آپریٹنگ بیس پین،  ایف-او-بی جیرانمو، ایف-او-بی جیکسن ایف-او-بی زیبرگ کے اور کامبیٹ چوکی شیر غازی شامل تھے۔

جنرل آموس نے کہا کہ صرف تین سال پہلے، صوبہ ہلمند افغانستان کے سب سے خطرناک حصوں میں سے ایک تھا، لیکن اب یہ بدل گیا ہے۔ مرینز نے جنگ شورش پسندوں تک پہنچا دی ہے اور رہنماؤں نے اے –ین-ایس-ایف کے ساتھ شراکت داری کی ہے، ان کی تربیت کی ہے تاکہ وہ خود پر انحصار کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہلمند صوبے کے مختلف حصوں کو ان لوگوں کو شراکت کی وجہ سے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گيا ہے ۔

میرینز کی کامیابی کے بارے میں جنرل آموس اور سارجنٹ میجر بیریٹ امریکہ میں لوگوں کو بتاتے سے کبھی نہیں تھکتے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم آپ کے بارے میں ہر موقع پر شیخی بگھارتے ہیں" ، "آپ نے جو یہاں حاصل کیا ہے ہم ان کے بارے میںبات کرتے ہیں...  اور یہ کہ آپ نے کس طرح سے  اس علاقے کو مستحکم بنایا ہے"۔

جنرل آموس نے کہا کہ اس استحکام کے ساتھ ہی اس بات میں ایک تبدیلی آتی ہے کہ کس طرح مرین کور نے گزشتہ دہائی کے دوران آپریشن کیۓ ہیں۔ اب افغانستان کی طرح کور کوئی لمبے عرصے کی زمین جنگ نہیں لڑے گے۔ بلکہ منصوبہ یہ ہے کہ یہ واپس اپنی مہماتی، ساحلی جڑوں کی طرف واپس جائیں گے۔

اگلے چار سالوں کے دوران، مرین کور کے مجموعی سائز کو 202،000 میرینز میں سے 182،000 تک کارگر بنانے کے لئے کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کوشش کی بنیادی توجہ اوقیانوس میں ہو گی۔ میرین کور کے یونٹ کی تعیناتی کا پروگرام تین بٹالینوں  کو حکمت عملی کے تحت اوقیانوس میں جاپان، گوام اور آسٹریلیا میں پھیلنے کا موقع دے گی۔

جنرل آموس نے کہا کہ چھوٹی فورس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کم صلاحیتوں کی حامل ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ " بُرے کام کرنے والے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ، اسی لیئے میرین کور موجود تاکہ ان کا سامنا کر سکے" ۔

سارجنٹ میجر بیریٹ نے کہا کہ فوج کی تعداد میں کمی کے ساتھ، پروموشن کے مواقع کم ہوں گے ہیں اور دستیاب مقابلہ بہت سخت ہو گا ہے۔

سارجنٹ میجر بیریٹ نے کہا  کہ "جوان اپنے بہترین "اثاثے" سامنے لاؤ" ۔ "وہ وقت جب زائد تعیناتیوں کی وجہ سے آپ کو آپ کے ساتھیوں سے بلندتر درجہ ملتا تھا اب ختم ہو گیا ہے،۔  انہوں نے مزید کہا کہ اب جو بات مرینز کو ایک دوسروں سے بلندتر درجہ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے وہ خصوصی فرائض، جیسا کہ ڈرل انسٹرکٹر اور بھرتی کی ذمہ داریاں ہوں گیں۔

اپنے دورے کے ہر سٹاپ پر، کمانڈنٹ اور مرین کور کے سارجنٹ میجر نے مرینز کی طرف سے سوالات کا جواب دیا۔

سی-او-پی شیرغازی پر، جنرل آموس نے سارجنٹ شین فریڈریکس، انفنٹری مین، سیکینڈ بٹالین،  5ویں مرین رجیمنٹ، کو پرپل ہارٹ پیش کیا۔ فریڈریکس، جو سیراکیوز، نیو یارک سے ہیں، ایک گاڑی میں تھے جس پر ایک خود ساختہ دھماکہ خیز آلے سے حملہ ہوا تھا۔ فریڈریکس بے ہوش ہوگیا اور انھیں ایک تکلیف دہ دماغی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

جانے سے پہلے دونوں جنرل آموس اور سارجنٹ میجر بیریٹ نے مرینز سے کہا کہ جنگ کے میدان میں ہوشیار اور اخلاقی طور پر درست فیصلے کرنا جاری رکھیں۔ ٹیم نے مرین کور کا دورہ صرف  اس لیۓ کیا ہے کہ اخلاقی فیصلوں کی اہمیت پر زور دیا جاۓ اور مرین کور کی بھر پور تاریخ اور ان کی ساکھ کی حفاظت کو یقینی بنایا جاۓ۔

جنرل آموس نے ان سے کہا کہ "میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اعزاز کو شفاف رکھیں" ۔