| افغان توپ خانے کے جوان زور و شور سے گریجویٹ ہوۓ | Array چھاپیے Array |
منجانب 1st Lt. Christine Rosalin, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii)
افغان نیشنل آرمی کے فوجی، چوتھی کندک، ڈی-30 آرٹلری بیٹری، 4 جولائی، 2012 کو فارورڈ آپریٹنگ بیس ولورین، افغانستان میں شدید دھماکہ خیز راؤنڈ چلاتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب فرسٹ لیفٹننٹ کرسٹین روزالن)
فارورڈ آپریٹنگ بیس، افغانستان (10 جولائی، 2012) – چار جولائی کو آتش بازی میں حصہ لینے کے بجاۓ، افغان نیشنل آرمی کے ارکان نے فارورڈ آپریٹنگ بیس ولورین، افغانستان میں ایک اختتامی تربیتی موقعے پر ڈی 30 یا روسی 122 ایم-ایم استعمال کرتے ہوئے شدید دھماکہ خیز مواد اور سفید فاسفورس دھواں کے راؤنڈ فائر کیۓ۔ اس اختتامی موقع نے ان کی اپنے امریکی ہم منصبوں کی شراکت میں 16 ہفتوں کی تربیت کا اختتام کیا جس میں افغان فوج کی چوتھی کندک ،ڈی 30 آرٹلری بیٹری کے 50 سے زائد فوجی، 4 جولائی کو اے-این-اے آرٹلری سکول کے ڈی 30 جے گن لائن پروسیجر کورس کے کورس سے گریجویٹ ہوۓ۔ یو-ایس آرمی فرسٹ لیفٹننٹ جاناتھن کولیٹ، فائر ڈائریکشن سنٹر انسٹرکٹر، فرسٹ بٹالین، 21 فیلڈ آرٹلری رجیمنٹ، 41 فائرز بریگیڈ، نے کہا کہ "یہ تربیت ان کی ملٹری کو مزید مستند بناتی ہے اور ان کے اتحادی فوجوں پر انحصار کو کم کرتی ہے" ۔ "یہ افغان آرمی اور معاشرے کے اعتماد کو بھی بڑھاتی ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی اپنی آرمی توپ خانہ چلا رہی ہے اور اس سے حمایت بڑھتی ہے۔" اس مشترکہ مشن کا مقصد افغان نیشنل سکیورٹی فورسز میں بلواسطہ فائر کی صلاحیت اور لمبے عرصے کی کامیابی قائم کرنا ہے۔ کولیٹ نے کہا کہ "یہ افغان فوجیوں کو افغان گولہ بارود کی طاقت کے ذریعے افغان مسائل کا افغان حل مہیا کر رہا ہے"- "اس تربیت سے افغان فوج کو مجموعی طور پر بہت فائدہ ہوا۔ فیلڈ آرٹلری اپنی ایک بہت بڑی جنگ کے میدان میں اثر ڈالنے، اعلٰی دھماکہ خیز مواد، دھواں، یا روشنی کی فراہمی کی صلاحیت کی وجہ سے کسی بھی جدید فوج کے لئے ضروری ہے۔" کولیٹ نے کہا کہ انھوں نے تربیت ختم ہونے کے دو ہفتوں کے بعد روشنی کے گولے فائر کیۓ اور اپنے علاقے میں رات کے آپریشنوں کے لئے روشنی کے اثرات فراہم کیے۔ کولیٹ نے مزید کہا کہ "اس کے علاوہ جیسے جیسے تربیت آگے بڑھی انھوں نے تصورات کو جلدی جلدی سمجھنا شروع کر دیا،" ۔ "ہم مسلسل حیران تھے کہ انھوں نے کتنی آسانی سے وہ تمام تصورات سمجھ لیۓ، کیونکہ بعض تصورات ایف-اے (فیلڈ آرٹلری) کے اسکول میں امریکیوں کو بھی سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔" "اس پروگرام میں نقشہ پڑھنے اور جگہوں کے پوائنٹس، ایک جی پی ایس کے بغیر بیٹری کی جگہ کا تعین کرنے، فاصلے اور ہدف کی جگہ اور سمت کا تعین کرنے، ریاضی اور نامعلوم مفداروں کا اندازہ لگانے، مبصرین کے ساتھ ایک ٹیبولر فائرنگ اور ریڈیو مواصلات پڑھنے کے تصورات شامل ہیں،" کولیٹ نے کہا۔ "ہم نے کہ چارج درجہ حرارت کو درست کرنا، الیومینیشن اور دھوئیں کےشیل کا استعمال، اور کس طرح حکم دیتا ہے کرنے کے لگن لائن کو موثر طور پر فائر کمانڈ دینا بھی سیکھایا ہے۔" شروع میں، اے این اے کے فوجی یا تو ہمارے بارے میں یا تربیت جو ہم انہیں دے رہے تھے کے بارے میں غیر یقینی لگ رہے تھے، لیکن وقت کے ساتھ وہ اس سے لطف اندوز ہوتے لگ رہے تھے،" کولیٹ نے کہا۔ "ہم نے اپنی ٹوٹی پھوٹی داری کا استعمال کرتے ہوئے انھیں بات چیت میں مصروف کیا اور وہ ہمارے ساتھ جلد ہی گھل مل گۓ۔ ہم حیران تھے کہ ان میں سے بعض بہت حد تک انگریزی میں بات کر سکتے تھی یہاں تک کہ ہم ان میں سے بعض فوجیوں کو ایک کلاس تقریبا مکمل طور پر انگریزی میں سکھا سکتے تھے۔۔۔ ہم ان سے احترام سے پیش آۓ اور ان سے بات کی اور ہمیں بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔" ہمارے بعد آنے والی یونٹ، فرسٹ بٹالین، 37ویں فیلڈ آرٹلری رجیمنٹ، تھرڈ سٹرائکر بریگیڈ کامبیٹ، سیکینڈ انفنٹری ڈویژن، فورٹ لیوس سے ٹیم ہمارے جانے کے بعد یہ سرپرستی جاری رکھے گی اور انہیں فیلڈ آرٹلری کے زیادہ اعلی درجے کی تصورات سکھاۓ گی،" کولیٹ نے کہا۔ سارجنٹ جاشوا اوبرلیز، ہاؤیٹز سیکشن کے سربراہ، فرسٹ بٹالین، 37 ویں فیلڈ آرٹلری رجیمنٹ، نے کہا کہ "میری یونٹ، 1-37 ایف- اے، نےاب تک اس پروگرام میں تقریباً ایک مہینے کے لئے شرکت کی ہے" ۔ "ہمارا اے-این-اے کے ساتھ جو سرپرستی کا کردار ہے وہ انھیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جو کچھ انھوں نے سیکھا ہے وہ مستقبل میں اسے اپنے فوجیوں کو سیکھا سکیں۔ اے-این-اے کی اپنے آرٹلری کے جوانوں کی تربیت اور تصدیق کے قابل کرنے کی صلاحیت یہاں ہمارا حتمی مقصد ہے۔" اوبرلیز نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ جب ہم یہاں سے جائیں تو اے-این-اے خود آگے بڑھ کر قدم اٹھا سکیں اور اپنی تربیت خود کرنے کے قابل ہوں تاکہ وہ اپنے مشنوں کی ضروریات کو پوری طرح انجام دے سکیں ۔" ۔ تصدیق کے عمل کے دوران اے-این-اے کی کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ یہ مقصد ممکن ہے۔ "ہمیں یقین ہے کہ ہم اس مقصد تک پہنچنے کے قابل ہیں اور ہماری ان کے ساتھ شراکت داری جاری رکھنے کے بارے میں ہم پُر جوش ہیں۔"
|