| بیلووڈ کے مرینز نے صوبہ ہلمند میں قیادت کی منتقلی کا تاریخی کام سر انجام دیا | Array چھاپیے Array |
منجانب Cpl. Alfred V. Lopez, Regimental Combat Team 5
5 جولائی، 2012 کو یہاں قیادت کی منتقلی کی ایک تقریب کے دوران رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 5 اور 6 پر مشتمل ایک امریکی مرین کے رنگ والے گارڈ کا دستہ قومی ترانے پر، رجیمنٹ کے رنگوں کا جھنڈا اتارتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب کارپورل ایلفرڈ وی۔ لوپیز)
فارورڈ آپریٹنگ بیس دل آرام II، افغانستان (6 جولائی، 2012) - 1917 میں اپنے متحرک ہونے کے بعد ، 5ویں اور 6ویں مرین رجیمنٹ امریکہ کے لئے بہت بہادری سے لڑی ہیں، ان میں سے پہلی عالمی جنگ کی لڑائی خاص طور پر قابل ذکر ہے جب انھوں نے خونی بیلووڈ کی جنگ شانہ بہ شانہ لڑی تھی۔ دسمبر 2011 میں رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 6 شمالی صوبہ ہلمند میں آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کی حمایت کرنے کے لئے پہنچے، آر- ٹی- سی- 5 کے ساتھ 94 سال میں پہلی بار اسی میدان جنگ میں شامل ہونے کے لیۓ۔ یہ تاریخی شراکت اب خاتمے کے قریب آ رہی ہے۔ کرنل راجر بی. ٹرنر جونیئر اور سارجنٹ میجر البرٹو روئیز، آر-ٹی-سی - 5 کے کمانڈنگ افسر اور سارجنٹ میجر نے 5 جولائی کو "لڑتی ہوئی پانچویں" کا جھنڈا اُتار دیا اور اس علاقے کی قیادت کرنل جان آر۔ شیفر اور سارجنٹ میجر جیمی ڈیٹز کو منتقل کر دی، جو کہ یہاں آر-ٹی-سی -6 کے کمانڈنگ افسر اور سارجنٹ میجر ہیں۔ شیفر نے کہا کہ یہ حقیقت واقعی میں اہم ہے کہ 5ویں اور 6ویں رجیمنٹوں نے آخری بار 1918 میں ایک ساتھ لڑائی لڑی تھی، شانہ بہ شانہ ایک ایسی قوت کے خلاف جو حقیقی معنوں میں میدان جنگ میں اُترنے والے مرینز کو تباہ کرنے کے منصوبے بنا رہی تھی ۔ بیلووڈ کے بعد ، 5ویں اور 6ویں مرینز تنازعات میں اکٹھے لڑے ہیں لیکن ایک ہی کمانڈ کے تحت نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ اور ڈیزرٹ سٹرام میں، انھوں نے ایک دوسرے کے کام سے الگ مختلف ڈویژن کے رکن کے طور پر کام کیا۔ ٹرنر نے وضاحت کی کہ "یہ ہمارے لئے واقعی میں خاض ہے کہ ہم اپنے دورے کو ختم کرنے اور آر- ٹی- سی - 6 کے حوالے کرنے کے قابل ہوۓ ہیں" ۔ "مرین کور کی تاریخ میں دو مرتبہ ایسا رہا ہے جہاں ہم ایک ساتھ مل کر خدمت کرنے کے قابل رہے ہیں، لیکن یہ تقریب یہاں افغانستان میں ان دو رجیمنٹوں کے وجود میں آنے کے 95 سال بعد واقعی خاص ہے۔" اگست میں 2011، آر- ٹی- سی -5 جنوبی ہلمند میں پہنچی۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران، رجیمنٹ اور اس کی ماتحت بٹالینوں نے مرجاہ، نوا، گرمسر، اور خان نشان کے اضلاع میں انسداد بغاوت کی کاروائیوں کو سر انجام دینے کے لیۓ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز اور افغان حکومت کی شراکت میں کام کیا۔ ٹرنر نے کہا کہ "گزشتہ سال کے دوران ہم نے واقعی میں قیادت کو افغانوں کے ہاتھ دینے کی کوشش اور ان کی فورسز کے تعمیر میں وقت گزارا ہے" ۔ "انہوں نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کر لیا ہے اور وہ اُس جگہ پر پہنچ گۓ ہیں جہاں وہ واقعی میں قیادت سنبھال سکتے ہیں۔" افغان فورسز نے پورے جنوبی ہلمند کے اہم اضلاع میں سکیورٹی آپریشن کی قیادت سنبھال لی ہے جبکہ آر-سی- ٹی-5 کے تحت کام کرنے والے مرین افواج نے مشاورتی کردار اپنا لیا ہے۔ سکیورٹی میں اضافے سے افغان حکومت ان اضلاع کے لئے اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ ٹرنر نے وضاحت کی کہ "مرجاہ، نوا، اور گرمسر جیسی جگہوں میں اب تعلیم ہے، وہاں صحت کی دیکھ بھال ہے، وہاں اچھی آب پاشی، اور انھیں اچھی سڑکیں حاصل ہیں، ان کے پاس اچھی سکیورٹی ہے" ۔ "جو کچھ مرینز نے ان کے لئے یہاں کیا ہے اس کے لیۓ یہاں کے لوگ عام طور پر شکر گزار ہیں۔ ہمارا کام اصل میں ان کوششوں کو اتحادیوں سے لے کر افغانوں تک منتقل کرنا ہے۔ "لڑنے والی چھٹی"، شمالی ہلمند میں شورش پر دباؤ رکھنے میں سخت رہی ہے۔ سب سے قابل ذکر آپریشن جاز کی حالیہ تکمیل ہے، جب آر-ٹی-سی-6 کی موثر انداز میں شورش پسندوں کے نیٹ ورک کو معذور کرنا اور افغان افواج کے لیۓ ایک کامیاب منتقلی کے لئے حالات فراہم کرنا تھا۔ اب جب کہ قیادت کی منتقلی مکمل ہو گئی ہے، تو آر-ٹی-سی-6 کے مرینز اور سیلرز اے-او کے لئے ذمہ دار ہیں جو کہ سائز میں دگنی ہو چکی ہے۔ شیفر نے کہا کہ "ہم یہاں موجود ہیں، اے-این-ایس-ایف کو تیار کرنے کے لئے، اور وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں" ۔ " ایسی کوئی چیز نہیں کہ میرے مرینز سنبھال نہ سکتے ہوں۔ مجھے اپنی رجیمنٹ کے مرینز پر اس مشن کو بخوبی انجام تک لانے کے لیئے مکمل اعتماد ہے۔" "لڑنے والی چھٹی" کو ایک مسلط چیلنج درپیش رہا ہے، لیکن دونوں رہنماؤں نے تقریب کے اختتام پر ایک اہم نقطے پر زور دیا: یہ لمحہ قیادت کی تاریخی منتقلی کے بارے میں کم، اور افغان عوام کی اپنے ملک کو محفوظ بنانے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے بارے میں زیادہ تھا۔ ٹرنر نے وضاحت کی کہ "اس سے پہلے، جب ہم قیادت میں تھے، ہمیں وہاں ایک بہت زیادہ مرکوز کوششوں کی ضرورت تھی" ۔ "اب جبکہ افغانوں کی صلاحیت بڑھ گئی ہے، تو ایک رجیمنٹ پورے علاقے کو چلا سکتی ہے۔ لہذا، یہ ہمارے درمیان قیادت کی منتقلی کے بارے میں کم اور افغانوں کی پیش رفت کے بارے میں زیادہ ہے۔" شیفر نے کہا کہ "ہم یہ سب کچھ نہیں کر رہے ہوتے اگر افغان اس کے لئے تیار نہ ہوتے" ۔ "ہمارے یہاں ہونے کی اصل وجہ اے- این- ایس- ایف کو قابل بنانا ہے۔ وہ اتنے ہی ٹرینڈ ہیں جتنی کوئی بھی دوسری فورس ہو سکتی ہے... ہم تیار ہیں کیونکہ انھوں نے واقعی دکھایا دیا اور ظاہر کردیا ہے کہ وہ تیار ہیں۔" 5ویں مرینز کا رنگدار جھنڈا اتار دیا گیا اور 6 ویں مرینز کو ایک آخری سلامی دینے کے بعد، ٹرنر اور ان کے مرینز اور سیلرز اپنے ملک میں سٹیشن کیمپ پینڈلٹن، کیلیفورنیا، تک کے سفر کی تیاری شروع کریں گے، اور آر- سی-ٹی - 6 صوبہ ہلمند کے لوگوں کی حفاظت اور مدد جاری رکھے گی۔ ایڈیٹر کا نوٹ: رجیمنٹل کامبیٹ ٹیمیں 5 اور 6 فرسٹ مرین ڈویژن (فارورڈ) ، کو تفویض ہے جو ٹاسک فورس لیتھرنیک کی سربراہی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس علاقائی کمان کے زمینی لڑاکا عنصر (جنوب مغرب) کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز اور انسداد بغاوت کی کاروائیاں کرنے کے لئے افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے ساتھ شرکت میں کام کرتی ہے۔ یونٹ افغان عوام کی حفاظت، باغی افواج کو شکست دینے اور اے-این-ایس-ایف کو اپنی کاروائیوں کے علاقے کے اندر سکیورٹی کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیۓ استحکام، ترقی، اور جائز انتظامیہ کی توسیع میں مدد دینے کے لیے وقف ہے۔ |