ایک افغان کرنل کسانوں کو طالبان کے ٹیکسوں سے آزاد کرانے کے لیۓ کام کرتا ہے Array چھاپیے Array
منجانب , 4th BCT PAO, 1st Inf. Div.
120627_meeting
افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل مرویس اور فرسٹ سکواڈرن، چوتھی کیولری رجیمنٹ کے فوجی ، پکتیکا صوبہ، افغانستان، میں 14 جون کو اومنا ضلع کے عمائدین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے۔ (یو-ایس آرمی فوٹو منجانب فرسٹ لیفٹیننٹ ذیکری میروا)

صوبہ پکتیکا، افغانستان (26 جون، 2012) – افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل مرویس کی حال ہی میں اپنے فوجیوں کی فتح کے ساتھ قیادت حاصل کرنے سے مغربی پکتیکا میں صوبے کے لوگوں کی زندگی بہتر بن گئی ۔

اے-این-اے کندک فورٹ رائیلی، کنساس میں تعینات فرسٹ سکواڈرن، چوتھی کیولری رجیمنٹ کے ساتھ شراکت داری میں، مشن ضلع اومنا کے تحت باغیوں کے مشہور ٹھکانوں کو خالی کرنا تھا۔

14 جون کو صبح سویرے کاروائی شروع ہوئی۔

اومنا کی وادی میں لوگ بنیادی طور پر کسان ہیں جو اپنے چلغوزوں کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہیں، اور یہ ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ علاقہ شورش پسندوں کے مضبوط گڑھ کی وجہ سے بھی جانا جاتا تھا۔ ماضی میں، باغی کسانوں کی چلغوزوں کی کاشت کا ایک حصہ عوام پر ٹیکس کی حیثیت سے لے جاتے تھے۔

اومنا کو جانے والے درے سے گزرنا کندک کمانڈر مرویس کو آسان لگا اور اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی، جب وہ اپنے بکتر بند ٹرکوں میں بیٹھے اور فوجیوں کی قیادت کرتے ہوۓ وادی میں پہنچے تو سیدھے سپینا گاؤں کی طرف گۓ۔

اسی دن دوپہر کے وقت، مرویس نے ایک سکیورٹی شوری میں اومنا اور سپینا کے بزرگوں کے ساتھ بات کرنے کی درخواست کی۔  ان کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی جب درجنوں کے حساب سے بزرگ افغان فوج کے ساتھ بات کرنے کے لیے آۓ۔

مرویس نے گفتگو شروع کی اور ان لوگوں سے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان ان کی کاشت چوری کر کے ان کو خوفزدہ کر رہے تھے اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے بعد انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اومنا میں لوگوں کے لئے ایک محفوظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ان لوگوں کا بھی فرض ہے کہ علاقے میں طالبان کی کاروائیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مدد کریں۔

شورا اُس وقت ختم ہوئی جب انھوں نے کہا کہ اومنا کے لوگ مظبوط اور فاخر ہیں، اور یہ کہ وہ کسی بھی دشمن کا مقابلہ کریں گے۔