| آرمی کور آف انجینئرز کی عراق میں تعمیر جاری | Array چھاپیے Array |
منجانب Joan Kibler, U.S. Army Corps of Engineers شئیرمتعلقہ خبریں
ونچسٹر ورجینیا، (21 جون، 2012) - اگرچہ اس کا تعمیر کا پروگرام عراق میں پہلے کے مقابلے میں ایک بہت چھوٹا سا ہے، امریکی فوج کے انجینئرز کی کور 350 ملین ڈالر کے منصوبوں کو وہاں خود مختار قوم کے لیئے سہولیات کی تعمیر میں مدد جاری رکھنے کا انتظام کرتی ہے۔ یہ تعمیراتی پروگرام نئی اور قابل اعتماد حکومت عراق کو استحکام دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آج، عراقی حکومت اور یو ایس مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر باہمی تعلقات کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ یہ انتظام، جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور عراق کے جمہوریہ کے درمیان دوستی اور تعاون کے ایک رشتے کے لیئے اسٹریٹیجک فریم ورک ایگریمنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، عراقی عوام کو امریکہ کے مفادات کی حفاظت کرتے ہوۓ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد دینے کے لئے تیار کیا گیا تھا، عراق میں امریکی سفارت خانے کے مطابق۔ یو ایس اے سی ای کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطی کے ضلع عراق ایریا آفس کے ذریعے ملک کی خودمختاری کی حمایت فراہم کرنے کے لیئے منصوبوں کی فراہمی میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ "ہمارا کردار ایسا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کا ہے جو استحکام اور سلامتی کے لیئے اپنا کردار ادا کرے،" انچارج افسر لیفٹیننٹ کرنل انتھونی مچل، عراق ایریا آفس نے کہا۔ بنیادی گاہکوں میں سیکورٹی کوآپریشن عراق، یا او ایس سی آئی اور عراق کے اسٹریٹیجک پارٹنرشپ آفس کے دفتر شامل ہیں، دونوں عراق میں امریکی سفارت خانے کا حصہ ہیں۔ "ہمارے تمام منصوبے، چاہے وہ عراقی عوام کے فائدہ کے لئے، بصرہ کے بچوں کے ہسپتال کے لئے، آلات فراہمی ہو یا عراق کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیئے، سی-130 طیاروں کی سہولیات کی تعمیر ہو، عراق میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے ایک خود مختار قوم اور ایک سٹریٹجک پارٹنر ہونے کے ناطے میں شراکت کا حصہ ہوتا ہے،" مچل نے کہا۔ مچل نے جولائی 2011 سے آفیسر انچارج کے طور پر خدمات سر انجام دیں ہیں اور وہ جلد ہی عراق سے چلے جائیں گے، انھوں نے اپن اس دورے کے دوران بہت ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ "جب میں نے یہ کام سنبھالا تھا، تو میری سمجھ کے مطابق ارادہ یہ تھا کہ اس بڑے تعمیر نو کے پروگرام کے آخری باقی ماندہ منصوبوں کو مکمل کرنا تھا اور انہیں دسمبر 2011 سے قبل کرنا تھا،" مچل نے کہا۔ "اس کے علاوہ، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں کچھ غیر ملکی فوجی فروخت کے منصوبوں شروع ہوۓ تھے۔ مجھے امید تھی میری ٹیم، نو تشکیل شدہ عراق ایریا آفس، ایک سال کے اندر اور یہ کام ختم کرلیں گے اور یہ کہ میں آخری عراق میں یو ایس اے سی ای کی عراق کی نمائندگی کرنے والا آخری ہوں گا۔" تاہم ایسا نہیں ہوا۔ جبکہ مچل 45 فوجی اور شہریوں کے ساتھ 700 ملین ڈالر کے پروگرام انتظام ایک علاقے کے دفتر کے ساتھ شروع کر دیا جس میں وارنٹی مرحلے میں منصوبے شامل تھے۔ وہ اپنے دورے کا اختتام ان لوگوں کی ایک تہائی سے بھی کم تعداد سے اور 350 ملین ڈالر کے پروگرام کے انتظام سے کریں گے۔ اسی طرح، علاقائی دفتر 120 تَقريباً عراقی شہری تعمیر کے پروگرام پر کام کر رہے تھے، آج وہاں صرف 40 ہیں۔ ایک سال قبل یو ایس اے ای کا تَقريباً ایک تہائ پروگرام مستقبل کی ملٹری سیلز یا ایف ایم ایس کا تھا۔ آج، یہ تَقريباً نصف ہے۔ ایف ایم ایس محکمہ دفاع کے سیکورٹی اسسٹنس کے پروگرام کا حصہ ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان علاقائی استحکام اور باہمی مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔ مچل کی پیش گوئی کی ہے یو ایس اس سی ای مزید دو سے تین سال کے لیئے عراق میں آپریشنز کی حمایت جاری رکھے گا، اور اس حمایت کی سب سے زیادہ ایف ایم ایس کے عراق کے فضائی دفاع، زمین اور سمندری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے منصوبوں کے لیئے ہو گا۔ دفاعی صلاحیتوں کی تشکیل ایف ایم ایس پروگرام سیکورٹی کوآپریشن کے دفتر یا او ایس سی-آئی کے تحت آتا ہے، جو امریکی اور عراقی افوج کے درمیان تعلقات بڑھانے کو جاری رکھے گا، یہ ماضی میں عراق میں امریکی افواج کی ذمہ داری تھی۔ "ہمارے فعال ایف ایم ایس کے منصوبے بہتر عراق کی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو داخلی اور خارجی خطرات سے قوم کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد کے لیۓ بہتر طور پر لیس کر رہے ہیں،" ڈگلس ہیرالڈ پلیکی، پروگرام مینیجرایف ایم ایس ورک فارورڈ نے کہا۔ پلیکی کو عراق کے لیئے منصوبہ بندی، ڈیزائن اورتعمیرات کے700 ملین ڈالر کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے۔ سولہ ایف ایم ایس منصوبے معاہدوں کے تحت ہیں، کل مالیت ملین ڈالر کی کل 166.8 ملین ڈالر، اور تمام کے لیۓ عراق کی طرف سے فنڈز فراہم کیۓ گۓ ہیں۔ دیگر بہت سے منصوبے منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں یا ان پر ایف ایم ایس پروگرام کی ضروریات کے مطابق میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے. سب سے پہلے منصوبوں میں سے ایک 181 ملین ڈالر کی سرحدی سڑکوں کا منصوبہ بھی شامل تھا. جس کو وزارت داخلہ کے لیئے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ ہمارے سب سے زیادہ کامیاب منصوبوں میں سے ایک رہا ہے،" پلیکی نے کہا۔ یو ایس اے سی ای نے سلامتی کی غرض سے عراق کی سرحد کے آس پاس اہم نکات کے ارد گرد سڑکیں ڈیزائن کیں، اور وہ تعمیر کے لیئے مختلف حصوں میں منقسم ہیں۔ تین میں سے دو معاہدے وقت سے پہلے ختم ہو گۓ اور کام کا معیار بہت اچھا ہے۔" ایک اور شوکیس منصوبہ، یہ بھی وزارت داخلہ کے لیئے ہے، مشرقی بغداد میں جنرل ڈائریکٹوریٹ انسداد دہشت گردی کی سہولت کیلئے ہے۔ 18.4 ملین ڈالر کے منصوبے میں ایک دفتر کی عمارت، ہیڈکوارٹر، بیرکیں، گودام، اور ایک بجلی کے جنریٹر کی سہولت شامل ہے اور اس کی جون 2013 تک مکمل ہو جانے کی امید ہے۔ عراق کی دفاعی صلاحیتوں کو مظبوط کرنے کے لیئے چھ ایف ایم ایس کے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ یہ منصوبے عراقی وزارت دفاع اور اس کی ائیر فورس کی مدد کے لیئے ہیں۔ "اگرچہ او ایس سی-ائی ہمارے ایف ایم ایس کے کام کی براہ راست گاہک ہے، ہم امریکی ایئر فورس مٹیریل کمانڈ، یا اے ایف ایم سی کے ساتھ عراق ائیر فورس کی حمایت کے منصوبوں کے لیئے بھی کام کرتے ہیں،" جوزف زراسزاک، پروگرام اور پراجیکٹ مینجمنٹ ڈویژن کے اندر برانچ چیف نے کہا۔ ضلع الاسد ائیر بیس پر تعینات کرنے کے لیئے ایف-16 ہوائی جہاز کے لیئے سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے اے ایف ایم سی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ "موجودہ سہولیات کا ایک حصہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا جبکہ ایک قابل ذکر تعداد میں نئی تعمیر بھی ہو گی، جس میں تَقريباً 300 ملین ڈالر کے تخمینے کی سہولیات ہوں گی،" پیٹرک طلق، ایف ایم ایس عراق پروجیکٹ مینیجر نے کہا۔ اے ایف ایم سی کے لیئے ایک بہت چھوٹے ایف ایم ایس کیس میں، ضلع نیو موطانہ ائیر بیس میں سی-130 طیاروں کو سمانے کے لیۓ تعمیر نو کر رہا ہے۔ "اس 3 ملین ڈالر کا کیس عراقی ائیر فورس کے طیاروں کو برقرار رکھنے اور اسپیئر پارٹس کو ذخیرہ کرنے کا موقع دے گا، "طلق نے کہا۔ دیگر ایف ایم ایس منصوبوں میں الحرثیہ کا 28 ملین ڈالر کی فوجی تربیت گاہ، تاجی میں ایک 5.6 ملین ڈالر کا فوجی سیکورٹی اسکول، 21 ملین ڈالر کا معاہدہ (اے ایف ایم سی کے لیۓ) ہاک اور تکریت ائیر بیس پرعمارات کی تعمیر کے لیۓ مثلا" انتظامی دفاتر، سیکورٹی، اور کھانے کی عمارات، اور ایک 23 ملین ڈالر کا معاہدہ صوبے الانبر میں فوجی چوکیوں کو بڑھانے کے لیئے۔ پلیکی نے کہا کہ ایف ایم ایس پروگرام عام طور پر اچھی ترقی کر رہا ہے۔ "عراق ایک خودمختار ملک ہے جو آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یو ایس اے سی ای کے وزارت دفاع اور عراق ایئر فورس کی وزارت کے فوجی افسران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن ہم اسے مکمل کرتے ہیں۔" عراق ایریا آفس او ایس سی آئی آپریشن کی حمایت میں ایک اورمعاہدے کا انتظام بھی سنبھالتا ہے، جو کہ ایف ایم ایس پروگرام سے باہر ہے۔ ایک 55 ملین ڈالر کا معاہدہ مختلف مقامات میں سویلین اہلکاروں کی حفاظت کے لیئے موجود سہولیات پرخرچوں کو پورا کرتا ہے۔ ان پروگراموں کو مظبوط بنانا جو عراقی لوگوں کے لیۓ فائدہ مند ہیں مشرق وسطی ضلعے نے کئی سال سے وزارت خارجہ کے پروگراموں کی حمایت کی ہے۔ آج کا کام صرف ایک درجن منصوبوں پر مشتمل ہے، جن کی مالیت124 ملین ڈالر لگائی گئی ہے، ان میں قابل قدر اہم تعمیراتی پروگرام کے باقی ماندہ کے طور پر ور اس کے ساتھ ساتھ نئے اقدامات شامل ہیں۔ یہ پراجیکٹ دو قسموں کے ہیں:
ڈیوڈ شمڈ، وزارت خارجہ کے لیۓ پروگرام مینیجر فارورڈ، عراقی سٹریٹیجک پارٹنر شپ آفس کے ساتھ منصوبوں میں کامیابی اور ان کی تکمیل کے لیۓ براہ راست کام کرتے ہیں۔ "ہمارے سب سے اہم منصوبوں میں سے دو وزارت صحت کے لیئے ہیں: بصرہ میں بچوں کے ہسپتال میں اور میسان ہسپتال میں،" شمڈ نے کہا۔ "بچوں کے ہسپتال میں معمار انجینئر اور حصولی سامان کے معاہدے کے ذریعے کام میں عمارت کے آپریشنز اور اس کی دیکھ بھال اوراضافی طبی سامان شامل ہیں۔ یہ عراق میں بچوں میں کینسر کے علاج کے لیے وقف پہلا ہسپتال ہے۔" مستقل جاری مدد اہم ہے کیونکہ امریکہ اور دوسرے ہدیہ کنندہ ممالک نے بصرہ کے بچوں کے ہسپتال میں 166 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میسان ہسپتال بھی عراقی شہریوں کے لیۓ شدید ضرورت کی دیکھ بھال فراہم کرے گا کیونکہ اس کی تعمیر اس انتظامی علاقے میں کی گئی ہے جہاں طبی سہولتوں کا شدید فقدان ہے، شمڈ نے کہا۔ اس 12 ملین ڈالر کے ہسپتال میں 80 مریضوں کے بستر ہوں گے، ایک فوری طبی امداد کا شعبہ، دو ڈاکٹروں کے رہنے کی عمارات، اور اس کے ساتھ کا ضروری بنیادی ڈھانچہ ہو گا۔ قابل ذکر منصوبوں میں سے ایک اور، "ضلع فلوجہ میں فضلہ پانی کی صفائی کے پلانٹ کی سپورٹ آپریشن اور دیکھ بھال میں مدد اس کوچلانے والے عملے کی تربیت کے ذریعے جاری رکھے گا،" شمڈ نے کہا۔ "اس کے علاوہ ہم فضلہ پانی کی صفائی کے پلانٹ کی گھروں میں کنکشن، ٹرنک لائن کی تعمیر اور پمپ اسٹیشن کی تعمیر کے لیئے وزارت بلدیہ اور تعمیرات عامہ کو وزارت خارجہ کی طوف سے فراہم کی گئی گرانٹ کی نگرانی کرتے ہیں۔" کیونکہ امریکی حکومت نے اس نظام کی تعمیر میں 108 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، پلانٹ کے ساتھ منسلک بعد میں ہونے والی کاروائیاں اس کے لیئے اہم ہیں، شمڈ نے کہا۔ اس منصوبے کی تعمیر سات سال کی مدت سے زیادہ شورش پسندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے مشکل ثابت ہوئی۔ یہ پلانٹ بالآخر فلوجہ کے شہر میں، جہاں گٹرکا نظام موجود نہیں تھا تقریبا" 100،000 رہائیشیوں کی خدمت کرے گا، ن کے پاس اس نظام کی تعمیر سے قبل گٹروں کا نظام نہیں تھا۔ مشرق وسطی ضلعہ ایک دوسری گرانٹ کی نگرانی بھی کرتا ہے، مصیب بجلی گھر میں بجلی کی وزارت کی دو دوسرے یونٹوں کے خرچوں کے لیئے۔ ایک بار مکمل ہونے پر، یہ منصوبہ بغداد کے لیئے بجلی میں اضافہ کرے گا۔ ضلع مختلف مراحل میں کئی دیگر منصوبوں کا انتظام بھی کر رہا ہے، تمام کے تمام 2013 کے ستمبر میں ختم ہو جائیں گے۔ صرف تبدیلی ہی کو استقرار ہے جیسا کہ ان کا عراق کا دورہ اختتام کے قریب آتا ہے، مچل نے کہا کہ یو ایس اے سی ای اپنے گاہکوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے اپنی موجودگی کو شکل دینا جاری رکھے گا۔ عراق ایریا آفس شائد ایک چھوٹے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیل ہو جاۓ گا جو کہ مرکزی بغداد سے کام کے ساتھ منسلک پراجیکٹ کے دفاتر کے ساتھ کام کرے گا۔ دفتر اپنے بنیادی عراقی شہریوں کو ساتھ رکھے گا جو کہ تعمیراتی انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ "عراقی شہری ہمارے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کی صلاحیت میں انتہائی اہم ہیں،" مچل نے کہا۔ "وہ ہمارے طریقہ عمل، ہمارے پیداواری معیار، اور ہماری حفاظت کے طریقوں کو جانتے ہیں۔ وہ اپنے کام میں فخر محسوس کرتے ہیں۔" جیسے جیسے ہمارا مشن یہاں مراحل طے کرتا جا رہا ہے، مجھے یہ دیکھ کر سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ رہے ہیں، صنعت میں نوکری کی طرف یا وزارتوں میں، انھوں نے جوکچھ یو ایس اے سی ای کے ساتھ سیکھا ہے اس کی وجہ سے وہ بہتر طور پر تیار ہیں۔ انجینئرنگ کی صلاحیت کی ترقی نے عراق میں استحکام کے لیۓ اہم کام انجام دیا ہے۔ "مجھے منصوبوں کو مکمل کرنے کی اپنی صلاحیت پر سب سے زیادہ فخر ہے،" مچل نے کہا۔ "ہر منصوبے کی تکمیل ایک فتح ہے، ہر مکمل منصوبے سے عراقی عوام کو فائدہ پہنچتا ہے اور یہ عراق کے استحکام میں ہماری شراکت کی نمائندگی کرتا ہے۔" |