| اوباما کے عراق میں کام ختم ہونے پر امریکی فوجیوں کی تعریف | Array چھاپیے Array |
منجانب Jim Garamone, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن [14 دسمبر، 2011] – صدر براک اباما نے آج فورٹ بریگ، شمالی کیرولائینا میں فوجیوں سے کہا کہ جب عراق میں آخری امریکی فوجی اپنا سامان باندھ کر کویت میں منتقل ہوئے تو وہ یہ جانتے تھے کہ وہ اپنا سر اٹھا کر چل سکتے ہیں کہ انھوں نے جو بھی کیا وہ امریکہ کے لئے اور خطے میں قیام امن کے لیۓ اچھا کیا۔ اوباما نے کہا کہ عراق کی جنگ میں سب سے زیادہ اہم سبق امریکہ کے قومی کردار کے بارے میں حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ان مشکلات کو جن کا ہماری قوم کو سامنا ہے اگر ہم اکٹھے کھڑے ہوں توایسی کوئی بھی چیز نہیں جو ہم امریکی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان تمام اختلافات کو دیکھتے ہوۓ جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے آپ ہمیں وہاں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے اختلافات سے بڑھ کر اور بھی کچھ ہے، وہ کچھ جو ہمیں ایک قوم اور لوگوں کا ایک گروہ بناتا ہے۔ نسل اورعقیدے کے قطع نظر، اس بات کے قطع نظربھی کہ ہم ملک کے کس حصے سے تعلق رکھتے ہیں، کہ ہماری کیا شناخت ہے، آپ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم ایک قوم ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ حقیقت ہی امریکی فوج کو ملک میں سب سے زیادہ قابل احترام ادارہ بناتی ہے۔ فورٹ بریگ میں نوجوان مرد اور عورتیں 1.5 ملین سے زیادہ امریکیوں کو جنہوں نے عراق میں خدمات سر انجام دیں ہیں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 30،000 سے زیادہ امریکیوں کو اس دس سالہ تنازعے کی وجہ سے جسمانی زخم آۓ اور لاکھوں ایسے ہیں جن کے زخم نہ نظر آنے والے ہیں مثلا" دماغی دباو اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس۔ اوباما نے کہا کہ تقریباً 4،500 امریکیوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی اور ان قربان ہونے والوں میں سے 202 یہاں فورٹ بریگ سے تھے۔ تو آج ہم ان تمام خاندانوں کے لیے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، وہ ہمارے وسیع تر امریکی خاندان کا حصہ ہیں اور ہم انکے لئے دعا کی غرض سے چند لمحوں کے لیے رُکتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس 11 ستمبر کی نسل نے تاریخ میں اپنی جگہ حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی وجہ سے اور کیونکہ آپ نے ان لوگوں کے لیۓ جن کو آپ جانتے بھی نہیں تھے قربانی دیں ہیں، عراقیوں کو اپنی قسمت خود بنانے کا ایک موقع ملا ہے۔ یہ اس کا حصہ ہے جو ہمیں امریکیوں کے طور پر خصوصی بناتا ہے۔ دور قدیم کی سلطنتوں کے برعکس، ہم یہ قربانیاں علاقے یا وسائل کے لئے نہیں دیتے؛ ہم یہ اس لیۓ کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک درست بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود ارادیت کے لئے امریکہ کی حمایت کے بارے میں عراق کو اس کے لوگوں پر چھوڑنے سے زیادہ اور کوئی اظہار نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ ہمارے بارے میں کافی کچھ کہتا ہے۔ صدر نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے یہ ارکان طالبان کا مقابلہ کر رہے ہیں اور القاعدہ کی کمر توڑرہے ہیں۔ اوباما نے کہا کہ آپ کی وجہ سے ہم نے تبدیلی لانا شروع کی ہے، افغان ہمیں وہاں سے ہمارے فوجیوں کو گھر لانے میں مدد دیں گے اور دنیا بھر میں جیسا کہ ہم عراق سے واپس آنا شروع ہو گۓ ہیں، ہم نے القاعدہ کا پیچھا شروع کر دیا ہے تاکہ ان دہشت گردوں کو جو کہ امریکہ کے لیۓ خطرہ ہیں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ ملیں اور اسامہ بن لادن اس زمین پر پھر دوبارہ نہیں چلے گا۔ صدر نے کہا کہ جلد ہی آخری فوجی بھی عراق چھوڑ دیں گے اوران امریکیوں کی کامیابیاں جنہوں نے وہاں لڑائی لڑی تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ اس نے ان مرد اور خواتین کا ان سے موازنہ کیا جنہوں نے برطانیہ کے خلاف جنگِ آزادی لڑی اور جنہوں نے فیشیزم اور کمیونزم کو شکست دی۔ انھوں نے خانہ جنگی کو یاد کرتے ہوۓ کہا کہ ان لوگوں کی طرح جنہوں نے یونین کے لیۓ لڑائی لڑی، یہ نسل بھی اس جوش سے واقف ہے۔
اوباما نے کہا کہ آج یہاں آپ سب نے جنگ کی آگ کو بُھگتا ہے۔ آپ سب کو اس لیۓ یاد رکھا جائے گا اور آپ سب کی ہمیشہ اس لئے قدر کی جائے گی، آپ نے اپنی زندگیاں ایک معنی خیز انداز میں بسر کیں ہیں ۔ اوباما نے کہا کہ آج کی سروس کے ارکانوں نے یہ جانتے ہوۓ بھی جنگ کے دوران بھرتی ہوئے کہ یہی وہ لوگ ہوں گے جنہیں یہ جنگ لڑنی پڑے گی۔ صدر نے کہا کہ جب حالات مشکل تھے تو آپ نے جنگ جاری رکھی۔ جب کوئی آخر نظر نہیں آتا تھا تو آپ نے اندھیرے میں روشنی ڈھونڈی اور آج سے سالوں بعد آپ کی میراث ارلنگٹن میں آپ کے قربان ہونے والے ساتھیوں کے کتبوں پر کھدی ہوئی ہو گی اور ملک بھر میں خاموش یادگار کے ذریعے، پریڈ میں مارچ کے دوران سرگوشیوں میں تعریف کے الفاظ، اور ہمارے بچوں اور ہمارے پوتے پوتیوں کی آزادی کی دوران آپکی قربانیاں یاد کیں جائیں گیں۔ صدر نے کہا اور وہ یاد رکھیں گے کہ وہ جنگی کی آگ سے متاثر ہوۓ تھے اور انھیں فخر ہو گا کہ انکی ضرورت کے وقت آپ نے انکی پکار سُنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک بہت عظیم ضرورت کے دروان خدمات انجام دیں ہیں۔ آپ نے عراق میں تمام قوموں کے درمیان ایک منصفانہ اور پائیدار امن قائم کرنے میں مدد دی ہے۔ مجھے اور امریکہ کو آپ پربہت فخر ہے۔ |