| شراکت کی طاقت: عراقیوں نے تاریخی منتقلی میں انبار کی تنصیبات کا قبضہ سنبھال لیا | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Kissta Feldner, 2nd Brigade Combat Team, 82nd Airborne Division Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریںرمادی، عراق [2 نومبر، 2011] - انبار صوبہ جو کبھی باغیوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا تھا اور جہاں پر بار بار بم دھماکوں اور قتل کی دہشت چھائی ہوتی تھی اب شراکت داری کی طاقت کی ایک روشن مثال تصور کیا جاتا ہے. گزشتہ پانچ سالوں کے دوران امریکی افواج اور عراق کی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون نے اس علاقے کو بہت سارے طریقوں سے، جن میں میں سب سے زیادہ نمایاں عراقی سیکورٹی فورسز کی صلاحیتں اور اہلیت بھی شامل ہیں کو مضبوط بنایا ہے. عراقی حکومت کی 82ویں ہوائی ڈویژن کی دوسری بریگیڈ کی صوبے بھر کی تنصیبات کے لئے ذمہ داری کو قبول کرنے کی شروعات سے اس کامیاب اتحاد کا عروج آن پہنچا ہے۔ کیپٹن بریڈفورڈ گیڈی، جو کہ فالکن بریگیڈ بی کمپنی، فرسٹ بٹالین، 325ویں ائیربورن پیادہ رجمنٹ کے کمانڈر ہیں نے 30 اکتوبر کو انبار کاروئیوں کے مرکز اور انبار پولیس ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری عراق کی حکومت کو سونپ دی۔ یہ تاریخی واقعہ صوبے میں امریکی افواج کے کردار کی تکمیل اور امریکی معاونت کے بغیر اپنے گھر کی حفاظت میں آئی ایس ایف میں ان کے اعتماد کو واضع کرتا ہے۔ 2006 میں عراق کی حکومت اور انبار کے عوام نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر القاعدہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لینا شروع کر دیا. قبائلی رہنماؤں کے تعاون سے'بیداری' کی مہم شروع کی گئی جس میں دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف امریکی افواج، شہریوں اورعراقی پولیس کی مدد سے ترقی کا آغاز کیا گیا. تاہم، آئی پی ایس اور عراقی فوجوں ميں ایک منظم اور مسلح دہشت گرد گروپ کے خلاف لڑنے کے لئے مطلوبہ مہارتوں کی کمی تھی. امریکی فورسز نے اس کے جواب میں مشن کو تبدیل کر دیا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ عراقی یہ جنگ خود لڑنے اور اپنے صوبے کو محفوظ بنانے کے قابل ہیں اور یہ کہ یہ اپنی عوام کی حفاظت کی ضمانت دے سکیں گے اب فوج ایک مشوارتی، تربیتی، مددگار اور مسلح وجود کے طور پر خدمات انجام دینے لگی۔ فوجیوں نے یونیفارم سے لے کرگاڑیوں اور اسلحے کی فراہمی تک، سب کچھ عراقی سیکورٹی فورسزکو فراہم کیا. لیکن ان کی فراہمی کافی نہیں تھی، ان کو ان کا استعمال بھی سیکھانا تھا. امریکی فوجیوں نے عراقیوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی شروع کی۔ فوجی اس وقت اے او سی اور اے پی ڈی کی عمارتوں میں ان کے ساتھ رہ کر اور کام کر رہے تھے تاکہ مقامی فورسز کی تربیت کو اور تنصیبات پر کام کرنے والے حکومتی اہلکاروں سے رابطے کو آسان بنایا جا سکے۔ لیفٹیننٹ کرنل ایرک جو کہ اے او سی کے لیۓ 82/2 استحکام ٹرانزیشن ٹیم کے سربراہ ہیں نے کہا کہ حکومتی اہلکاروں، آئی ایے ایف اور فوجیوں کے درمیان اطلاعات کی فراوانی اور تنصیبات سے قریب ہونے نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی قسم کی مواصلات ضائع نہ ہوں۔ ہم بریگیڈ اور عراقیوں کے درمیان اطلاعات پہنچانے کا کردار اد ا کر رہے تھے اور ہم عراقیوں کی کارکردگی سے انھیں واقف رکھتے تھے۔ ایڈمز جو کہ نیو یارک کے پیدائیشی ہیں نے کہا کہ ہمارے آس پاس ہونے سے بہت کم وقت کے نوٹس پر میل جول بڑھانے، قائم رکھنے کے علاوہ فوجیوں کو آئی ایس ایف کف مشنوں کی بھی مدد کا موقع ملا ہے۔ ہمیں آدھی رات کو بھی کسی صورت حال کو سنبھالنے کے لیۓ کہا گیا اور انھیں بہت سرعت سے عراقیوں کے ساتھ کاروائیوں کو ہم ربط بنانے اور ضروری سہولت پہنچانے کا موقع ملا۔ 2008 میں سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ، انبار میں سیکورٹی کی ذمہ داریاں آئی ایس ایف کو سونپ دی گئیں تھیں. علاقے میں تمام کاروائیوں کی قیادت عراقیوں کی طرف سے ہوئی. امریکی فوجیوں نے انبار میں آئی ایس ایف کو مشورہ دینے کا کام سنبھالا جبکہ انبار کی فورسز نے صوبے کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دیں. 82/2 نے کاروائی نئی صبح کی مدد کی غرض سے اس مشن کی مدد جاری رکھی اور جیسے جیسے امریکی فوجیں ملک کے سب سے بڑے صوبے سے اس سال کے آخر تک اپنی فوجیں نکال لینے کے لیۓ تیاری کرنے لگیں یہ آہستہ آہستہ اپنی راۓ میں کمی کرتی چلی گئیں ۔ اکتوبر میں انھوں نے ان تنصیبات جن کو امریکی سالوں سے چلا رہے تھے کو ان کے حوالے کرنا شروع کیا۔ گیڈی نے کہا کہ تعیناتی کے آغاز سے، پیرا ٹروپر نے سامان کی مرمت اور نو سالوں کے دوران جمع شدہ اشیاء کے قبضے کو ان کو حوالے کرنے کے لیۓ فہرستیں بنانا شروع کر دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بہت سا کام پس پردہ بھی کیا گیا۔ گیڈی جو کہ اب عراق میں اپنے دوسرے دورے پر ہیں، اور جن کا پہلہ دورہ 2005 میں کاروائی عراقی آزادی کے دوران ہوا تھا انکے لیے یہ تجربہ خاص اہمیت کا حامل ہے. انہوں نے کہا کہ میرے لیۓ ضروری تھا کہ حالات میں فرق کا جائزہ لوں. ہم ان کے ساتھ رہ رہے ہیں اور مل کر ساتھ کام کر رہے ہیں اور جس کے بارے میں میری پچھلی تعیناتی کے دوران کسی کو وہم و غمان بھی نہیں تھا۔ . ان تنصیبات کے بند کرنے کے ساتھ ساتھ، عراق میں امریکی کاروائی بھی ختم ہونے کے قریب ہیں. انبار کے لوگ اب امید افزاء مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اہم شراکت کو یاد کر رہے ہیں جس کی تخلیق میں انھوں نے مدد دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انبار کے ڈپٹی گورنر حکمت زیدان جاسم نے کہا کہ جو کچھ بھی انھوں نے کام کیا ہے اب اس کے فوائد دکھائی دے رہے ہیں اور یہ امریکی فوجیوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ سب امریکی فورسز کی سخت محنت اور قربانی کی وجہ سے ہوا ہے۔ |