سی جے آئی اے ٹی ایف 435 مقامی گاؤں اور افغان فوج کی زندگی بچانے کے علاقے میں بجلی پہنچا رہی ہے Array چھاپیے Array
منجانب Senior Chief Mass Communication Specialist (EXW) Tom Jones, Combined Joint Interagency Task Force 435

سیہ دو خان، افغانستان ( 13 اگست، 2011) – مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے انجنئیروں نے 10 اگست کو ایک سروے کیا کہ پروان کی جیل کے کنٹرول کو آخر کار افغان ہاتھوں میں دینے کے جاری عمل کے ایک حصے کے طور پر عمارت کے چند حصوں کو افغانستان کی قومی طاقتوں کو ساتھ ملایا جا سکے۔

یہ منصوبہ مکمل ہونے پر 220 واٹ/50 میگا ہرٹز، جو کہ پورے افغانستان میں بجلی لگانے کا ایک معیار ہے، افغان قومی فوج اے این اے کا زندگی بچانے کا علاقہ اور  پروان کے انصاف مرکز(جے سی آئی پی) میں بجلی پہنچاۓ گا۔

امریکی فوجی لیفٹیننٹ کرنل مارک مارٹینیز جو کہ لیون ورتھ، کنساس سے ہیں اور سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے چیف انجنئیر بھی ہیں، ہم آہنگی کی کوششوں اور عمارت تک دیر پا بجلی پہنچانے کے ضمن میں سربراہی کر رہے ہیں۔  انھوں نے کہا کہ اے این اے اور جے سی آئی پی کی افغانستان کی بجلی کے علاقے تک رسائی بہت اہم ہے کیونکہ جو آلات اے این اے اور ‎‎ سی جے سی آئی پی استعمال کرتے ہیں وہ صرف 220 وولٹ/50 میگا ہرٹز پر چلتے ہیں۔

مارٹینیز نے کہا کہ یہ منصوبہ اس عمارت کی افغان کنٹرول میں منتقلی کے لیۓ بہت اہم ہو گا۔ اس وقت فوج کی زندگی بچانے کا علاقہ اور پروان کا انصاف مرکز جنریٹروں سے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ ایندھن کی قیمت اور اس کو چلانے کا خرچہ افغان برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیبارٹمنٹ کے نمائیندے ونس ہوارسٹی، جو کہ انصاف کے مرکزی پروگرام کے مینیجر ہیں، سمجھتے ہیں کہ اے این اے لائیف سپورٹ ایریا اور جے سی آئی پی کو افغان طاقتوں کے ساتھ ملانا صرف آلات کو بجلی کی تاروں کے ساتھ جوڑ دینے سے کہیں ذیادہ ہے۔

ہوارسٹی نے کہا کہ کسی بھی انفراسٹرکچر کو قائم رکھنے کے لیۓ بجلی، پانی اور سیوریج تین بڑے سوالات ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ بجلی لگ جانے کے بعد بجاۓ جنریٹر پر بھروسہ کرنے اور ہر روز اتنا ایندھن استعمال کرنے کہ اور جس کی بہت دیکھ بھال بھی کرنی پڑے اور جو اکثر خراب ہو جاتا ہے، بجلی کی یہ تاریں افغانی کارکنوں کو افغانی عمارت میں کام کرنے کے قابل بنا دیں گیں۔ جے سی آئی پی میں بجاۓ 22 جنریٹروں کی ٹینکیاں بھرنے کی فکر کرنے کے بجائے افغانیوں کو صرف ایک ماہانہ بل ادا کرنا ہو گا۔

اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر اور جیسا کہ  سیہ دو خان میں ہوا، جن بجلی کی تاروں کی نشاندہی بگرام فضائیہ فیلڈ کے آس پاس اور جے سی آئی پی کے راستے کے ساتھ ساتھ کی گئی ہے، گاؤں کے قریب لگائی جائیں گیں۔

مارٹینیز اور ہوارسٹی نے کہا کہ یہ منصوبہ سیہ دو خان اور دوسرے گاؤں کو ایک دیر پا بجلی کی سہولت اور بہت کچھ فراہم کرے گا۔

ہوارسٹی نے کہا کہ گاؤں والوں کی مدد کے ذریعے ہم صرف تاریں بچانے اور ایلیکٹران بھیجنے سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ ہم دوست بنا رہے ہیں اور اب ہم ایک بنیادی سہولت فراہم کر رہے ہیں اور وہ سہولت ہے بجلی جو کہ ان مقامی لوگوں کو روز مرہ کی زندگی گزارنے میں مدد کرتی ہے، لیکن یہ اس سے بھی اور ذیادہ کام کرتی ہے۔ یہ ان کو کاروبار شروع کرنے یا اپنے لیۓ نئی عمارتیں بنانے میں مدد دیتی ہے۔

ہوارسٹی  نے کہا کہ گاؤں میں دیرپا بجلی پہنچانے سے مقامی افغانوں کو سماجی اور معاشی طور پر کامیاب ہونے کے مواقعے ملیں گے۔

ہوارسٹی نے کہا کہ میں نے اس کو لوگوں کے لۓ پاور کے ٹور کا نام دیا ہے۔ حقیقت میں بھی اورعلامتی طور پر بھی کیونکہ بجلی ان کو زندگی میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے، معاشی ترقی، اور مزید نوکریوں کے اور زیادہ مواقعے فراہم کرتی ہے۔ یہ ہمارے لیۓ اچھا ہے، ان کے لیۓ اچھا ہے اور ہمارے افغانستان کے مشن کے لیۓ اچھا ہے۔

جب سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے انجنئیر پراجیکٹ کی منصوبہ بندی ختم کر لیں گے تو یہ افغان ٹھیکےداروں کے لیۓ اس پر بولی لگانے کے لیۓ مہیا کیا جاۓ گا۔ امید کی جاتی ہے کہ ایک مزید افغانی گاؤں کو قوم کے انفراسٹرکچر سے ملاتے ہوۓ اور پروان کی عمارت کو افغان کنٹرول میں دینے کی طرف ایک اور حقیقی قدم اٹھاتے ہوۓ یہ پراجیکٹ اس موسم سرما کے دوران کسی وقت بھی مکمل ہو جاۓ گا۔

مارٹینیز کے لیۓ اس پراجیکٹ کو مکمل ہوتے دیکھنا ذاتی اہمیت کا حامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان گاؤں جو کہ بگرام ایئر فیلڈ کے ارد گرد لگائی گئی دیوار سے باہر ہیں کے دوران گھوتے ہوۓ آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ ہمارے یہ ہمساۓ ہمیں کس طرح دیکھتے ہوں گے۔ دنیا کی عظیم ترین قوم، محفظ اور بگڑی ہوئی، جبکہ اس کے ہمساۓ جو کہ کچھ گز دور ہیں اپنے کنوں کو سوکھنے سے اور اپنے جنریٹروں کو ایندھن کے خاتمے سے بچانے کے لیۓ جدو جہد میں مصروف ہیں۔ اس گاؤں کو ملانے اور ان کو اس منصوبے کے ذریعے بجلی پہنچانے سے، مجھے امید ہے کہ، وہ حد یا لائن جو ان کو اور ہمیں جدا کرتی ہے کسی نہ کسی طرح کچھ حد تک ہلکی ہو جاۓ گی۔

سی جے آئی اے ٹی ایف 435 جس کا صدر دفتر کیمپ فینیکس کابل میں ہے اور جس میں فوج، بحریہ، مرین کور اور فضائیہ فورس شامل ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ اتحادی ساتھی اور مندرجہ ذیل تنظیموں کے شہری ارکان بھی ہیں، جن میں امریکہ کا قومی سلامتی کا محکمہ، امریکی امیگریشن اور کسٹمز کا محکہ، امریکہ کا انصاف کا محکمہ، انسداد منشیات کا محکمہ، امریکی بین الاقوامی ترقی کا محکمہ، امریکی تحقیقات کا محکمہ، بین الاقوامی سکیوریٹی امدادی فورس کی مشترکہ کمان، امریکی مارشل سروس اور مشترکہ سکیوریٹی ٹرانزیشن کمان افغانستان کے محکمے شامل ہیں۔

سی جے آئی اے ٹی ایف 435 نے اسلامی عوامی حکومت افغانستان اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ مل کر گرفتاری، بحالی، عدالتی، اور بائیو میٹرکس کی کاروائیاں کیں ہیں تاکہ حوالات کے معمولات افغان کنٹرول میں دیۓ جا سکیں اور قانون کی بالادستی قائم کی جا سکے۔