| افغان گورنروں کی جانب سے قانون کی حکمرانی پر بات چیت | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںصوبہ پروان، افغانستان 31 مارچ 2011- افغانستان کے مختلف صوبوں کے گورنروں اور مختلف وزارتوں کے نمائندوں نے 29 مارچ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کے ارکان سے ملاقات کی اور اپنے اپنے صوبوں میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔ شوریٰ کے دوران وفد نے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے کوششوں، جیل خانوں کی اصلاحات اور بائیومیٹرک صلاحیت کے حامل تذکروں پر گفتگو کی۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع جو سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے افغان کمانڈر بھی ہیں نے کہا کہ یہ شوریٰ معلومات جمع کرنے اور ان موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہمیں صوبوں میں امن و امان بڑھانے میں گورنروں کی دلچسپی دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس وقت افغان حکومت مزارِ شریف، ننگرہار، خوست، قندھار اور ہرات میں صوبائی مراکزِ انصاف قائم کر رہی ہے۔ عدالتیں شہریوں کو تنازعات کی تصفیے کی خدمات اور افغان کریمنل جسٹس کی صلاحیتیں بڑھا کر افغانستان میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے پر کام کریں گی۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 میں امریکی ایڈمرل رابرٹ ایس ہارورڈ کا کہنا تھا کہ میری ٹاسک فورس کی اولین ذمہ داری افغان رہنمائوں کے ساتھ مل کر قانون کی حکمرانی کو ممکن بنانا ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر آپ امن قائم نہیں کر سکتے اور یہ سب سے اہم کام ہے۔ جیسے ہی یہ پہلے پانچ مراکزِ انصاف قائم ہوں گے ہم ان کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔ گورنروں نے مراکز انصاف کے 36 دیگر مجوزہ مقامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گورنروں نے پیش کی جانے والی معلومات کا جائزہ لیا، ٹاسک فورس کی رہنمائی کی اور مستقبل قریب میں دوبارہ ملاقات کا وقت طے کیا۔ اس موقعے پر ایک گورنر نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں ان کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ان معلومات کا جائزہ لینا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں اپنے صوبوں کے لیے کیا کچھ چاہیے۔ وفد کو صوبے کی جیلوں پر بھی تازہ ترین معلومات فراہم کی گئیں جس میں انہوں نے افغان اداروں کی جانب سے شناخت کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا تا کہ افغانستان میں جیلیں عسکریت پسندی کی درسگاہیں نہ بن پائیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 نے افغان حکام کی مدد سے 31 صوبائی جیلوں کو اصلاحات کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان منصوبوں میں جیلوں کی تعمیر و مرمت، صوبائی جیلوں سے جنم لینے والے قومی سلامتی کے خطرات سے نپٹنا، ووکیشنل تربیت پر عمل درآمد، ہاوسنگ یونٹ کو بہتر بنانا اور جیلوں کے عملے کے رویے کو بہتر بنانا اور بالاخر ان سب اقدامات سے افغانستان میں قانون کی حکمرانی میں اضافہ کرنا ہے۔ گورنروں نے افغانستان کی جیلوں میں جاری کیس انتظامیہ کے سسٹم میں خاص دلچسپی ظاہر کی۔ پلِ چرخی کی جیل کو نکتہ آغاز سمجھتے ہوئے مرکزی قید خانہ ڈائریکٹوریت، قومی ڈائریکٹوریت آف سکیورٹی، وزارتِ انصاف اور سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے اہلکاروں نے ایک مرکزی ڈیٹا بیس تیار کی جسے جیلوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ڈیٹا بیس ادارے پلِ چرخی کے کیسز کا پتہ چلا سکتے ہیں اور انفرادی کیسوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ گورنروں نے اس نظام کو ان کے صوبوں تک توسیع دینے پر اتفاق کیا اور صوبوں میں امن و امان کے قیام کے لیے مزید اقدمات اٹھانے کے لیے فیڈ بیک دینے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔ صوبے کی جیلوں میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنے والے ایک اور گورنر کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کا ایک پہلو انفرسٹرکچر ہے اور دوسرا گورننس اور ہمیں ان شعبوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ مذکورہ گورنر نے اس موقعے پر گروپ سے تبادلہ خیال کیا کہ وہ اپنے صوبے کی جیلوں کی آبادی کو کس طرح بہترین انداز سے سنبھال سکتے ہیں۔ گفتگو میں بائیومیٹرک کی صلاحیت والا قومی شناخت کرنے والا سسٹم، برقی تذکرے پر کھل کر بات ہوئی۔ فی الوقت تذکرے میں کسی شخص کی انفرادی شناخت کی معلومات ہی شامل ہوتی ہیں اور انہیں بھی ایک کاغذ پر درج کیا جاتا ہے۔ جبکہ برقی تذکرے میں یہ معلومات اور اس کے علاوہ انگلیوں کے نشان، آئی ریس سکین اور ہر شہری کی ڈیجیٹل تصویر بھی شامل ہو گی۔ برقی تذکرے میں انگلیوں کے نشانات اور آئی ریس سکین کا استعمال اسے شناخت کا بہترین طریقہ بنا دے گا۔ ہارورڈ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے لیے یہ نظام بہت اچھا ہے کیونکہ اس سے کوئی شخص اپنی شناخت میں جعل سازی نہیں کر پائے گا۔ جیسے ہی آپ کو اپنا برقی تذکرہ مل جائے گا تو آپ اپنی تمام شناختی معلومات فراہم کریں گے اور ہمیشہ کے لیے آپ کی انگلیوں کے نشانات اور آئی ریس سکین سے منسلک کر دی جائیں گی۔ مستقبل میں برقی تذکرہ کو ووٹروں کے اندراج، گاڑیوں کی رجسٹریشن، کاروبار کی رجسٹریشن، تجارتی لائسنس جاری کرنے، سکول میں داخلے اور سرکاری خدمات میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ قیدیوں کی بحالی کے سلسلے میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر گفتگو کے بعد شوریٰ اختتام پذیر ہو گئی۔ شرکا گفتگو اس پر متفق تھے کہ ان کا وقت ضائع نہیں ہوا۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے افغان کمانڈر کے مطابق آج کی گفتگو سے ٹاسک فورس اس قابل ہو گئی کہ وہ اپنی کوششوں کو گورنروں اور دیگر شراکت داروں کی ترجیحات سے ہم آہنگ کر سکیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 میں فوجی، بحری، میرین کور اور فضائیہ فورس اور اس کے علاوہ عام شہری اور اتحادی ارکان شامل ہیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 نے متعدد افغان وزارتوں کے ساتھ شراکت داری قائم کر رکھی ہے اور یہ ان اداروں کے ارکان پر مشتمل ہے: امریکی قومی سلامتی کا محکمہ، امریکی امیگریشن اور کسٹمز عمل درآمد، امریکی قانونی محکمہ، منشیات کے عمل درآمد کا محکمہ، غیر ملکی ترقی کا محکمہ، تحقیقاتی محکمہ، بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس مشترکہ کماند، امریکی مارشلز سروس اور مشترکہ سکیورٹی ٹرانزیشن کمانڈ افغانستان۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہوئے جیلوں کا انتطام افغان کنٹرول میں دینے پر کام کر رہی ہے۔ |