افغان کمانڈر کی جانب سے پروان میں افغان قومی فوج کی نظامی حمایت کے علاقے کا دورہ Array چھاپیے Array
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435

صوبہ پروان، افغانستان 28 مارچ 2011 - مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر نے جمعرات 24 مارچ 2011 کو افغان قومی فوج نظامی حمایت کےعلاقے کا دورہ کیا اور وہاں کاروائی اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور افغان قومی فوج کے جوانوں سے ملاقات کی۔

افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع نے اس موقعے پر کہا کہ یہ میرے بچوں، میرے بیٹوں جیسے ہیں، ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور مجھے یہاں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ لوگ فوجی پولیس کی حیثیت سے اپنے ملک کی خدمت کے لیے چُنے گئے ہیں۔

ایل ایس اے بنیادی طور پر پروان اور پُلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے ارکان کا مرکزی دفتر ہے اور انہیں اس وقت پروان کے قید خانے کے محفاظوں کی حیثیت سے تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی یہ تعیناتی قید خانے کی اتحادی فوجوں سے مرحلہ وار افغان حکومت کو منتقلی کا حصہ ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کے افغان کمانڈر کی حیثیت سے مرجان اس منتقلی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اس بارے میں مرجان نے کہا کہ منتقلی کا عمل جاری ہے۔ تربیتی کورسز کے دوران ہم نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں ہیں اور ہمارے جوانوں کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔

حال ہی میں مکمل کیے گئے صدر دفتر میں بریگیڈ کمانڈروں سے ملاقات کے بعد مرجان نے فسیلیٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے طعام خانے کے توسیعی منصّوبے کا جائزہ لیا اور افغان فوجیوں سے ایل ایس اے میں رہائش کے انتظامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

گزشتہ برس ایل ایس اے میں رہنے والے افغان قومی فوج کے جوان عارضی خیموں سے لکڑی کے ڈھانچوں والی عمارت میں منتقل ہوئے۔ آنے والے دنوں میں اس عمارت میں پریڈ فیلڈ اور جِم کا اضافہ کیا جا رہا ہے جہاں جوان اپنا فارغ وقت گُزار سکیں گے۔

اس کے بعد مرجان ڈی ایف آئی پی گئے جو کہ ایل ایس اے سے ملحق ہی ہے تا کہ وہاں افغان حکام کی جانب سے چلائے جانے والے ہاوسنگ یونٹ کا جائزہ لیں۔ افغان قومی فوج کے جوان جو اس فسیلیٹی میں کام کرنے کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہیں قیدیوں کے بین الاقوامی معیار اور افغان قوانین کے مطابق دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔

مرجان نے اپنے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ہم افغان ہاوسنگ یونٹ پہنچے میں دیکھ سکتا تھا کہ افغان جوان بہترین کام کر رہے ہیں اور اس کا کریڈٹ میں ان کے تربیتی کورسز کو دوں گا۔

کابل میں بنیادی فوجی تربیت اور بنیادی ملٹری پولیس کی تربیت مکمل کرنے کے بعد افغان قومی فوج کے جوانوں کو ڈی ایف آئی پی میں تعیناتی کے لیے منتخب کیا گیا اور انہیں بعد میں ایل ایس اے میں قید خانے کی کاروائی ٹرانزیشن کورسز کے لیے انفرادی تربیت دی گئی۔

مرجان نے گروپ کو بتایا کہ وہ جوانوں سے ملاقات کرنے اور یہاں تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدگی سے دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میجر جنرل مرجان شجاع نے 1967 میں افغان قومی فوج میں شمولیت اختیار کی اور پُلِ چرخی میں پہلی کور ٹینک بریگیڈ کے پلاٹون کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اس کے بعد اس کے کمپنی کمانڈر بھی رہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران وہ ٹینک کے ڈرائیوروں، گنر اور کمانڈروں کے تربیت کاروں اور کمپنی کمانڈر کے عہدوں پر فائز رہے۔ جنرل نے وزارتِ دفاع میں بھی مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ مرجان 15 ستمبر 2010 کو سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے افغان کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

پروان اور پلِ چرخی کی ملٹری پولیس بریگیڈ افغانستان بھر میں قیدیوں کی دیکھ بھال اور قومی سلامتی کے خطرات سے نپٹنے کی ذمہ دار ہے۔ یہی ادارے ڈی ایف آئی پی کے صدر دفتر میں افغان قومی فوج کے جوانوں کی تعیناتی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ پروان اور پل چرخی کے فوجی پولیس بریگیڈ ہنگامی صورتحال میں فوری ردِ عمل دینے والا ادارہ بھی ہے۔ بریگیڈ جسے 2006 میں بنایا گیا سی جے آئی اے ٹی ایف 435، وزارتِ انصاف، سپریم کورٹ، آٹرنی جنرل آفس، قومی سکیورٹی کے ڈائریکٹوریٹ اور وزارتِ داخلہ کے ساتھ مل کر ڈی ایف آئی پی کی اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو مشروط منتقلی پر کام کر رہا ہے۔

سی جے آئی اے ٹی ایف 435 افغانستان میں موجود قید خانوں کا انتظام چلانے کا ادارہ ہے۔ یہ قیدیوں کی دیکھ بھال، ان کے رویوں پر نظر ثانی کرنے کے نطام پر عمل درآمد اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں پر عمل درآمد یقینی بناتا ہے تا کہ رہائی کے بعد قیدی معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 اپنی افغان قومی فوج کے ساتھیوں کے مشیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قید خانوں کی افغان حکام کو مشروط منتقلی پر کام کر رہا ہے تا کہ منتقلی کے بعد بھی یہاں قانون کی حکمرانی قائم رہے۔