| چار سابقہ قیدیوں کی رہائی، افغان قائدین کی طرف سے اتحاد کا مطالبہ | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںصوبہ پروان، افغانستان 28 مارچ 2011 - 24 مارچ کو شوریٰ کے بعد چار قیدیوں کو پروان کے قید خانے سے رہا کر کے خاندانوں کے ساتھ ملا دیا گیا۔ جنوری 2010 میں افغان حکومت کی قیادت میں شروع ہونے والے قیدیوں کی رہائی کے پروگرام کے تحت قیدیوں کی افغان سماج میں دوبارہ شمولیت کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ شوریٰ کا اہم حصہ ہونے کے ناطے ہر قیدی ایک حلف نامے پر دستخط کرتا ہے جس میں تشدد ترک کر کے افغان معاشرے کا پُرامن حصہ بننے اور افغان حکومت کے قوانین و ضوابط کی پابندی کا عہد کرتا ہے۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع نے تقریب کی صدارت کی اور اس موقعے پر کہا کہ ہم نے بہت سی مشکلات اور مسائل دیکھے ہیں، لیکن اب ہمارا ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں بحالی اور شمولیت کے اس مرحلے میں متحد رہنے کی ضرورت ہے تا کہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو کر سکیں۔ مرجان نے شوریٰ میں شرکت کے لیے پروان آنے والے قیدیوں کے اہل خانہ اور معززین علاقے کو خوش آمدید کہا۔ ان ضمانتیوں نے وعدہ کیا کہ وہ بھی سابقہ قیدیوں کو سماج میں دوبارہ شامل ہونے میں مدد کریں گے اور ان کے رویوں پر نظر بھی رکھیں گے۔ ضمانتیوں کے اس بیان کی کوئی قانونی حیثیت تو نہیں لیکن اسے مقامی رسوم رواج کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے افغان عوام سے مطالبہ کیا کہ جو افغانستان کی تعمیر و ترقی کی کوششوں میں مصروف ہیں وہ اتحادی فوج کی مدد کریں۔ جنرل نے کہا کہ آپ سکولوں، مسجدوں اور سڑکوں کی شکل میں بہتری دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اگرچے یہ سست عمل ہے لیکن ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔ جنرل نے مزید کہا کہ 30 سال کی جنگ کے بعد افغانستان ایک کمزور ملک بن گیا ہے جس کے بہت سے حصے جنگجو سرداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب افغانستان متحد ہے اور شہریوں کو بھی اپنے ملک کو مضبوط بنانے کے عمل کا ساتھ دینا ہو گا۔ مرجان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس افغان قومی فوج اور افغان قومی پولیس ہے جو آپ ہی کے بیٹے ہیں اور بھائی ہیں۔ یہ لوگ آپ کی حفاظت کے لیے ہیں اور اس لیے آپ کو ان کی مدد کرنا ہے۔ اس موقعے پر مقامی حکام نے عوام سے متحد رہنے اور اتحادی فوج کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ بگرام کے ضلعی گورنر کبیر احمد کا کہنا تھا کہ اب یہاں جنگ یا لڑائی کی جگہ نہیں رہی۔ ہمیں سکیورٹی کی ضرورت ہے۔ ہمیں استحکام کی ضرورت ہے۔ ہمیں ترقی کی ضرورت ہے۔ ہماری مدد کرنے کو نیٹو یہاں اپنے وسائل اور پیسے کے ساتھ آئی ہے۔ ہمیں مضبوط اور متحد رہ کر ان کی اور اپنی مدد کرنی ہے۔ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد احمد اور مرجان نے سابقہ قیدیوں کو رہائی پر مبارکباد دی اور ان سے انکے خیالات کے بارے میں پوچھا۔ رہائی پانے والوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈی ایف آئی پی میں پڑھائی اور لکھائی کے پروگرام میں شرکت اور ان سے اچھا سلوک کیا۔ ایک شخص نے کہا کہ مجھے قرآنِ پاک کا نسخہ دیا گیا اور میں اسے فسیلیٹی میں پڑھنے کے قابل ہوا۔ ڈی ایف آئی پی بگران فضائیہ فیلڈ سے متعدد کلومیٹر دور ایک جدید ترین قید خانہ ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدیوں کی منتقلی شروع کی گئی۔ ڈی ایف آئی پی میں میڈیکل فسیلیٹی، اہل خانہ سے ملاقات کے لیے علیحدہ جگہ، ووکیشنل تربیت اور تعلیمی عمل کے لیے کلاس روزم بنائے گئے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ قیدیوں کی بحالی اور سماج میں دوبارہ شمولیت کے مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کی کوششوں کو قید خانے میں شامل کیا جا سکے تا کہ افغانستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کی اجتماعی کوششوں کی کامیابی ممکن بنائی جا سکے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 اسلامی جمہوریہ افغانستان، امریکہ کے انٹرایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قید خانوں کا انتظام چلاتی، قیدیوں کی اصلاح کرتی اور عدالتی اور بائیومیٹریکس کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قید خانوں کو مشروط طور پر افغان کنٹرول میں دینے پر کام کر رہی ہے۔ |