| افغان نیشنل آرمی ملٹری پولیس کا ساتواں دستہ فارغ التحصیل ہو گیا | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریں
2 مارچ، افغان قومی فوج کے بریگیڈیئر جنرل اور پروان اور پلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے کمانڈنگ جنرل سیف اللہ عارضی حراست کاروائی کے کورس سے فارغ التحصیل ہونے والے ایک جوان کو سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں۔ تصویر امریکی بحری چیف میس مواصلات کی سپیشلسٹ ماریہ یاگر۔ صوبہ پروان، افغانستان 3 مارچ 2011 ۔ برفباری کے موسم میں 400 سپاہیوں کا ساتواں دستہ 2 مارچ 2011 کو عارضی کاروائی حراست کے کورس سے فارغ التحصیل ہو گیا۔ دو مرحلوں پر مشتمل کورس کا یہ پہلا مرحلہ ہے جو پروان کے قید خانے میں ملٹری پولیس کی حیثیت سے تعیناتی کے لیے لازمی کیا گیا ہے۔ افغان قومی فوج کے بریگیڈیئر جنرل اور پروان و پلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے کمانڈنگ جنرل سیف اللہ صفی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوششوں کے بل ہماری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور آپ لوگوں نے ہمارے ملک کے لیے بہت لگن ظاہر کی ہے۔ ہمارا کام بین الاقوامی اور افغان قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرنا ہے تا کہ جب قیدی ڈی ایف آئی پی سے رہا ہوں تو معاشرے کا کارآمد حصہ بنیں اور لوگوں کو بتائیں کہ اے این اے کے جوان اپنے ملک کی عظیم خدمت کر رہے ہیں۔ پروان اور پلِ چرخی کی ملٹری پولیس بریگیڈ قیدیوں کی حراست اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نپٹنے کی ذمہ دار ہے۔ قید خانے کو امریکی کنٹرول سے نکال کر افغان کنٹرول میں دینے کے حصے کے طور پر 1600 سے زائد اے این این کی ملٹری پولیس کے جوانوں کو ڈی ایف آئی پی میں تربیت دی جا رہی ہے۔ 7ویں دستے کے جوان جنوری میں پروان میں واقع اے این اے لاجسٹکس سپورٹ ایریا میں تربیت کے لیے پہنچے جو ڈی ایف آئی پی میں تعیناتی کے لیے لازمی ہے اور یہ کابل میں اے این اے کی بنیادی فوجی اور ملٹری پولیس تربیت مکمل کرنے کے بعد شروع کی جاتی ہے۔ تربیت کے پہلے مرحلے میں چھ ہفتوں کی کلاسیں شامل ہیں جن میں فرائض انجام دینے کے متعلق بنیادی ہدایات، قیدیوں کے ساتھ بین الاقوامی اور افغان قواعد و ضوابط کے تحت محفوظ اور انسانی سلوک کرنے کے بارے میں ہدایات شامل تھیں۔ جوانوں کو روزمرہ کی رہائشی یونٹ آپریشنز جن میں چوکیوں میں تعیناتی، کوٹھڑیوں میں غیر قانونی سامان کی تلاش، قیدیوں کو ملاقات یا دیگر کارروائیوں کے لیے لانا اور لے جانا اور ان کے لیے صحت و صفائی کی سرگرمیاں انجام دینا شامل ہیں۔ تربیت کا دوسرا اور حتمی مرحلہ ڈی ایف آئی پی میں کام کے دوران تربیت کا ہے جہاں فارغ التحصیل ہونے والے نئے جوانوں کو مزید عملی تربیت اور جانچ پرکھ کے لیے ایک تجربہ کار گارڈ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ فارغ التحصیل ہونے والے ایک جوان کا کہنا تھا کہ یہاں پہنچنا اور نئی مہارتیں سیکھنا مجھے بہت اچھا لگا ہے۔ میں چاہوں گا کہ افغان عوام ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اپنے ملک کی بحالی کے لیے کام کریں۔ ڈی ایف آئی پی بگرام ایئر فیلڈ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا گیا ایک جدید ترین قید خانہ ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدیوں کو لایا گیا ہے۔ ڈی ایف آئی پی میں طبی فسیلیٹی، اہل خانہ سے ملاقات کے لیے سنٹر، ووکیشنل اور تعلیمی سہولتیں شامل ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 افغانستان میں اپنی انسدادِ مزاحمت کی حکمت عملی کو بھی یہاں لاگو کر سکے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قید خانوں کے نظام کو افغان حکومت کے سپرد کرنے کے لیے فعال انداز میں افغان فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ |