| افغان کمانڈر کی جانب سے ڈی ایف آئی پی میں کامیابیوں کا اظہار | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریں
14 فروری، افغان قومی فوج کے بریگیڈیئر جنرل سیف اللہ صفی، پروان اور پلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے کمانڈر قازقستان اور ترکمانستان سے آئے ہوئے وفد کو پروان کے قید خانے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ تصویر امریکی بحریہ کے چیف میس مواصلات کی سپیشلسٹ ماریا یاگر۔ صوبہ پروان، افغانستان 16- فروری 2011 ۔ اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے 14 فروری کو پروان کے قید خانے کا دورہ کیا تا کہ وہاں کے طریقہ کار اور قید خانے کو افغان کنٹرول میں دینے کے عمل کو قریب سے جان سکیں۔ افغان قومی فوج کے بریگیڈیئر جنرل سیف اللہ صفی، جو کہ پروان اور پلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے کمانڈر بھی ہیں نے قازقستان اور ترکمانستان سے آنے والے مہمانوں کو بتایا کہ وہ یقینی بنا رہے ہیں کہ اے این اے کے جوان اس فسیلیٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار ہیں اور یہ کہ امریکی اور افغان حکام ہی اس کی منتقلی کا وقت طے کریں گے۔ ڈی ایف آئی پی میں تعینات 1,800 افغان فوجیوں کی کمانڈ کرنے والے سیف اللہ کا کہنا تھا کہ فسیلیٹی کی متنقلی بعض حالات سے مشروط ہے۔ جیسے ہی ہم فسیلیٹی کو کامیاب سے چلانے اور قائم رکھنے کے قابل ہو جائیں گے اس کا اقتدار ہمیں تھما دیا جائے گا۔ فی الحال اے این اے ڈی ایف آئی پی میں روزمرہ کے ہاوسنگ آپریشنز ہی چلاتی ہے جن میں واچ سٹیشن کو چلانا، کنٹرا بینڈ کے لیے کمروں کی تلاشی، قیدیوں کو ملاقاتوں کے لیے لانا اور لے جانا اور تفریحی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا، قیدیوں کے لیے صفائی اور کھانے کا بندوبست کرنا شامل ہے۔ فسیلیٹی کا دورہ کرتے ہوئے سیف اللہ نے کہا کہ اس کی بریگیڈ نے کم وقت میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انہوں نے مہمانوں کو گزشتہ 10 ماہ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ اپریل کو یہاں ڈی ایف آئی پی میں ڈیوٹی کے لیے پہنچے۔ اگلے درجے کی تربیت مکمل کرنے کے بعد اے این اے کے جوانوں کے پہلے دستے نے گزشتہ جولائی میں اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ اکتوبر تک اے این اے کے جوانوں کے ڈی ایف آئی پی کے چار حصوں میں سے ایک کا کنٹرول سنبھال کر اختیارات کی منتقلی کے سفر میں ایک سنگ میل عبور کر لیا۔ افغان ہاوسنگ یونٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیف اللہ کا کہنا تھا کہ اب ہر ہاوسنگ یونٹ میں اے این اے کے جوان کام کر رہے ہیں اور پچھلے مہینے سے ہم نے ایک نیا ہاوسنگ یونٹ کھول کر اس کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ اے ایچ یو نئے تعمیر ہونے والے افغان ہاوسنگ یونٹس میں سے ایک ہے جو آنے والے چند ماہ میں پروان میں کام شروع کر دیں گے۔ ان نئے یونٹوں میں مقدمے کی کارروائی کے منتظر قیدی اور سزا پا چکنے والے مجرموں کو رکھا جائے گا اور جنہیں افغان قانون اور طریقہ کار کے تحت چلایا جائے گا۔ اے این اے کے جوان قیدیوں کے محفوظ انتظام، ان سے انسانی سلوک اور انہیں بین الاقوامی و افغان قوانین کے مطابق رکھنے کی پوری صلاحیت کے حامل ہیں۔ اپنے دورے کے دوران گروپ نے معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے ڈائریکٹوریٹ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تا کہ فسیلیٹی میں جاری بحالی کی کوششوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اہل قیدی پشتو یا دری زبان کے کورسز کے ساتھ ساتھ سلائی، بیکنگ اور زراعت کے ووکیشنل کورسز میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ سیف اللہ کا کہنا ہے کہ ہم یہ پروگرام قیدیوں کو کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنے میں مدد دیتے ہیں جسے وہ رہائی کے بعد استعمال کر کے روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کو اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ اس میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو بھی شامل کیا جا سکے اور مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کو اس قابل کرے کہ وہ افغانستان میں مزاحمت کاری اور انتہا پسندی کو شکست دینے کی اپنی مجموعی حکمت عملی کو قید خانے کے آپریشنز سے ہم آہنگ کر سکے۔ قید خانے میں جدید ترین طبی فسیلیٹی، اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے لیے جگہ، ویڈیو ٹیلی کانفرنسنگ کی سہولت، تفریح کے لیے وسیع جگہ، ووکیشنل ٹیکنیکل ٹریننگ اور تعلیمی کلاس روم ور قانونی کارروائی کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی گئی ہے۔ |