| صوبائی امن اور معاشرے میں دوبارہ بحالی کی کونسل نے پروان کے قید خانے کا دورہ کیا | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںصوبائی امن اور معاشرے میں دوبارہ بحالی کی کونسل میں افغانستان کے چار صوبوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے 9 فروری کو پروان کے قید خانے کا دورہ کیا تاکہ افغانستان میں قیدیوں کو رکھنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ تصویر، امریکی بحریہ کی چیف میس مواصلاتی سپیشلسٹ ایس ڈبلیو ماریا یاگر۔
صوبہ پروان، افغانستان 12 فروری 2011 - صوبائی امن اور معاشرے میں دوبارہ بحالی کی کونسل میں افغانستان کے چار مشرقی صوبوں کے ارکان نے 9 فروری کو پروان کے قید خانے کا دورہ کیا اور جائزے کے بورڈ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ اس پروگرام صوبائی امن اور معاشرے میں دوبارہ بحالی کی کونسل کے حصے میں یہ بھی شامل ہے کہ سابق مزاحمت کار گروپوں کے ارکان بشمول قیدیوں کو رہائی کے بعد سماج میں شامل کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ پی پی آر سی ان سابق قیدیوں کو اپنے گائوں میں واپسی پر خوش آمدید کہتی ہے اور انہیں دوبارہ پُرامن زندگی شروع کرنے میں مدد دیتی ہے۔ افغان حکومت ملک بھر میں افغان امن اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے پروگرام کے تحت پی پی آر سی قائم کیں ہیں تا کہ ملک بھر کی آبادی کو پُرامن مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔ دورے کے دوران کونسل کے ارکان امریکی فوج کے برگیڈیئر جنرل مینڈی اے مرے، ٹاسک فورس امن کی بحالی کے کمانڈر سے ملاقات کی جنہوں نے مہمانوں کو ڈی ایف آئی پی کا دورہ کرایا اور اس کے آپریشنز کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ارکان کے سوالات کے جواب دئیے۔ دورے کے دوران ارکان نے سروسز برانچ، سائٹ پر موجودہ میڈیکل فسیلیٹی اور نئے افغان ہاوسنگ یونٹ کا دورہ کیا جس کا انتظام افغان قانون اور طریقہ کار کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ جنوری 2011 میں افتتاح کیے جانے والے اے ایچ یو ڈی ایف آئی پی کا انتظام سنبھالنے کے لیے افغان حکومت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا غماز ہے۔ اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں اس قید خانے کے دورے کا موقعہ فراہم کیا گیا اور ہم یہاں کے رہن سہن کا براہ راست مشاہدہ کر سکے ہیں۔ یہاں تو جگہ کے لیے مزید گنجائش ہے اور قیدیوں کو کھانے اور صحت و صفائی کی خدمات تک آسانی سے رسائی حاصل ہے۔ لیگل آپریشن ڈائریکٹوریٹ میں کونسل ارکان نے جانا کہ یہاں پر قید خانے کا معیار کیا ہے اور کونسل کس طرح قیدیوں کے طرزِ عمل پر ریویو بورڈ کے عمل کا حصہ بن سکتی ہے۔ ڈی ایف آئی پی میں پہنچنے کے 60 روز بعد قیدیوں کو ڈی آر بی میں لایا جاتا ہے اور اس کے بعد جب تک وہ یہاں رہتے ہیں ہر چھ ماہ بعد ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس دوران قیدی بذات خود اور اس کا ذاتی نمائندہ موجود ہوتا ہے جبکہ اسے بیان دینے، معلومات پیش کرنے، گواہوں کو پیش کرنے اور ڈی آر بی کے دوران اس کے خلاف پیش کی جانے والی معلومات کو چیلنج کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس موقعے پر قیدی اپنے اہلِ خانہ، علاقے کے معززین اور پی پی آرسی کے ارکان کو بھی ڈی آر بی میں مدعو کر سکتا ہے۔ اگر ڈی آر بی میں یہ سمجھا جائے کہ مذکورہ فرد قیدی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے ڈی ایف آئی پی سے رہا کرنے اور جلد از جلد اپنے گاوں میں واپس بھیجنے کے لیے سفارش کی جاتی ہے۔ مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 افغانستان میں امریکی قیدیوں کا نظام چلاتی ہے اور قیدیوں کی رہائی کی شوریٰ کے انعقاد کے لیے قیدی کے صوبے سے تعلق رکھنے والے رہنماوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ پی پی آر سی کا مقصد مزاحمت کاروں کو میدان جنگ سے نکالنا اور اپنے علاقوں میں واپس بھیجنا ہے تا کہ وہ ایک پُرامن اور مفید زندگی دوبارہ سے شروع کر سکیں۔ گزشتہ سال کے دوران رہائی کی شوریٰ کے ذریعے لگ بھگ 350 قیدیوں کو ڈی ایف آئی پی سے رہا کیا جا چکا ہے۔ ڈی ایف آئی پی بگرام ایئر فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور جدید ترین قید خانہ ہے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن میں قیدیوں کو سماج میں دوبارہ شامل کرانے کی کوششوں کو مدِنظر رکھا گیا ہے سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کو اس قابل کرتا ہے کہ وہ قید خانہ کا انتظام چلانے میں افغانستان میں مزاحمت کو شکست دینے کی کوششوں کو بھی شامل کرے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 میں مشترکہ اور انٹر ایجنسی پارٹنر شامل ہیں اور امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل رابرٹ ایس ہارورڈ اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام افغانستان میں قیدیوں کی دیکھ بھال کرنا، ان کے کردار کا جائزہ لینے کے عمل کو لاگو کرنا اور ووکیشنل اور تعلیمی پروگرام چلانا ہے تا کہ قیدیوں کو احسن طریقے سے دوبارہ سماج میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے۔ |