| ایم پی بٹالین کا افغان فوجیوں کے ساتھ کام تبدیلی کا پیش خیمہ ہے | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریں
19 جنوری کو اختیارات کی منتقلی کی تقریب کے دوران روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس کے کمانڈنگ سارجنٹ میجر ولیم وڈز کو ایک افغان قومی فوج کا سپاہی الوداعی گلے مل رہا ہے۔ فوٹو: امریکی بحریہ کے ذرائع ابلاغ ماہر، ماریہ باگر
افغانستان، پروان 23 جنوری 2011 - 19 جنوری کو پروان قید خانے میں اختیارات کی منتقلی کی ایک تقریب کے دوران جب روکی ماؤئٹین ٹاسک فورس کی جگہ 402 ویں فوجی پولیس بٹالین نے لی تو 193 ویں فوجی پولیس بٹالین کی یہاں 9 ماہ کے دوران خدمات کو سراہا گیا۔ امریکی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل لارا کلیلان جو کہ روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس کے کمانڈر ہیں نے کہا "جب روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس نے ڈی ایف آئی پی کا انتظام و انصرام سنبھالا میرے سامنے تین مقاصد تھے کہ افغان قومی فوج کے لیے نظربندی کارروائیوں کے حوالے سے ایک نمونہ بننا، قیدیوں کو قابو میں رکھنا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ تمام ٹاسک فورس اراکین اس احساس کے ساتھ گھر جائیں کہ اُنہوں نے اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ میں اب یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب رہا"۔ کلیلان کی نگرانی اور ایک تیز ترین ٹائم ٹیبل کے تحت، روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس نے افغان قومی فوج کی پولیس کے جوانوں کو ڈی ایف آئی پی محافظ فوج میں شامل ہوئے تربیت حاصل کرتے اور اپنے امریکی ہم منصوبوں کے ساتھ کام کرتے دیکھا ہے۔ ٹاسک فورس کے دورے کے نتیجے میں افغانستان میں افغان حکومت کے ماتحت ڈی ایف آئی پی کی صورت میں ایک نئی سہولت کی شروعات ہوئی۔ امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل روبرٹ ہارورڈ، جونئیر، مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس کے کمانڈر جو کہ تقریب سے پہلے 193 ویں بٹالین سے ملے، نے کہا کہ آپ سب میں سے ہر ایک نے جو کام کیا اس سے ایک تبدیلی آئی ہے۔ روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس جس کی کمان کلیلان کر رہے ہیں اور جو کولو راڈو قومی محافظ فوج کے فوجیوں پر مشتمل ہے، یہ مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فوس 435 کی سرگرمیوں کی براہ راست معاونت کرتی ہے جو کہ پورے افغانستان کے قید خانوں تک محیط ہے۔ ہارورڈ نے کہا کہ آپ کا کام ہمارے مقصد کے لیے اور صرف 435 کے مقصد کے لیے نہیں بلکہ ایِساف اور افغان امریکی افواج کے مجموعی مقاصد کے لیے بھی اہم رہا ہے اور آپ اس پھیلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ ہارورڈ کے مطابق روکی ماؤنٹین کی تعیناتی افغانستان میں بہت اہم وقت میں ہوئی۔ قیدیوں کی محفوظ، فرض شناس اور انسان دوست نگرانی کے علاوہ 193 ویں بٹالین کاموں میں سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 اور ٹاسک فورس امن پسندوں کے ساتھ مل کر افغان فوجیوں کو تربیت دینا، منظم کرنا اور مشورہ دینا شامل تھے۔ ان کے کام سے امریکی قید خانوں کی امریکہ سے افغانستان کی حکومت کی شرطیہ منتقلی کے عمل کا آغاز اُس معاہدے کے مطابق ہوا جو پچھلے سال دونوں حکومتوں کے درمیان طے پایا تھا۔ افغان قومی فوج کے نان کمشنڈ افسر سارجنٹ میجر رضا جو کہ پروان اور پل چرخی فوجی پولیس بریگیڈ میں ہیں اور جنہوں نے امریکہ کے ساتھ ڈی ایف آئی پی میں نو ماہ کام کیا ہے نے کہا کہ میں روکی ماؤنٹین سے بہت سی معلومات اور بہت سا تجربہ حاصل کرتا ہوں۔ یہ مجھے بہتری اور ANA میں کام کے لیے حوصلہ دیتے ہیں۔ اس بٹالین کے تمام لوگوں سے مجھے پیار ہے۔ ہارورڈ نے روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس کے فوجیوں کی تعریف کی کہ انہوں نے ڈی ایف آئی پی میں خدمات انجام دیں جس سے قیدیوں کے لیے محفوظ، پراثر اور انسان دوست انتظامات ممکن ہوئے اور قیدیوں کو تفریحی، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ ہارورڈ نے کہا کہ قیدیوں کی دیکھ بھال، نگرانی اور انتظام کا مشن، میدان جنگ میں سب سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ لیکن آپ سب نے اسے بہترین طریقے سے انجام دیا آپ نے اُن سے اچھا سلوک کیا اور ان سے عزت سے پیش آئے۔ یہ قید خانہ جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ ہے جس میں گھر والوں کے ملنے کی جگہ، ٹیلی فون پر تصویری ملاقات کی سہولت، بہت بڑا تفریحی مقام، تکنیکی مہارت کی تربیت اور تعلیمی کمرہ جماعت اور قانونی کارروائیوں کے لیے اضافی جگہ موجود ہے۔ روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس نے مختلف تنظیموں بشمول ریڈ کراس عالمی تنظیم کی طرف سے کارروائیوں، سہولتوں اور قیدوں سے سلوک کے 11 معائنوں اور جانچوں کا سامنا کیا اور ہر دفعہ تعریف وصول کی۔ امریکی حکومت کے شفاف اور انسان دوست قید خانوں کے مصم ارادے کو آگے بڑھانے کے لیے ٹاسک فورس نے 1000 دوروں کا اہتمام کیا جس میں افغان اور عالمی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ہارورڈ نے کہا کہ وہ ماؤنٹین ٹاسک فورس کے کارناموں پر بے انتہا خوشی ہیں اور انہوں نے فوجی اہلکاروں کے رویے اور خدمات کو سراہا۔ ہارورڈ نے کہا کہ جب آپ گھر جائیں مہربانی فرما کر یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ آپ نے بہت بڑا کام کیا ہے اور آپ نے تاریخ رقم کی ہے۔ 402 میں فوجی پولیس بٹالین، کورن ہسکر ٹاسک فورس نے روکی ماؤنٹین ٹاسک فورس کی جگہ لی ہے۔ یہ نبراسکا کی محافظ فوج پر مشتمل ہے اور اس کی کمان امریکی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اِرک ٹیگر سٹارم کر رہے ہیں۔ 402 ویں ایم پی بی این (آئی آر) کا مشن ڈی ایف آئی پی میں جاری قیدیوں کے حوالے سے سرگرمیوں کو قابو کرنا اور اُن کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان قومی فوج پولیس کے فوجیوں کی تربیت کرنا ہے جو کورن ہسکر ٹاسک فورس کے فوجیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کو افغانستان میں قید خانوں میں جاری سرگرمیوں کی نگرانی بشمول قیدیوں کی دیکھ بھال، قید خانوں کے قوانین کا مکمل اطلاق اور قیدیوں کو دوبارہ سے معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے تربیتی اور تعلیمی پروگراموں کی نگرانی کرنا شامل ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 اپنے افغان ساتھیوں کے لیے نظربندی کاروائیوں اور اصلاحی کاموں میں صلاح کار کے طور پر کام کرتی ہے اور نظر بندی کارروائیوں کی افغانستان حکومت کو شرطیہ منتقلی کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی کے لیے کام کر رہی ہے۔ |