پکتیکا شوریٰ میں دو قیدیوں کی رہائی Array چھاپیے Array
منجانب SSgt. George Cloutier, Combined Joint Interagency Task Force 435
20101130-F-6684S-251
30 نومبر کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں شوریٰ کے دوران دو قیدیوں کو آئندہ پُرامن زندگی گزارنے کا وعدہ لے کر پروان کے قید خانے سے رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سے جا ملے۔

صوبہ پکتیکا، افغانستان 6 دسمبر 2010 - 30 نومبر کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں شوریٰ کے دوران دو قیدیوں کو آئندہ پُرامن زندگی گزارنے کا وعدہ لے کر پروان کے قید خانے سے رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سے جا ملے۔

افغان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اس پروگرام کا آغاز جنوری 2010 میں کیا گیا اور اس میں قیدیوں کو دوبارہ افغان سماج میں شامل ہونے کا موقعہ دیا جاتا ہے۔ اپنے آغاز سے اب تک پروگرام کے تحت 300 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔

صوبہ پکتیکا میں مٹہ خان کے لیے ذیلی گورنر محمد سرور کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے ملک کی تعمیرِ نو کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہیں۔

محمد سرور نے دونوں قیدیوں کے اہل خانہ اور بزرگوں کے درمیان بات چیت ممکن بنائی تھی جس میں ان کی معاشرے میں دوبارہ شمولیت اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

شوریٰ کی صدارت افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع نے کی جو مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر بھی ہیں۔ جنرل مرجان نے محمد سرور کی جانب سے اٹھائے نکات پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ قیدی باعزت زندگی کا آغاز اور افغان حکومت کو قبول کر کے اپنے اہل خانہ اور بزرگوں کی عزت کی لاج رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ آپ تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھائیں جو افغان حکومت آپ کو فراہم کر رہی ہے۔  اپنی تعلیم سے افغانستان کی تعمیر نو میں ہاتھ بٹائیں۔ خدا اس انسان کو پسند نہیں کرتے جسے اپنی سرزمین پر یقین نہ ہو۔

پروان کے قید خانے میں قیدیوں کو تعلیم اور ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے کا موقعہ دیا جاتا ہے۔ سماج میں دوبارہ شمولیت کے پروگرام کے تحت انگریزی، پشتو زبانیں، سلائی، زراعت اور روٹی بنانے سمیت مختلف کورس قیدیوں کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی پہنچنے پر قیدیوں کا ووکیشنل انٹرویو میں لیا جاتا ہے جس میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی تعلیمی سطح کیا ہے اور کون سا کورس ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ بحالی کے یہ پروگرام قیدیوں کو ایسے ہنر سیکھنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں جنہیں وہ رہائی کے بعد اپنے گاوں میں جا کر کام میں لایا جا سکے تاکہ گھر لوٹنے کے بعد عسکریت پسندی کے علاوہ بھی ان کے پاس اور راستے دستیاب ہوں۔

اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکہ کے انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے اشتراک سے سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 عدالتی شعبے اور بائیو میٹرکس میں قید اور اصلاح کا کام کرتی ہے۔ بالاخر حالات سازگار ہوئے تو سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کا کنٹرول افغان حکومت کے حوالے کر دے گا جبکہ اس کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

46th فوجی پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کے ماتحت، ڈی ایف آئی پر قیدیوں سے متعلق تمام معاملات دیکھتے ہیں۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں سے انسانی سلوک، کنٹرول اور دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ 96th فوجی پولیس بٹالین، ٹاسک فورس سپارٹن افغان سپاہیوں ڈیٹینشن عملیات کی تربیت دیتی اور ترجمان فراہم کرتی ہے کہ زبان کے فرق کے باعث مسائل پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ کوششیں افغان قومی فوج کو اس قابل کریں گی کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے ذمہ داری لے کر قید خانے کو خود چلا سکیں۔

ڈی ایف آئی پی پروان میں بگرام فضائیہ فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور واقع جدید ترین انٹرنمنٹ فسیلیٹی ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدی منتقل کیے گئے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ گرفتاری ورہائی کی سرگرمیوں کو افغانستان میں انتہا پسندی کو شکست دینے کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔

<div class="mosimage" style="float: right;"><img style="float: right;" id="mosimage" alt="20101130-F-6684S-251 " src="images/stories/20101130-F-6684S-251.JPG" width="608" />
    <div class="mosimage_caption">
    

 

    30     نومبر کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں شوریٰ کے دوران دو قیدیوں کو آئندہ پُرامن زندگی گزارنے کا وعدہ لے کر پروان کے قید خانے سے رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سے جا ملے۔

 

</div>
</div>