| دو قیدی دو مختلف جرگوں کے دوران رہا | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435
9 نومبر کو قیدیوں کی رہائی کے لیے مشورے کے دوران اور سابق قیدی کو سماج میں واپسی پر خوش آمدید کہنے کے بعد علاقے اور گاوں کے معززین تقریر سن رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع کی تصویر منجانب امریکی بحری سربراہ میس مواصلات کے سپیشلسٹ ایس ڈبلیوماریہ سی یگر/جاری کردہ
صوبہ پکتیکا، افغانستان 9 نومبر 2010 - 9 نومبر کو ہونے والے دو مختلف شوری کے بعد دو افغان قیدی رہا ہو کر دوبارہ اپنے اہل خانہ سے جا ملے۔ یہ آدمی، جو کہ جائے نظر بندی میں قید تھے انہيں صوبہ پکتیکا کی شوری کے دوران قبیلے کے بڑوں کے حوالے کر دیا گیا۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر مرجان شجاع نے اس موقعے پر کہا کہ اس شخص نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور اب وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔ اب وہ ایک اچھا انسان بنے گا۔ مرجان ان افراد کی رہائی کے لیے ہونے والے دونوں شوری میں شامل رہے ہیں اور رہائی پانے والے قیدیوں، گائوں کے معززین اور حکام سے بات چیت کی۔ معززین میں سے ایک نے ان افراد کو رہا کرنے پر افغان حکومت اور اتحادی افواج کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جنرل شجاع سے مقامی آبادی کے حوالے سے اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور جنرل صاحب سے کہا کہ وہ ان تحفظات کو کابل میں اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔ مذکورہ معزز نے کہا کہ آپ وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں اس لیے آپ کو اس علاقے کے مسائل کا علم نہیں، لیکن یہاں آنے پر اور ہم سے ملاقات کرنے کا شکریہ۔ اب آپ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور اپنے اعلیٰ حکام کو ان حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ مرجان نے ان کی بات دھیان سے سنی اور ان کے تحفظات کو کابل میں اعلیٰ افسران تک پہنچانے پر اتفاق کیا۔ مشورے کے دوران مقامی قائدین نے ضمانتوں کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت وہ رہا شدہ افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے اور سماج میں شمولیت پر ان کی مدد کریں گے۔ قیدیوں کی رہائی کے لیے افغان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے پروگرام کے تحت قیدیوں کی افغان معاشرے میں واپسی کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ رہائی پانے والے افراد میں سے ایک کے بارے میں مرجان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ حکومت اور اپنی پوری برادری کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔ CJIATF-435 کی کوششوں میں قید خانوں کا انتظام افغانستان کو منتقل کرنے کے لیے جنرل مرجان اور ان کا عملہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ مشروط منتقلی 9 جنوری 2010 کو ہونے والے اس معاہدے کے مطابق ہو گی جس پر افغانستان کی وزارتِ دفاع، وزارتِ انصاف، سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کے ڈائریکٹوریٹ، ہائی آفس آف اوورسائٹ اور وزارتِ داخلہ نے دستخط کیے۔ DFIP پروان میں بگرام فضائی فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور واقع جدید ترین انٹرنمنٹ فسیلیٹی ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا تھا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدی منتقل کیے گئے تھے۔ DFIP کے ڈیزائن میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور CJIATF-435 اسکو اس قابل بناتا ہے کہ وہ گرفتاری ورہائی کی سرگرمیوں کو افغانستان میں انتہا پسندی کو شکست دینے کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ DFIP افغانستان میں اس وقت اور 2011 میں جب یہ عمارت افغان حکومت کے حوالے کر دی جائے گی اس کے بعد بھی سکیورٹی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرے گی۔ DFIP قیدیوں کو محفوظ اور انسانی ماحول میں رکھنے اور اہل قیدیوں کو گروپ کی شکل دینے میں مختلف سرگرمیوں، تعلیم اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کی اجازت دیتی ہے۔ قیدخانے میں جدید ترین طبی سہولیات، اہل خانہ سے ملاقات کے لیے جگہ، ویڈیو ٹیلی کانفرنسنگ، وسیع تفریحی مقام، ووکیشنل ٹریننگ اور تعلیمی کلاس رومز اور قانونی کارروائی کے لیے اضافی علیحدہ جگہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ |