| پٹریاس نے افسران سے قیدیوں کے تبادلے کی کاروائی پر گفتگو کی | Array چھاپیے Array |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, JTF 435 شئیرمتعلقہ خبریں
کیمپ فینیکس، افغانستان (26 جولائی، 2010) – 24 جولائی کو اعلی ترین افسر نے افغانستان میں سینیئر افغان اور امریکی افسروں سے ملک میں قید میں نقل مکانی کی کاروائیوں پر اور بشمول پروان جیل خانے پر گفتگو کی۔ جنرل ڈیوڈ پٹریاس، بین الاقوامی سیکیوریٹی امدادی فورس کے کمانڈر نے نقل مکانی کے شوری' کے دوران کہا کہ ہماری قید اور بحالی کی کاروائیوں میں مشغول اِمعان اور اتحادی ممبروں کے تمام عناصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا غیر متزلزل عہد کیا ہے۔ پٹریاس جنہوں نے ایساف کی قیادت اس مہینے کے شروع میں سنبھالی تھی نے کہا کہ ہم سب اس کوشش کو آگے بڑھانے کے لیۓ مصمم عہد کیۓ ہوۓ ہیں اور اس نقل مکانی کو صدر کرزئی کی ہدایات کے مطابق اہم کام جو اس نقل مکانی کو افغان کنٹرول میں دینے کے قابل بنانے کے لیۓ ضروری ہے جاری رکھے ہوۓ ہیں۔ جنرل نے مزید کہا کہ یہ نقل مکانی ایک موقع نہیں بلکہ ایک طریقہ عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ (ڈی ایف آئی پی کی) نقل مکانی کی راہ میں ایک اور اہم قدم ہے۔ یہ پروان کی جیل کی ذمہ داری کی نقل مکانی ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ ہم بے شک بہت سے مختلف علاقوں میں آنے والے مہینوں اور سالوں کے دوران سیکیوریٹی کی تنظیموں اور کاموں اور بہت سے دوسرے ضمن میں نقل مکانی کے لیۓ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس میٹنگ میں اس سمجھوتے کی یاداشت کی تجدید بھی پیش کی گئی ہے جس پر امریکہ اور افغانستان کی حکومتوں نے اس سال کے شروع میں دستخط کیۓ تھے اور یہ افغانستان کی وزارت دفاع کو آگے بڑھا کر ڈی ایف آئی پی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے طریقہ عمل کے ضمن میں رہنمائی کرتی ہے۔ یہ عمارت موجودہ طور پر مشترکہ ٹاسک فورس 435 کے زیر نگرانی ہے جو کہ افغانستان میں امریکی قیدی کاروائیوں کی کمان، کنٹرول اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ وزیر دفاع عبدالرحمان وردک نے کہا کہ میں اپنے بینالاقوامی ساتھیوں کو یہ یقین دلانا چاہوں گا کہ جہاں تک ہم مل جُل کر کام کرنے اور ہم آہنگی، تعاون اور شراکت کی روح کو اس پورے سلسلے یا اپنے بڑے مشن کی تکمیل کے لیۓ باقی کام کے دوران بھی جاری رکھیں گے۔ اس یاداشت میں اہم افغان وزراء نے ڈی ایف آئی پی میں امریکی عملے کے ساتھ نقل مکانی پر کام کرنے کے لیۓ عملہ مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جنوری کے سمجھوتے سے لے کر اب تک سینکڑوں افغان قومی فوجی پولیس کے جوانوں نے قید اور بحالی کی کاروائیوں کی تربیت شروع کر دی ہے۔ ان فوجیوں کی پہلی جماعت نے مئی میں افغان اصلاحی آفیسر کا کورس مکمل کیا اور ایڈوانس انفرادی تربیتی پروگرام جولائی میں مکمل کیا۔ یہ فوجی اس وقت ڈی ایف آئی پی میں امریکی فوجیوں اور بحریہ کے سپاہیوں جو کہ ڈی ایف آئی پی میں گارڈ فورس کے طور پر کام کرتے ہیں کے ساتھ کام- کے- ذریعے- تربیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کا منصوبہ اب اور اس وقت جب اس کو افغان حکومت کو منتقل کیا جاۓ گا، سیکیوریٹی، شفافیت اور افغانستان میں قانون کی بالادستی کے لیۓ تیار کیا گیا تھا۔ ڈی ایف آئی پی لوگوں کی محفوظ، انسانی بنیادوں پر اور موثر مینیجمینٹ تاکہ منفی رہنماوں کے اثر رسوخ کو کم کیا جا سکے اور رضامند قیدیوں کی مشترکہ کاروائیوں میں حصہ لینے اور تعلیم حاصل کرنے کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اس عمارت میں جدید طبی سہولیات، خاندان کے ملنے کی جگہ، وسیع وڈیو کانفرنس کی صلاحیت، بڑا تفریحی حصہ، فنی تعلیم اور تدریسی کمرے اور قانونی کاروائیوں کے لیۓ مزید جگہ موجود ہے۔ وردک نے کہا کہ ہم اس سلسلے کی تکمیل کے منتظر رہیں گے۔ ہم اپنی آخری فتح کی راہ سے ایک اور رکاوٹ ہٹا رہے ہیں۔ ہم اس کے منتظر ہیں اور اس کے حصول کے لیۓ انتھک محنت کر رہے ہیں۔ یہ ایک موقع نہیں ہو گا بلکہ ایک سلسلہ ہو گا۔ وزارت انصاف، سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل کا دفتر، سیکیوریٹی کے قومی ڈائیریکٹوریٹ اور وزارت داخلہ اس منتقلی میں زور و شور سے حصہ لے رہے ہیں۔ جون میں پروان کے جسٹس مرکز میں افغان کورٹ کے ذریعے پہلا افغانی فوجداری مقدمہ چلا اور مزید سو قیدی آنے والے مہینوں میں افغان فوجداری قانون کے تحت مقموں کے لیۓ اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ نقل مکانی کی شوری' میں دوسرے شراکت داروں میں افغانستان میں امریکی سفیر عزت معاب کارل آئیکنبیری؛ وزیر انصاف حبیب اللہ غالب، وزیر داخلہ جنرل بسم اللہ خان محمدی، جے ٹی ایف 435 کے کمانڈر امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ اور افغان فوجی سربراہ اے این اے لیفٹیننٹ جنرل شیر محمد کریمی شامل تھے۔ |