فوٹوگرافر نےعراق 2003 سے لے کر اب تک کی اقتصادی ترقی کی عکاسی کی Array چھاپیے Array
منجانب , Defense Media Activity

  (سلائیڈ شو کے لۓ یہاں کلک کریں)

جب ایک امریکہ میں منائی جانے والی تھینکس گیونگ ڈے کے نام سے جانے والی ایک چھٹی کے موقع پر سابقہ صدر جارج ڈبلیو بش بغیر اطلاع کے امریکی دستوں سے ملنے گئے تھے تب ٹینا ہیگر جو کہ اُن کے ساتھ گئی تھیں اُنھوں نے اپنی پہلی بغداد کی تصویر فضائیہ ون سے کھینچی تھی۔ چند سالوں کے بعد وہ بطور ایک  آذاد پیشہ ور عکاس بن کر افغانستان اور عراق کی جنگوں کی تصاویر بنانے کے لۓ دبئ چلی گئیں تھیں۔  انہوں نے متعدد کاموں کے  لۓ  امریکی دستوں کے ساتھ  رہ کر بھی کام کیا تھا۔

 

 ہیگر نے امریکی وزارت دفاع کے بلاگ گول میز پروگرام کے دوران کہا کہ "ایک اونچی سطح سے تاریخ کو اپنے سامنے بنتا دیکھنے کے بعد  اِسی  موضوع  کی تصویر ‌زمینی سطح  سے کھینچنے پر  میں نے محسوس کیا ہے کہ زمینی سطح پر تصویریں لینا اور اِن تصویروں کے پیغامات پہنچانا میری پشہ ورانہ ذمہ داری ہے"

 

ہیگر نے بطور فوٹوگرافر 2009 میں عراق میں محکمہ دفاع کی تجارت  اور استحکام کی ٹاسک فورس  کے لۓ کام شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم میں اس  کام کی وجہ سے اِن کو  روز مرّہ زندگی کے مناظر کو محفوظ کرنے میں مدد ملی ہے۔ 

" 2006 میں عراق کے اوپر پرواز کے دوران عراق خاک آلودہ اوربے رنگ نظر آتا تھا۔ اور اب آپ اگر اس کے اوپر پرواز کریں تواب اِس کے علاقے میں ذرخیز ہریالی نظر آتی ہے۔

 

ہیگر نے کہا کہ دوبارہ آباد کھیتوں کے علاوہ ، انہوں نے سینکڑوں نۓ کارخارنوں اور تجارتی اداروں کی تصویریں بھی کھینچی ہیں جو کہ لوگوں کے لیے ملازمت کے مواقعے فراہم کر رہی ہیں۔ اِن کا مشاہدہ یہ ہے کہ خواتین نہ صرف افرادی قوت کا حصّہ بنیں بلکہ بینکنگ کی صنعت میں اور اعلی' عہدوں پر ان کا تسلط ہو۔

 

اُنہوں نے کہا کہ آج عراق کے زمینی منظر زرعی کامیابی کے " ایک بڑے سبز سمندر"  کی  مانند ہیں اور ایسے کارخانے جو ٹریکٹر سے لے کر قدیم روائیتی نقوش والے قالین  تک ہر چیز بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ 

 

جب کانفرنس کال میں شریک ایک بلاگر نے ہیگر سے  پوچھا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ بطور ایک ٹاسک فورس عکاس کے وہ انجانے میں طرف داری کررہی ہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اِن کا کام صرف موضوع کا مشاہدہ کرنا اور تصویریں اُتارنا ہے۔

 

اُنہوں نے وضاحت دیتے ہوۓ کہا کہ "مجھے عراق میں سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کی حوصلہ افزائی کر کے بہت طمانیت  کا احساس ہوتا ہے اور میرے لۓ مدد کرنے کا یہ سب سے بڑا دلچسپ طریقہ ہے۔"

 

ہیگر نے کہا  کہ  وہ اس تبدیلی کا ایک مستقل ریکارڈ رکھنے کے لۓ  یہ تصاویر  اور دوسری تصویروں کو ایک کتاب میں  شائع کرنے کی اُمید رکھتی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ وہ  لوگ جنہوں نے اس کوشش میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے وہ بھی عراق میں اِس ہوتی ہوئی ترقی کودیکھ سکیں۔"  ہیگر نے مزید کہا کہ اگلے ماہ وہ واپس عراق میں جائنيگی اور اس قوم کی واپسی کے سفر کی تصاویر لیتی رہیں گی۔