پہریداروں کا افغانی دیہاتیوں کے لیۓ ریڈیو سٹیشن کا قیام Array چھاپیے Array
منجانب , CJTF-82 PAO

ایک افعانی نوجوان اور ایک سرحدی پولیس افسر افعان اور اتحادی فوجوں کے تقسیم کردہ ریڈیو پر تحصیل شنوار کا نیا ریڈیو سٹیشن ڈھونڈتے ہوۓ۔
 صوبہ شنوار، افغانستان (فروری 3، 2010) – ایک بے عیب دنیا میں جتنا قریب ایک ریڈیو ہوتا ہے درست اطلاعات اتنی ہی قریب پائی جاتی ہیں ۔ جنگ کی حالت میں ایک ملک کے لیۓ درست اطلاعات کی دستیابی انمول ہوتی ہے۔

 

جورجیا آرمی نیشنل گارڈ کے پہلے  سکواڈرن ، 108کیولری رجمنٹ نے شنواری اور مہمنداری کے سرحدی پہاڑی گاؤں کے لوگوں میں ریڈیو کے تحفوں کے ذریعے ان کو آواز مہیا کی۔

 

شنوار اور مہمندارا صوبوں میں موجود یہ سٹیشن دورافتادہ گاؤں کو طالبان کی غلط تشہیر کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حبررسانی کا تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

 

عام طور پر ایک ڈبے میں ریڈیو کے نام  سے جانے والا میڈیا کا نیا پروگرام انٹرنیشنل سیکیوریٹی اسسٹنس فورس کا سرکشوں کی مخالفت کے سلسلے میں ابتدائ قدم ہے جو کہ مکمل طور پر افعانیوں کی ملکیت بنے گا۔

 

"یہ فوج کا مددگار یا سیکیوریٹی کے منشور کے ماتحت نہیں ہو گا،" افغان بارڈر پولیس،th6 کندک کمانڈر، کرنل نیازی نے کہا۔ انھوں نے مشن میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ سٹیشن کے پیغامات معاشرے کی ضروریات کو اختیار کریں گے۔ "یہ ہمارے لوگوں کوایک آواز – ایک وسیلہ مہیا کرنے کا طاقتور ذریعہ ہو گا۔ اس تک ہمارے مُلا، تحصیل کی حکومت کے سربراہان، ہمارے دوکاندار اور دیہاتیوں کو مکمل رسائ ہو گی اور ان کو یہ معلوم ہو گا کہ مشکل وقت میں درست اطلاعات کے لیۓ ہمارے پاس آ سکتے ہیں۔"

 

کندک صدر دفتر کے شنوار ریڈیو سٹیشن کی جگہ وقتی ہے۔ یہ کبھی ریڈیو سپن گھر کی جگہ ہوتی تھی، جو کہ انڈیپنڈنٹ (خود مختار) میڈیا آپرچونیٹی پراجیکٹ کا حصہ تھا جس کو یو ایس ایڈ (یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ) کی مشترکہ سرپرستی حاصل تھی اور جس کو افغانستان میں خود مختار ریڈیو سٹیشن کی حمایت کہا جاتا تھا۔

افغان نیشنل سیکیوریٹی فورس کے حصہ داروں کے اشتراک سے دونوں سٹیشنوں کو مکمل سرمایہ حاصل ہے اور یہ ان کو تحفظ، پورے وقت کے مقامی افغان سٹیشن مینیجر، اور نشریاتی شخصیات فراہم کرتا ہے۔

 

 

"گیٹ" (102.1 MHz FM) مہمندارا صوبے کی طورخم میں جنوری 17 کو کل وقتی طور پر افغانستان پاکستان سرحد کے قریب فارورڈ آپریشن بیس سے نشر ہونا شروع ہوا۔

 شنوار سٹیشن [95 MHz FM] شنوار سٹیشن5 MHz FMنے اپنا آغاز 21 جنوری کو طالبان کے مخالف شنواری معاہدے کے دوران کیا۔ 170 قبائلی نمائندگان کا اجلاس ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا، جس کا انتظام 6th  کندک اے بی پی  اور اہم قبائلی سرداروں نے کیا تھا۔ اس کا انعقاد 6 تخصیلی شنواری قبیلوں کے جرگے کے سخت اصولوں کو اپناتے ہوۓ طالبان کی جابرانہ اور بے عمل حکومت کی ملامت کرنے کے لیۓ کیا گیا۔ ریڈیو سٹیشن نے اہم افغان لیڈروں اور سیکوریٹی اہلکاروں کو اپنی یک جہتی کے اعلان کے لیے سٹیشن کی پہلی نشریات کے دوران میڈیا کا نیا ذریعہ فراہم کیا۔

 

 "یہ ہمیں ایک معاشرے کے طور پر ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے،" ملک عثمان نے جرگے کے اپنے وردیوں میں ملبوس اسلحہ بردار بھائوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ سناتے ہوۓ کہا افتتاح کے موقے کے دوران کہا ۔ "ہم عدم استحکامی کی شناخت ہوتے ہی لوگوں کو فورا اطلاعات فراہم کر سکتے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔"

 

جرگے کے آخر میں اجلاس میں شامل بزرگوں کو ہاتھ میں پکڑنے والے ریڈیو تحفوں کے طور پر دیے گئے۔ ایسے ہی ریڈیو اتحادی فوجیں اور اے این ایس ایف  کے ذریعے  دور افتادہ گاؤں کی گشت کے دوران تقسیم کیۓ جائیں گے۔

 

نیازی نے اس نۓ میڈیا کا خدمات کی وسعت کے طور پر خوش آمدید کیا اور کہا کہ اس میں مقامی لوگ کال کر سکیں گےاور اس میں ہم بے مثال پروگرام بنایں اور نشر کریں گے جس میں حکومت اور مقامی افسران حصہ لیں گے۔

 اس سٹیشن کی ساخت بہت روائتی ہو گی، سوگواران کے نام بتانے سے لے کر جرگے کے نتائج اور عوامی خدمات کی اطلاعات فراہم کریں گے۔ نیازی نے کہا۔ "یہ لوگ موسیقی کے پروگراموں کے ذریعے خوشی منائیں گےاور ہم ذاتی حفاظت کو اطلاعات کے ساتھ مظبوط بنا ئیں گے۔