| مسجد کی تعمیر نو عراق میں تبدیلی کا نشان بن رہی ہے | Array چھاپیے Array |
منجانب , 4th BCT PAO, 1st Inf. Div. شئیرمتعلقہ خبریں
جیسے ہی وہ گولڈن مسجد کے پار بنے ہوٹل کی چھت پر چڑھے جس کی آج کل تعمیر نو اور بحالی کا کام ہو رہا ہے، تو اس شہرمیں جو کہ جنگ میں تقریبا تباہ ہو گیا تھا، کوئ بھی اِس میں رونما ہوتی ہوئ تبدیلیوں کے ثبوت کا مشاہدہ کیے بنا نہ رہ سکا۔ فروری 22، 2006 کو العسکری مسجد یا گولڈن مسجد پر بمباری کی گئ تھی جس نے شہر میں فرقہ ورانہ فسادات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ پھر جون 13، 2007 کو دہشت گردوں نے مسجد پر دوبارہ حملہ کر کے دومینار اور گھنٹہ گھر تباہ کر دیے۔ اس اہم اور مقدس مسجد پر حملوں کے باوجود سمارہ کے شہریوں نے امن بحال کرنے میں اہم پیش قدمی کا مظایرہ کیا ہے۔ پچھلے تین سالوں میں عراقی فوجیوں کے آگے بڑھنے سے اورشہر کی حفاظت کا ذمہ لینے سے، فسادات میں کمی ہو گئی ہے۔ آرنلڈ نے نیو یارک ٹائمز کو دیۓ گۓ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ یہ اصلاحات شہریوں کا دہشتگردوں کو مسترد کرنے اور شہر میں عراقی فوجوں کی پیشہورانہ مہارت کا نتیجہ ہیں۔ اب بازار کھلے ہیں اور بچے گلیوں میں کھیلتے ہیں جس سے امن اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ "لوگ ہمیں اب خبریں دے رہے ہیں اور تشدد پسندوں کے خلاف ہو چکے ہیں۔" بغیر کسی زرہ ، ہلمٹ کے "میں اے سی یو اور ٹوپی میں گھومتا ہوں؛ ۔ میں مسجد تک پیدل جاتا ہوں جو کہ میں 2006 میں نہیں کر سکتا تھا۔" سامرہ کے لیۓ مستقبل کے منصوبے بناۓ جا رہے ہیں جیسا کہ مسجد کے ارد گرد کی حفاظتی دیوار کا ہٹائے جانا، آراستہ دروازوں اور کیمروں کی تنصیب، تاکہ وہ حفاظت کے تحت پیدل چلنے والوں کے لیۓ کھولا اور بند کیا جا سکے ۔ سڑکوں پر عراقی شہری اپنی دوکانوں سے نکل کر باہر آے یا راہ چلتے لوگ کمانڈروں کو اپنی منزل کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو "ہیلو" کرنے کے لیے رک گۓ ۔ ہوٹل کی چھت پر چڑھنے کے بعد گروہ چھت کی اس طرف گیا جہاں پہ اس قدیم مسجد کو دیکھا جا سکتا تھا، جسکا منظر اپنی 72،000 طلائیوں تختیوںکے بغیراس کے گنبد کو سجایا کرتی تھیں، اب بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ |