|
مرینز کے افغانیوں کومظاہرے کے بعد اکھٹے کرنے کے امدادی نتائج |
Array چھاپیے Array |
|
منجانب , RCT-7
 تقریبا 800 کے قریب مقامی لوگ افغانستان کے صوبہ ہلمند کی تحصیل گرمسرمیں ایک اجلاس کے لیۓ اسکول میں جمع ہیں۔ امریکی مرینز اور افغان فوجیوں نے تحفظ فراہم کیا۔
صوبہ ہلمند، افغانستان (جنوری 28، 2010) – ستم ظریفی یہ ہے کہ جب مظاہرین نے 12 جنوری کو گرمسر تحصیل میں قران کریم کی بے حرمتی کے الزام کے بعد جوش میں ایک سکول کو آگ لگائ تو، مسلمانوں کی مقدس کتاب کی 300 کاپیاں اسکول کے ساتھ جل گئں تھیں۔
دوسری مرین ریجمنٹ کی دوسری مرین بٹالین جو کہ گرمسر کے 800 باشندوں کو تحفظ فراہم کر رہی تھی، مقامی باشندوں کے ساتھ اسی سکول کی زمین پر سماجی اجلاس جس کو "شوری" کہا جاتا ہے کے لیۓ بیٹھی، جہاں پرجنوری 19 کو، صرف ایک ہفتے پہلے سفیدی سے دھلی دواریں، کھڑکیوں سے باہر آنے والی بھڑکتی آگ سے کالی ہو چکی تھیں۔ ہلمند کے گورنر مینگل؛ برطانوی میجر جنرل نک پی کارٹر، انٹرنیشنل اسسٹینس فورس ریجنل کمانڈ جنوبی کے کمانڈر؛ مرین ایکسپڈیشنری بریگیڈ افغانستان کے کمانڈر مرین کور برگیڈیر جنرل لارنس ڈی نکلسن نے بھی شوری سے خطاب کیا۔
مینگل نے کہا کہ "ہم یہاں اس لیے اکھٹے ہوئے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی مدد اور اس ہولناک واقعے کے بارے میں بات کر سکیں اور یہ جانچیں کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔" ۔
افتتاحی دعا کے بعد قبیلے کے بزرگوں، گاوں کے بزرگوں؛ اور گرمسر تحصیل کے گورنر عبداللہ جان نے لوگوں سے مظاہروں کے بارے میں خطاب کیا۔ قبیلے کے ایک بزرگ نے کہا کہ"مظاہرے کے دوران تحصیل کے گورنر، پولیس چیف، اور کرنل نے اکٹھے مل کر مسلے کا حل نکالا تھا۔ "
مینگل نےمظاہرے اور تحصیل کے مستقبل کے بارے میں ایک پرجوش تقریر کی۔ "جو مظاہرہ یہاں ہوا وہ گرمسر ے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتا،" انھوں نے کہا۔ "یہ دہشت گرد اور طالبان تھے جنہوں نے گرمسر کے لوگوں کو استعمال کیا۔"
مینگل نے مزید کہا کہ وہ خود قران کریم کی بے ادبی کے الزام کی تحقیق کریں گے اور جس قران کریم کی بےحرمتی کی افواہ نے لس مظاہرے کو پیدا کیا ہے وہ طالبان کے غیرملکی ارکان نے پھیلائ تھی۔ "طالبان ہم سے کسی صورت میں نہیں لڑ سکتے،" مینگل نے کہا۔ " تاہم ان کے پاس ہم سے لڑنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ شہریوں کو استعمال کریں۔ ہمارے دشمن ہمیں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم اپمی زندگیوں میں کامیابی حاصل کریں۔"
مینگل نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائ کہ مرین نے اُس وقت بھی مداخلت نہ کی جب ہجوم نے بلوے کے دوران گولیوں اور پتھروں سے امریکی گاڑیاں تباہ کیں تھیں۔ انھوں نے سکول کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا اورہلمند کے مستقبل کے بارے میں بات کی اور یہ وعدہ کیا کہ بہت مختصر عرصے میں "ہم تمام تحصیلوں کو طالبان سے واپس لے لیں گے۔" گورنرنے کہا، "ہم ہلمند کو ایک پرامن اور رہنے کے لیۓ عظیم جگہ بنا دیں گے"
کارٹر نے اس بات کی طرف توجہ دلائ کہ ہلمند کی 60 تحصیلوں میں سے گرمسر ترقی کی ایک عظیم مثال ہے۔ انھوں نے مرینز کی مداخلت نہ کرنے کے بارے میں بھی بات کی تھی۔
"ان کی طرف سے مداخلت نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آپ کی کتنی عزت کرتے ہیں" انھوں نے مقامی لوگوں کو بتایا۔ " جنرل نکلسن کی فوجیں یہاں آپ کی مدد اور حفاظت کے لیےموجود ہیں۔"
نکلسن نے کہا کہ شوری کا اجلاس بلوے سے تباہ شدہ اسکول میں منعقد کرنا مناسب تھا۔
"اس مظاہرے کا پہلا ہدف سکول کو تباہ کرنا تھا کیونکہ یہ سکول مستقبل کی نمائندگی کرتا ہے،" انھوں نے کہا۔ یہیں پر گرمسر کے مستقبل کے ڈاکٹر، وکیل، اور انجینیر، اور جرنیل بنتے ہیں۔"
نکلسن نے مقامی لوگوں کو مرینز ملک سے باہر بھیجے جانے کی تیاری کے دوران ثقافتی تربیت میں صرف کیے ہوئے گھنٹوں کے بارے میں بتایا اور یہ کہا کہ اگر کسی بھی مرین نے بدتمیزی کی یا ناشائستگی دکھائ تو اس کو واپس بھیج دیا جاۓ گا۔
شوری کا پیغام، آئ ایس اے ایف، افغان فوجوں اور مقامی لوگوں کے درمیان تعاون کے ذریعے سے گرمسر اور تمام ہلمند صوبے کے مستقبل کے لیۓ امید افزاء تھا۔
نکلسن نے کہا، " اگر ہم مل جل کر کام کریں تو ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو اور گرمسر ملک کا ایک عظیم شھر بن سکے۔
|