آپریشن وین لاک Array چھاپیے Array
منجانب , Combined Maritime Forces
RAS
ہر میجسٹی کینیڈا سے شپ (ایچ-ایم-سی-ایس) ریجینا (دائیں) اس کے ساتھ ہر میجسٹی آسٹریلیا سے (ایچ-ایم-اے-ایس) شپ اینزک (بائیں) 4 دسمبر، 2012 کو خلیج عدن میں امریکی بحری جہاز پاٹکسنٹ (درمیان میں) کو رسد پہنچاتے ہوۓ۔ تصویر میں فرانسیسی بحری جہاز (ایف-ایس) ڈوپلیکس (پیچھے دائیں جانب) اور پاکستانی بحری حہاز (پی-این-ایس-) شمشیر (پیچھے بائیں جانب)۔ (فوٹو کینیڈا فورسز منجانب کارپورل رک آئیر)

خلیج عدن (3 دسمبر، 2012) – مشترکہ ٹاسک فورس 150 (سی-ٹی-ایف 150)، جو مشترکہ بحری فورس (سی-ایم-ایف) کے انسداد دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں اور بحری تحفظ کی زمہ داری کا حصہ ہے، نے 5-1 دسمبر کو جنوبی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں ایک مرکوز کاروائی شروع کی۔

جمع شدہ سی-ٹی-ایف 150، جن کی قیادت سی-ڈی-آر-ای باب ٹیرنٹ آر-این کی طرف سے کی گئی تھی، میں جنگی جہازوں اور متعلقہ بین الاقوامی حمایت اور اس کے ساتھ ساتھ علاقائی ممالک برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، پاکستان، امریکہ، یمن اور جبوتی شامل تھے۔ اس آپریشن کی بنیادی توجہ سمندری ماحول کی دہشت گردی سے متعلقہ بحری استعمال کا پتہ لگانے اور اس میں خلل ڈالنا تھا، اس کے ساتھ ساتھ جبوتی کی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے لئے باہمی تعاون کے ساتھ منصوبہ بندی میں حصہ لینے اور ایک مشترکہ بحری فورس میں ایک ضم شراکت دار کے طور پر کام کرنے کا بھی موقع فراہم کرنا تھا۔

آپریشن کے علاقے کے اندر آبناۓ باب المندب (بی-اے-ایم) بھی ہے جو اپنے تنگ موڑ پر صرف 11 میل چوڑا ہے۔ اس چوکی کی سکیورٹی علاقائی خوشحالی اور عالمی معیشت کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک دہشت گرد حملہ تجارت کے اس اہم بہاؤ میں سنگین رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے ۔اس آپریشن نے اس خطرے کو کم کرنے کی خدمت سر انجام دی۔

اس آپریشن کی طرف سے پیش کئے گۓ موقعوں کا بہترین طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیۓ، دونوں جبوتی اور یمن کے بحریہ کے افسران نے سی-ٹی-ایف 150 سوار کوسٹ گارڈز کے ساتھ کام کیا۔ افسران جن کو بحریہ کے سوار کے طور پر جانا جاتا ہے، اپنے علوم کے ماہر ہیں اور مقامی تاجروں اور ماہی گیروں جو علاقے میں قانونی طور پر کام کرتے ہیں کی زندگی کے طور طریقوں کو سمجھتے ہیں۔

آپریشن کے دوران ایچ-ایم-اے-ایس ریجینا (کینیڈا) نے یمن کے بحری سواروں کے ساتھ جنوبی بحیرہ احمر میں آپریشن شروع اور ایچ-ایم-اے-ایس اینزاک (آسٹریلیا) جبوتی کی بحریہ اور جہاز پر سوار کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ساتھ خلیج عدن میں تھا۔ اس کے علاوہ خلیج عدن میں آپریشن میں مدد کے لیۓ جبوتی کے گشتی جہاز، پی-این-ایس شمشیر (پاکستان) اور ایف-ایس ڈوپلیکس (فرانس) موجود تھے۔

آپریشن کامیاب ہوا کیونکہ اس میں جس سطح پر باہمی روابط، ہم آہنگی اور تعاون حاصل کیا گیا وہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جبوتی بحریہ کے آپریشنز افسر، لیفٹیننٹ علی باؤہ نے کہا کہ، " ہمارے علاقے سے غیر قانونی بحری سرگرمیوں کو موثر طور پر ختم کرنے کے مقصد کے لیۓ آپریشن وین لاک جبوتی کے اور اتحادی افواج کو غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ یہ تعاون دنیا بھر سے شپنگ کے لئے علاقے کو محفوظ بنا دے گا۔"

کومومڈور ٹیرنٹ نے کہا کہ "آپریشن وین لاک نے سی-ایم-ایف کے ارکان اور ہمارے علاقائی شراکت داروں کے لئے ایک منفرد موقع فراہم کیا، جیسا کہ جبوتی اور یمن میں، تاکہ ایک دوسرے کی زندگی کے طور طریقوں کی سمجھ کو مطبوط تر بنائی جائے، مل کر کام کیا جائے اور علاقے میں اس جائز سمندری ٹریفک جو یہاں سے گزرتی ہے کی حفاظت کی جائے۔"

انھوں نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ "صرف مل کر کام کرنے کے ذریعے ہم مستقبل میں ان لوگوں کو جو غیر قانونی مقاصد کے لئے سمندر کا استعمال کرنا چاہتے ہیں شناخت اور روک سکیں گے اور مجھے اس آپریشن کی قیادت کرنے کے قابل ہونے پر بہت خوشی ہوئی۔"