| امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے حکومت اور فوجی قیادت سے اسٹونیا میں ملاقات کی | Array چھاپیے Array |
|
منجانب CENTCOM Public Affairs تالن، اسٹونیا [ستمبر 27، 2011] امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے اسٹونیا کے دورے پر اسکی حکومت اور فوجی قیادت سے ملاقات کی تاکہ وہ انکے بین الاقوامی مسائل کے متعلق نقطہ نظر سے مزید روشناس ہو سکیں۔ میٹس جو کہ مشرق وسطی کے 20 ممالک جن میں افغانستان اور عراق بھی شامل ہیں کے امریکی فوجی کاروائیوں کے سربراہ ہیں اور وہ اسٹونیا میں وزیر اعظم آندروس آنسیپ، وزیر دفاع مارٹ لار اور دفاع کے سربراہ جنرل لانیوٹز سے ملے۔ جنرل میٹس کا اسٹونیا میں یہ پہلا دورہ تھا اور انھوں نے موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سینئر شہری اور فوجی افسروں سے راونڈ ٹیبل کی گفتگو کے دوران انکے افغانستان میں ثابتِ قدم کردار اور دوسرے موضوعات جیسے کہ انٹرنیٹ کا دفاع اور نیٹو کے مستقبل کے بارے بات چیت کی۔ جنرل میٹس نے کہا کہ میں بہت سالوں سے اسٹونیا کے افسروں کے تجربے سے اثر انداز ہوا ہوں اور اس ملک کا دورہ کرنا میرے لیے ایک عزاز کی بات ہے۔ اسٹونیا یورپ کا ایک سب سے چھوٹا ملک سہی لیکن اس کی متحدہ کی حمایت میں آمادہ تعیناتی کا اثر پوری دنیا میں محسوس کیا گیا ہے۔ ہم اسٹونیا کی انتھک حمایت کا تہہ دل سے شُکر گُزار ہیں۔ |