| مشترکہ افغان اور متحدہ سکیورٹی فورسز نے ایک اہم طالبان کو ہلاک کیا | Array چھاپیے Array |
|
منجانب ISAF Public Affairs Office کابل، افغانستان [ستمبر 22، 2010] – منگل کو وردک کے ضلع سیعد آباد میں افغان اور متحدہ کی سکیورٹی فورسز نے ایک مشترکہ کاروائی کے دوران ایک اہم طالبان رہنما اور اس کے ایک ساتھی کو ایک کاروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ ایک باضابطہ فضائی کاروائی کے دوران قاری طاہر اور اسکے ایک دوست جو کہ سوکھے دریا میں چپھے ہوئے تھے، کو ڈھونڈ کر فضائی حملہ کیا۔ طاہر چُھپ کر اور مطابقت کے ساتھ افغان فورسز پر حملہ کر کے انکے قافلے کی مواصلاتی گاڑیاں ہتھیا لیتا تھا۔ مزید، وہ لوگوں سے زبردستی رقم وصول کرنے کی خاطر لوگوں کو یرغمال بنانے کے کام میں آسانی پیدا کرتا تھا۔ طاہر وادیِ تنگی کا ایک اہم رہنما تھا جو کہ اگست 5، 2011 کو ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔ پچھلے ماہ اس حملے کے دوران سی ایچ 47 کا جہاز گر کر تباہ ہوا جس کی وجہ سے کافی زندگیوں کا ضیاع ہوا۔ وہ اس وادی میں شدت پسند حملہ آوروں کی رہبری کرتا اور سڑک پر دبائے گئے خود ساختہ بموں اور راکٹوں کو فراہم کرتا تھا اور مقامی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا۔ یہ یقین دہی کرنے کے بعد کہ اس علاقے میں کوئی شہری موجود نہیں تھے، فورسز نے فضائیہ سے مدد طلب کی جس کے نتیجے میں طاہر اور اسکا دوست دونوں ہلاک ہوئے۔ اسی برس، سعید آباد میں سکیورٹی فورسز نے 40 سے زیادہ حملے کیے ہیں اور صوبہ وردک میں 35 تشدد پسندوں کو ہلاک اور 80 مجرموں کو حراست میں لے لیا۔ |