| پروفیسر ربانی کی ہلاکت پر ایسافکام کے جنرل ایلن کا کمان کو پیغام | Array چھاپیے Array |
منجانب General John R. Allen شئیرمتعلقہ خبریںجنرل ایلن نے کہا کہ کل شب ایک عظیم الشان افغان رہبر ہمارے ساتھ نہیں رہے۔ اپنی زندگی کے متعدد برسوں کے دوران سابق صدر ربانی نے جنگی اور ہنگامی خیز حالات دیکھے۔ اُن کا تجربہ صرف ماضی کے معاملات تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ انھوں نے بہت سے حالات کو خود تشکیل دی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج جس امن کی دہلیز پر ہم کھڑے ہیں، اسکی بنیاد کی تحریر انھوں نے کی۔ وہ اس بات سے آشنا تھے کہ طالبان کا حکم افغان قوم کے لیے غضب، تشدد اور اندھیروں سے مترادف تھا۔ اسی لیے انھوں نے اپنی زندگی اعلٰی امن کی کونسل کے رہنما کے طور پر وقف کی۔ پچھلے ہفتے ہی میں قندھار میں سابق صدر ربانی اور استنکزئی صاحب کے ساتھ وہاں پر باغیوں کی معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے شوری میں بیٹھے اور انھوں نے امن کے متعلق بہت ولولے اور جوش و جزبے سے بات چیت کی۔ کل، اسی حملے کے دوران، ہمارے دوست اور ثابت قدم ساتھی، استنکزئی صاحب بھی زخمی ہوئے۔ کل رات اسپتال میں ہم نے چند لمحے اکٹھے گُزارے۔ آج صبح ہم پر کل رات ہونے والے حملے کا مقصد صاف عیاں تھا۔ اس حملے کا معنی اور اسکا خلاصہ چند الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شدت پسند بہت ڈرے ہوئے ہیں، وہ اس امن کے طرز عمل سے بے حد خوف زدہ ہیں۔ ہم نے ان شدت پسندوں پر غیر معمولی دباو ڈال کر انھیں لڑائی سے تھکا دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے طالبان رہنما موجود ہیں جو اُدھر سے نکل کر امن کی طرز عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور یہی تاثر سابق صدر ربانی، وزیر استنکزئی اور دوسرے لوگوں کو دیا گیا تھا کہ وہ ایسے عناصر سے ملاقات کر رہے ہیں جو کہ جنگی میدان چھوڑ کر واپس ملک آنا چاہتے اور مسلئے کا حل بن کر امن کی شورش میں شمولیت لینا چاہتے ہیں۔ تشدد پسند یہ جانتے تھے کہ انھیں سب سے بڑا خطرہ امن اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کی کوششوں سے ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے اُن لوگوں کو ہدف بنایا جو کہ افغان قوم کے درمیان سلامتی اور خیریت لانے پر جُٹے ہوئے تھے۔ اس بات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ باغی ایسے بڑے حملوں سے افغان قوم کو خوف و ہراس کا نشانہ بنا کر انہیں اپنے رعب میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم افغان قوم کی ترقی میں چند گنے چُنے باغیوں اور خود کُش حملہ آوروں کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے اور نہ ہی ہم اس قوم کو یرغمال بن کر تشدد کا نشانہ بننے کی اجازت دیں گے۔ یہ حملے انکی کمزوری، ناکہ انکی بہادری کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسے حملے ہمیں امن کے حصول اور باغیوں کی افغان معاشرے میں دوبارہ شمولیت پر پابندی نہیں لگا سکتے اور نہ ہی یہ ہمیں روک سکتے ہیں، بلکہ یہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہم افغان شراکت داروں اور رہنماوں سے اسی اہم کوشش میں قریبی روابط استوار کریں گے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ میں صدر کرزئی سے آج ہی ملاقات کروں۔ ہم اس امن کی جنگ میں نئی جان پھونکیں گے اور امن کی کوششوں کو بڑھا کر اسکی ساخت کو مزید تراشیں گے۔ |