| نیٹو اور ایساف کے سربراہوں نے صدر کرزئی کے ساتھ مل کر اعلٰی امن کونسل کے رہنما کے قتل کی مذمت کی | Array چھاپیے Array |
|
منجانب ISAF Public Affairs Office بین الاقوامی امدادی سکیورٹی فورس کے کمانڈر اور نیٹو کے شہری نمائندے نے صدر کرزئی کے ساتھ مل کر ستمبر 20، 2011 کی دوپہر کو اعلٰی امن کونسل کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کے گھر میں ہونے والے حملے کی مذمت کی، جس کی وجہ سے پروفیسر ربانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور انکے سینئر رکن محمد معصوم استنکزئی زخمی ہوئے۔ پروفیسر ربانی اور وزیر استنکزئی پروفیسر ربانی کے گھر پر تھے جب دو خودکُش حملہ آوروں نے امن مزاکرات کے بہانے پروفیسر ربانی کے گھر میں داخل ہو کر خود کو اُڑا دیا۔ بین الاقوامی سکیورٹی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا کہ آج ایک امن کی نشانی پر حملہ ہوا ہے۔ یہ ایک غضبناک ظاہریت ہے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ طالبان رہنما چاہے ملک کے باہر جو کُچھ بھی کہتے پھریں انکا اصل حصول امن نہیں بلکہ جنگ ہے۔ ان فاسقوں کا ایک ہی ہدف ہے جس میں وہ طالبان کی مہم کے ساتھ چھائے جانے والے ماضی کے اندھیروں میں افغان قوم کو دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ہم پروفیسر ربانی اور وزیر استنکزئی کے اہل و عیال سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اپنے افغان دوستوں کے ساتھ اکٹھے مل کر امن کی طرف قدم بڑھاتے چلے جائیں گے اور افغان قوم کے خلاف وحشیانہ جرائم کے زمہ داروں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے۔ افغانستان میں نیٹو کے سینئر شہری نمائندے سفیر سائمن گاس نے کہا کہ پروفیسر ربانی افغانستان میں امن کی کوششوں کے رہبر و رہنما تھے اور وہ ایک بہت بہادر انسان تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کو افغان قوم کے بہتر مستقبل کے لیے داو پر لگا دیا۔ وزیر استنکزئی بھی ایک بہترین محب وطن افغان تھے جنہوں نے امن کی خاطر انتھک جدوجہد کی اور یہ بات بہت واضح ہے کہ جنہوں نے ترکیب استعمال کر کے یہ حملے کیے ہیں وہ محض ایک ہی چیز سے خوف زدہ تھے اور وہ چیز امن ہے۔ طالبان یہ جانتے ہیں کہ جس نفرت اور جبر پر وہ یقین رکھتے ہیں یہ افغان قوم کی پسند کے ہمیشہ برعکس رہے گا۔ ہم ان مظلوموں کے اہل و عیال اور دوستوں سے جو کہ اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہوئے ان سے تعزیت اور صدمے کا اظہار کرتے ہیں۔ |