| جنرل جان آر ایلن نے ایساف کی کمان سنبھال لی | Array چھاپیے Array |
|
منجانب ISAF Public Affairs Office
کابل، افغانستان (18 جولائی 2011) - امریکی میرین کور جنرل جان آر ایلن نے امریکی فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس (ایساف) کی کمان آج ایک کمان کی منتقلی کی تقریب میں لے لی جس میں اعلیٰ افغان اور نیٹو اہلکار، بشمول جرمن آرمی جنرل وولف لینگ ہیلڈ، کمانڈر، ایلائڈ مشترکہ فورس کے کمانڈ برنسم؛ ایڈمرل مائک مولن، امریکی مشترکہ افواج کے سربراہ اور میرین کور امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل جیمز این میٹس نے شرکت کی۔ جنرل ایلن نے جولائی 2008ء تا جون 2011ء، امریکی مرکزی کمان کے ڈپٹی کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2006ء تا 2008ء انہوں نے بحیثیت ڈپٹی کمانڈنگ جنرل، II میرین مہماتی فورس (MEF) اور بحیثیت کمانڈنگ جنرل، دوسری میرین مہماتی برگیڈ خدمات انجام دیں اور کاروائی عراقی آزادی کے لیے عراق میں تعینات ہوئے اور صوبہ الانبار میں ملٹی نیشنل فورس - ویسٹ (MNF-W) اور II MEF (فارورڈ) کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جنرل ایلن کے دیگر مہارتی کارہائے نمایاں میں یہ اعزاز بھی شامل ہیں کہ امریکی بحری اکیڈمی میں بطور کمانڈمنٹ آف مڈ شپمین خدمات انجام دینے والے پہلے میرین کور آفسر تھے۔ انہوں نے حکمت عملی کے مرکز اور بین الاقوامی سٹڈیز کے لیے بحیثیت میرین کور فیلو خدمات انجام دیں اور وہ پہلے میرین کور افسر تھے جنہیں کاؤنسل کے بین الاقوامی تعلقات کے ٹرم ممبر کی حیثیت سے فائض کیا گیا۔ کمان کی منتقلی سے قبل جنرل ایلن کو ایڈمرل مولن نے فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی۔ سامعین سے افغانستان اور اتحادی فورسز کے بارے میں اپنے تصور کو بیان کرتے ہوئے جنرل ایلن نے کہا کہ ان سب باتوں کے دوران ہم اپنی نگاہیں افق پر رکھیں گے۔ افغانستان کے مستقبل پر، آزاد اور پر امن لوگوں کا ملک جو اپنے آئین کے زیر حکومت، معاشی خوشحالی اور ترقی کے راستے پر چل رہے ہوں، ایک محفوظ اور مستحکم ماحول میں جو اس شدت پسندی اور دہشت گردی سے پاک ہو جس نے اس خوبصورت ملک کو اور اس کے لوگوں کو ایک پشت سے بھی زیادہ عرصے سے مصیبت زدہ کیا ہوا ہے۔ آخر میں یہی کہ اکٹھے مل کر ہم غالب آئیں گے۔ جنرل پیٹریاس نے جولائی 2010ء میں ایساف کی کمان سنبھالی تھی۔ وہ اس ماہ گرما میں کچھ عرصے بعد فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے اور مرکزی خفیہ ایجنسی CIA کے ڈائریکٹر بن جائیں گے۔ |