امریکی بحریہ نے بحیرہ عرب میں قذاقوں کا حملہ پسپا کر دیا Array چھاپیے Array
منجانب Combined Maritime Forces
110325_Strike

ملاحوں کا فلپائنی تجارتی جہاز فیلکن ٹریڈر II کی جانب سے قذاقوں کے حملے کی اطلاع ملنے کے بعد اس پر محوِ پرواز گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس لیٹی گلف CG-55، بحیثیت ایس ایچ۔60F ہیلی کاپٹر، ہیلی کاپٹر اینٹی سب میرین سکوارڈن ایچ ایس 11، جو یو ایس ایس انٹرپرائز CVN 65 اور ایس ایچ۔60B ہیلی کاپٹر، اینٹی سب میرین سکوارڈن لائٹ HSL 48 جو لیٹی گلف میں تعینات کیا گیا ہے، پر نصب M-60 مشین گن پر بیٹھے ہیں۔  لیٹی گلف اور انٹرپرائز کو یو ایس 5th فلیٹ ایریا میں تعینات کیا گیا۔ امریکی بحریہ فوٹو منجانب مواصلاتی خصوصی تیسری  کلاس کے رابرٹ گیورا

بحیرہ عرب 25 مارچ 2011 - امریکی بحریہ نے 24 مارچ کو فلپائنی تجارتی جہاز ایم/وی فیلکن ٹریڈر II پر قذاقوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔

فیلکن ٹریڈر جہاز پر عملے کے 20 ارکان بالکل محفوظ ہیں اور اب جہاز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10:30 کے قریب کاروائی دیرپا آزادی کے لیے تعینات فضائی کرافٹ کیرئیر یو ایس ایس انٹرپرائز سی وی این 65 اور گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس لیٹی گلف سی جی 55 نے ایم/وی فیلکن ٹریڈر II کی جانب سے مدد کی کال کا جواب دیا۔

فیلکن ٹریڈر II کے عملے کی جانب سے دوسری کال میں انہوں نے بتایا کہ قذاق ان کے جہاز پر چڑھ چکے ہیں اور یہ کہ عملے کے تمام 20 افراد محفوظ ہیں اور انہوں نے خود کو ایک محفوظ کمرے میں بند کر لیا ہے۔ یہ خفیہ کمرہ کھانے پینے کے سامان، مواصلاتی آلات اور جہاز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیتوں سے لیس اور ہنگامی حالات کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔

انٹرہرائز سے اینٹی سب میرین سکوارڈن HS 11 کے 'ڈریگن سلیئر' پر تعینات ایس ایچ۔60F اور خلیج لیٹی سے ہیلی کاپٹر اینٹی سب میرین سکوارڈن لائٹ ایچ ایس ایل کے 'وائپر' پر تعینات ایس ایچ-60B ہیلی کاپٹروں کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیا گیا۔

جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی ایچ ایس۔11 ہیلی کاپٹر نے قذاقوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ اس کے نتیجے میں دو قذاقوں نے ایم/وی فیلکن ٹریڈر II سے نیچے چھلانگ دی اور ْقذاقوں کی کشتی فرار ہو گئی جس کا پیچھا ایچ ایس۔11 نے کیا۔

قذاقوں کی کشی نے اپنے 'بڑے جہاز' کی جانب بھاگتے ہوئے چھوٹے ہتھیاروں سے ہیلی کاپٹر پر فائر کیا۔ ہیلی کاپٹر اور اس کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور فوراً ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہو گیا۔

ہیلی کاپٹر کے پائلٹ لیفٹیننٹ یوشع اے اوورن کا کہنا تھا کہ ہم ان کی AK 47 سے گولیاں نکلتی دیکھ سکتے تھے لیکن ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ قذاقوں کے خلاف کارروائی کی تربیت ہمارے کام آئی اور ہم سب نہایت مہارت سے ان سے نپٹے۔

اس بات کی تصدیق نہ پانے پر کہ تمام قذاق جہاز سے نکل چکے ہیں لیٹی گلف پر فلپائنی زبان ٹیگالوگ پر عبور رکھنے والا ایک اہلکار فیلکن ٹریڈر کے محفوظ کمرے میں محصور عملے سے رابطے میں رہا۔ اگلی صبح مشکوک سرگرمیاں نہ پا کر لیٹی گلف نے جہاز کو چیک کیا اور اسے قذاقوں سے پاک پا کر جہاز کے عملے کو محفوط کمرے سے باہر آنے کو کہا۔

لیٹی گلف پر کمانڈنگ افسر کیپٹن یوجین بلیک کا کہنا تھا کہ اس سے انٹرپرائز سٹرائیک گروپ کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم نہ صرف کامیابی سے انسدادِ قذاقی کی کارروائیاں کرتے ہیں بلکہ کاروائی دیرپا آزادی میں بھی حصہ لیتے ہیں اور علاقے کے فضائی دفاع کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں۔

امریکی فورسز نے قذاقوں کے مشکوک بڑے جہاز کی نگرانی جاری رکھی۔ قذاق مغویوں کو بڑے جہاز پر رکھتے ہیں تا کہ فورسز ان سے براہ راست مقابلے پر نہ اتریں۔

انٹرپرائز سٹرائیک گروپ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل ٹیری کرافٹ کہتے ہیں کہ اس واقعے سے کیرئیر سٹرائیک گروپ میں ٹیم ورک کی عکاسی ہوتی ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم حملے کے وقت وہاں موجود تھے اور سب لوگوں نے بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

بحیرہ عرب اور خلیج عدن میں قذاقی بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور پورے علاقے کے جہاز اس کے خطرے سے دوچار ہیں۔ علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو بہترین اور محفوظ ترین طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

امریکی پانچویں فلیٹ ایریا میں تعیناتی کے سبب لیٹی گلف اور انٹرپرائز کاروائی دیرپا آزادی اور علاقائی سمندری سکیورٹی کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔