مشترکہ سمندری فورسز کی جانب سے خلیج اومان میں طبی مدد Array چھاپیے Array
منجانب , Combined Maritime Forces

خلیج اومان 7 فروری 2011 - مشترکہ سمندری سکیورٹی فورسز کے جہاز ایچ ایم ایس آئرن ڈیوک، جو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے نے 4 فروری کو خلیج اومان میں کورین ماہی گیروں کی کشتی، ایم وی گولڈن لیک، میں ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔

آئرن ڈیوک، ٹائپ 23 فریگیٹ، خلیج اومان میں مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے حصے کے طور سمندری سکیورٹی کاروائیاں انجام دے رہی تھی جب اسے گولڈن لیک کشتی پر ہنگامی حالات کی اطلاع ملی۔ کشتی پر ایک حادثے کے بعد اس کشتی کے عملے کے ایک فرد کو چہرے پر چوٹ آئی جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔ اس کے ساتھیوں کو مدد درکار تھی اور اس وقت آئرن ڈیوک گولڈن لیک کے قریب ترین، 170 میل دور، سی ایم ایف یونٹ تھا۔

جہاز کی ٹیم نے گولڈن لیک کے عملے سے رابطہ قائم کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ کشتی میں سوار افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے، جس کے بعد آئرن ڈیوک نے اپنی مرسی ڈیش کو شروع کیا۔

شام ہونے تک آئرن ڈیوک کے سرجن لیفٹیننٹ مائیک رابنسن کو ریجڈ ہل انفلیٹ ایلب بوٹ کے ذریعے اور رائل میرین ڈیٹیچمنٹ کی نگرانی میں گولڈن لیک پر روانہ کیا گیا جبکہ آئرن ڈیوک کا ایک ہیلی کاپٹر مدد کے لیے فضا میں اڑ رہا تھا۔ کشتی پر پہنچتے ہی سرجن لیفٹیننٹ رابنسن زخمی کو اس قابل کرنے میں کامیاب ہو گئے تاکہ اسے مزید علاج کے لیے قریب ترین طبی ادارے تک لے جایا جا سکے۔

آئرن ڈیوک کے کمانی افسر کمانڈر نک کک پریسٹ کہتے ہیں کہ مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنا سمندر میں سفر کرنے والوں کی فطرت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آئرن ڈیوک اس موقعے پر مصیبت زدوں کی مدد کرنے میں کامیاب رہا اور مجھے امید ہے کہ زخمی ماہی گیر مکمل طور پر صحت یاب ہو جائے گا۔

جمہوریہ کوریا کی بحری ٹاسک فورس کے کمانڈر، جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں، کیپٹن چائو ینگ جُو نے ہم وطن کی مدد کرنے پر آئرن ڈیوک کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہماری جو بھی مدد کی، اس کے لیے میں آپ کا مشکور ہوں۔ اگر آئرن ڈیوک سے ہنگامی مدد نہ دی جاتی تو صورتحال سنگین ہو سکتی تھی۔

سی ٹی ایف 150 سی ایم ایف کی جانے والی آپریٹ کی جانے والی تین سمندری ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے۔ اس کا مشن دہشتگردی کی کارروائی اور متعلقہ غیر قانونی سرگرمیوں، جو دہشتگرد اپنی سرگرمیاں کو چھپانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کے خلاف سمندری سکیورٹی کو تقویب دینا ہے۔

سی ایم ایف بحرین میں واقع بحری پارٹنر شپ ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد 25 ہے اور یہ ممالک کشتیوں، جہازوں اور عملے کی صورت میں مشن کی مدد کرتے ہیں۔

سی ایم ایف مشرق وسطیٰ میں واقع 2.5 کروڑ مربع کلومیٹر کے بین الاقوامی پانیوں کی سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہے اور دہشتگردی کو شکست، قذاقی کے تدارک، علاقائی تعاون کے فروغ اور محفوظ سمندری سفر کا عہد کیے ہوئے ہے۔