| آسٹریلیوی گشتی جہازوں نے بحیرہ عرب میں قذاقوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے | Array چھاپیے Array |
|
منجانب , Australian Dept. of Defence بحیرہ عرب - 3 فروری 2011 - ایک آسٹریلوی اے پی-3سی اورین فضائیہ کرافٹ نے 28 جنوری کو بحیرہ عرب میں قذاقوں کے چنگل میں پھنسے ایک تجارتی جہاز کو آزاد کرا لیا۔ اورین مشترکہ سمندری فورسز سی ایم ایف کے لیے معمول کے گشت پر تھا جب اسے ایم وی نیو یارک سٹار پر قذاقوں کے حملے کو چیک کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کماندر مشترکہ ٹاسک فورس 633 کے میجر جنرل اینگس کیمبل بتاتے ہیں کہ اورین کا عملہ بہت بلندی پر رہتا ہے اور بالعموم اسے مشرقِ وسطیٰ کی عمومی سمندری سکیورٹی کی کوششوں میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس موقعے پر جیسے ہی جہاز نیچے آیا تو قذاقوں کو پتہ چل گیا کہ انہیں کوئی دیکھ رہا ہے۔ نیٹو کے ایک جنگی جہاز کو سی ایم ایف نے ایم وی نیویارک سٹار کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ تجارتی جہاز کو محفوظ کرنے کے بعد ایم وی نیو یارک سٹار کا عملہ جہاز میں بنے قذاقوں سے بچنے والی جگہ سے باہر نکل آیا۔ اے پی- 3سی سے لی گئی تصاویر سے پتہ چلا کہ قذاقوں نے ایم وی نیویارک سٹار پر راکٹ فائر کیے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے ہی ایک واقعے سے کچھ روز بعد پیش آیا جب بحیرہ عرب میں قذاقوں نے ایم وی سی پی او چائنا پر قبضہ کر لیا تھا اور ایچ ایم اے ایس نے اسے آزاد کرایا۔ میجر جنرل کیمبل کا کہنا ہے کہ ایچ ایم اے ایس ملبورن کی کوششیں، جو ذمہ داری اب ایچ ایم اے ایس سٹورٹ کو سونپ دی گئی ہیں اور اے پی-3سی مشرق وسطیٰ میں سمندری سکیورٹی میں آسٹریلیا کوششوں کی غماز ہیں یہ سب ان کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کی مدت کے دوران اکا دکا واقعات نہیں ہیں بلکہ روز مرہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ |